خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مشن سَکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت تمام مستحقین کے لیے اضافی غذائیت کی فراہمی کا انتظام

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 2:09PM by PIB Delhi

تجویز کردہ غذائی الاؤنس (ریکیمنڈڈ ڈائٹری الاؤنس-آر ڈی اے) اور اوسط روزانہ خوراک (اوریج ڈیلی انٹیک -اے ڈی آئی) کے درمیان موجود فرق کو کم کرنے کے لیے مشن سَکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت تمام مستحقین کو اضافی غذائیت فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس میں بچے (6 ماہ سے 6 سال تک)، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں اور نوعمر لڑکیاں (14 سے 18 سال تک) شامل ہیں۔ یہ اضافی غذائیت گھر لے جانے والے راشن (ٹی ایچ آر)، صبح کے ناشتے اور گرم پکا ہوا کھانا کی شکل میں فراہم کی جاتی ہے۔6 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں کی غذائیت کو یقینی بنانے کے لیے آنگن واڑی مراکز پر چہرے کی شناخت کے نظام ( فیشیل ریکگنیشن سسٹم -ایف آر ایس) کے ذریعے بچوں کی ماؤں یا والدین کو گھر لے جانے والا راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ ایک عام بچے کو 6 سے 12 ماہ کی عمر میں 200 کیلوریز اور 8 سے 10 گرام پروٹین، 1 سے 3 سال کی عمر میں 400 کیلوریز اور 15 سے 20 گرام پروٹین، جبکہ 3 سے 6 سال کی عمر میں 400 کیلوریز اور 15 سے 20 گرام پروٹین کے ساتھ تجویز کردہ 7 ضروری غذائی اجزا فراہم کیے جاتے ہیں۔

گھر لے جانے والا راشن (ٹی ایچ آر) مستحقین کو قومی غذائی تحفظ قانون، 2013 کے نظرثانی شدہ شیڈولII- میں جنوری 2023 میں شامل غذائی معیارات کے مطابق فراہم کیا جاتا ہے۔ شدید غذائی قلت (ایس اے ایم) کا شکار 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو بھی گھر لے جانے والے راشن (ٹی ایچ آر) کی شکل میں اضافی غذائیت فراہم کی جاتی ہے۔

پرانے غذائی معیارات زیادہ تر کیلوریز پر مبنی تھے، تاہم نظرثانی شدہ معیارات مقدار اور معیار دونوں کے لحاظ سے زیادہ جامع اور متوازن ہیں۔ یہ غذائی تنوع کے اصولوں پر مبنی ہیں، جن میں معیاری پروٹین، صحت مند چکنائیاں اور غذائی اجزا  جیسے کیلشیم، زنک، آئرن، غذائی فولیٹ، وٹامن اے، وٹامن بی-6 اور وٹامن بی-12شامل ہیں ۔وزارت نے حال ہی میں اضافی غذائیت سے متعلق جامع رہنما خطوط جاری کیے ہیں، جن میں اضافی غذائیت کے معیار، تنوع اور قبولیت کو بہتر بنانے، مقررہ غذائی معیارات اور معیار کے اصولوں پر عمل درآمد پر زور دیا گیا ہے۔

اضافی غذائیت کی قبولیت اور استعمال کو بہتر بنانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مقامی غذائی عادات، ثقافتی ترجیحات اور مقامی اجزا کی دستیابی کے مطابق مینو اور ترکیبیں تیار کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اضافی غذائیت میں مقامی طور پر دستیاب اناج، موٹے اناج، دالیں، سبزیاں، گری دار میوے اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں شامل کی جاتی ہیں، جس سے غذائی تنوع کو فروغ ملتا ہے اور مستحقین میں اس کی قبولیت بھی بڑھتی ہے۔

یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

********

ش ح۔  م م۔ ش ب ن

U-NO-1035


(रिलीज़ आईडी: 2292576) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी