عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: یو پی ایس سی اور ایس ایس سی میں اصلاحات

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 5:15PM by PIB Delhi

وزیراعظم کے دفتر، عملے، عوامی شکایات و پنشن،ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب  بتایاکہ عملے اور تربیت (ڈی او پی ٹی) کے محکمہ نے بھرتی کے عمل کو مزید مؤثر، شفاف، بروقت اور قابلِ اعتماد بنانے کے ساتھ ساتھ امتحانات کی ساکھ اور دیانت داری کو مضبوط کرنے کی خاطر متعدد اصلاحات نافذ کی ہیں۔ یکم جنوری 2016 سے گروپ ‘سی’ اور گروپ ‘بی’ (غیر گزٹیڈ) عہدوں پر تقرری کے لیے انٹرویو کے مرحلے کو ختم کر دیا گیا ہے، تاکہ بھرتی کے عمل میں تیزی آئے اور امتحانات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، خود تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر عارضی تقرری نامے جاری کیے جا سکتے ہیں، جبکہ کردار کے سرٹیفکیٹ اور ذات کے سرٹیفکیٹ کی جانچ کے لیے چھ ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ تمام وزارتوں، محکموں اور سرکاری اداروں نے خالی آسامیوں پر تقرری کا عمل مقررہ مدت کے اندر مشن موڈ میں انجام دیا ہے اور اکتوبر 2022 سے حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے قومی روزگار میلوں کے ذریعے کئی لاکھ تقرری نامے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

مذکورہ محکمے کے انتظامی دائرۂ اختیار میں دو بھرتی کرنے والے ادارے کام کرتے ہیں، یعنی اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) اور یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)۔ اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی) نے اپنے امتحانات کی شفافیت، دیانت داری، کارکردگی اور تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انتظامی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی متعدد جامع اصلاحات نافذ کی ہیں۔ بھرتی کا دورانیہ، جو پہلے 15 سے 18 ماہ ہوتا تھا، اب کم ہو کر اوسطاً 6 سے 8 ماہ رہ گیا ہے۔ امتحانی مراحل کی تعداد کم کی گئی ہے اور کمپیوٹر پر مبنی امتحانات کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ ایس ایس سی نے دستاویزات کی محفوظ، تیز رفتار اور چھیڑ چھاڑ سے پاک ڈیجیٹل ترسیل کے لیے محفوظ ای-ڈوزیئر نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ اس کے علاوہ، خالی آسامیوں کا زیادہ سے زیادہ مؤثر استعمال یقینی بنانے کی خاطر میرٹ کی بنیاد پر عہدوں کی اپ گریڈیشن کے لیے سلائیڈنگ میکانزم فریم ورک بھی نافذ کیا گیا ہے۔ شفافیت بڑھانے کے لیے ایس ایس سی نے عارضی اور حتمی جوابی کنجی جاری کرنے، امیدواروں سے اعتراضات طلب کرنے، اعتراض درج کرانے کی فیس میں کمی کرنے اور امیدواروں کے نمبروں اور نتائج آن لائن جاری کرنے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔

یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے بھی متعدد اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کے نتیجے میں بھرتی کا دورانیہ 15 ماہ سے زیادہ سے کم ہو کر تقریباً 13 ماہ رہ گیا ہے۔ ان اصلاحات میں درخواست جمع کرانے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے ماڈیولر آن لائن درخواست پورٹل، سول سروسز امتحان میں امیدوار کی کوششوں کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تصدیق، جعل سازی اور کسی دوسرے شخص کی جگہ امتحان دینے کی روک تھام کے لیے چہرے کی تصدیق (فیس آتھنٹیکیشن)، اور عارضی جوابی کنجی جاری کرنے کے ساتھ اعتراضات جمع کرانے کا باقاعدہ نظام شامل ہے۔ یو پی ایس سی نے امیدواروں کی رہنمائی کے لیے ایک خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیا ہے، امتحانی مراکز کی تعداد بڑھا کر مزید مقامات تک توسیع دی ہے اور بینائی یا جسمانی معذوری سمیت تمام معذور افراد (پی ڈبلیو ڈی) کے لیے ان کی پسند کے امتحانی مرکز کی یقینی فراہمی کا انتظام بھی کیا ہے۔

 

************

 ش ح ۔ش م۔ش ت

UN-NO-968


(रिलीज़ आईडी: 2291978) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu