زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
کابینہ نے 3.15 لاکھ کروڑ روپے کے مالی اخراجات کے ساتھ پی ایم-کسان اسکیم کو 27-2026سے 31-2030 تک جاری رکھنے کی منظوری دی
प्रविष्टि तिथि:
31 JUL 2026 4:24PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے پردھان منتری کسان سمان ندھی (پی ایم-کسان) اسکیم کو 27-2026 سے 31-2030 تک جاری رکھنے کی منظوری دی ہے ۔ اس مدت کے دوران اسکیم کے لیے کل 3.15 لاکھ کروڑ روپے کے مالی اخراجات کو منظوری دی گئی ہے ۔
یہ منظوری حکومت کے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ کسانوں کی خوشحالی ملک کی خوشحالی کی بنیاد بنتی ہے ۔ پی ایم-کسان اسکیم کے ذریعے ، براہ راست فائدے کی منتقلی (ڈی بی ٹی) نظام کے ذریعے اہل کسان خاندانوں کو بروقت اور شفاف آمدنی کی مدد فراہم کی جا رہی ہے ، جس سے کسان زرعی سرمایہ کاری میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اپنی روزی روٹی کو مستحکم کر سکتے ہیں ۔
پی ایم-کسان: شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی کسانوں کی فلاح و بہبود کا ایک کامیاب ماڈل
پی ایم - کسان اسکیم فروری 2019 میں شروع کی گئی تھی ۔ اس اسکیم کے تحت اہل کسان خاندانوں کو ہر سال 6,000 روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے ، جو براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں تین مساوی قسطوں میں منتقل کی جاتی ہے ۔ آدھار کی تصدیق ، ڈیجیٹل تصدیق اور ایک مستحکم ڈی بی ٹی نظام کے ذریعے اس اسکیم نے شفافیت ، کارکردگی اور جواب دہی کی ایک موثر مثال قائم کی ہے ۔
پی ایم-کسان اسکیم کی اہم کامیابیاں:
- اس اسکیم کے تحت 23 قسطوں کے ذریعے 4.47 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ براہ راست کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے ہیں ۔
- 23 ویں قسط کے تحت ، 9.49 کروڑ سے زیادہ کسانوں کو فائدہ پہنچا ، 18,984 کروڑ روپے سے زیادہ جاری کیے گئے ۔
- کووڈ-19 وبا کے دوران کسانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لئے 1.71 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم تقسیم کی گئی ۔
- خواتین کسانوں کو پی ایم-کسان کے تحت 1.06 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ موصول ہوئے ہیں ، اور ہر چار مستفیدین میں سے تقریبا ایک خاتون کسان ہے ۔
زرعی سرمایہ کاری اور کسانوں کی آمدنی کو مستحکم بنانے میں نمایاں رول:
پی ایم-کسان کے تحت فراہم کردہ مالی مدد نے کسانوں کو بیجوں ، کھادوں ، آبپاشی ، زرعی مشینری اور دیگر زرعی ضروریات میں بروقت سرمایہ کاری کرنے کے قابل بنایا ہے ۔ اس سے کسانوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے ، غیر رسمی قرض پر ان کا انحصار کم ہوا ہے اور دیہی گھرانوں کے مالی استحکام کو تقویت ملی ہے ۔
آزادانہ تشخیص کے ذریعے مثبت اثرات کی تصدیق:
پی ایم - کسان اسکیم کے اثرات کا اندازہ مختلف آزاد اداروں نے کیا ہے ۔ نیتی آیوگ کے ترقیاتی نگرانی اور تشخیص سے متعلق دفتر (ڈی ایم ای او) کے ذریعے کی گئی تشخیص کے مطابق:
- 92 فیصد سے زیادہ مستفیدین نے بتایا کہ انہوں نے امدادی رقم کو زرعی سرگرمیوں اور زرعی سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا ۔
- تقریبا 85 فیصد مستفیدین نے زرعی آمدنی میں بہتری اور غیر رسمی قرض پر انحصار میں کمی کی تصدیق کی ۔
سال 21-2020 سے26-2025 کی مدت کے دوران غذائی اجناس کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اس مدت کے دوران ، کاشت کے تحت رقبے میں تقریبا 9.65 فیصد ، پیداواریت میں تقریبا 10.53 فیصد اور غذائی اجناس کی کل پیداوار میں تقریبا 21.18 فیصد کا اضافہ ہوا ، جو پی ایم - کسان کے تحت کسانوں کو فراہم کی جانے والی جامع مدد اور زرعی شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے ۔
ڈیجیٹل انڈیا کے ذریعے کسانوں کو براہ راست فوائد
پی ایم-کسان اسکیم ڈیجیٹل انڈیا کے موثر استعمال کی ایک بہترین مثال ہے ۔ آدھار پر مبنی تصدیق ، ڈیجیٹل مستفید کی تصدیق اور ڈی بی ٹی نظام کے ذریعے مالی امداد براہ راست کسانوں کو منتقل کی جا رہی ہے ۔ یہ اسکیم صرف مالی امداد فراہم کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کسانوں کے اعتماد ، خود انحصاری اور زراعت میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو بھی مزید بہتر بنا رہی ہے ۔
آتم نربھر بھارت اور خوشحال کسانوں کی جانب ایک اہم قدم:
پی ایم-کسان اسکیم کی مسلسل توسیع سے کسانوں کی زراعت میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا ، پیداواری صلاحیت میں بہتری آئے گی ، زرعی خطرات کو کم کرنے اور دیہی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی ۔
پی ایم- کسان اسکیم حکومت کی کسانوں پر مرکوز پالیسیوں کا ایک اہم ستون ہے ۔ اس اسکیم کا مقصد ملک کے کروڑوں خوراک پیدا کرنے والوں کو بااختیار بنانا ہے ، اس طرح وکست بھارت کی طرف ہندوستان کے سفر میں ان کے رول کو مستحکم کرنا ہے ۔
........................................................................................................
) ش ح –ش ب-ق ر)
U.No. 1046
(रिलीज़ आईडी: 2292511)
आगंतुक पटल : 9