ادویات سازی کا محکمہ
ہندوستان کے طبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری، اختراع اور مینوفیکچرنگ کو تیز رفتار بنانے کے لیے حکومت اور صنعت کا اشتراک
انویسٹ انڈیا اور ایشیا پیسیفک میڈیکل ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن (اے پیک میڈ) کے درمیان ہندوستان کے طبی ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت نامے پر دستخط
प्रविष्टि तिथि:
30 JUL 2026 3:23PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی قومی سرمایہ کاری کے فروغ اور سہولت کاری کی ایجنسی، انویسٹ انڈیا نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ایشیا پیسیفک میڈیکل ٹیکنالوجی ایسوسی ایشن (اے پیک میڈ) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ اس مفاہمت نامے کا مقصد حکومت اور عالمی میڈیکل ٹیکنالوجی صنعت کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہے تاکہ ہندوستان کے میڈیکل ٹیکنالوجی شعبے میں سرمایہ کاری، اختراع اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
مفاہمت نامے کا تبادلہ کیمیکلز و فرٹیلائزرز کی وزارت کے محکمہ دواسازی کے سکریٹری جناب منوج جوشی اور نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر ایم سرینواس کی موجودگی میں کیا گیا۔

اس شراکت داری کے تحت سرمایہ کاری میں سہولت، ضابطہ جاتی اور پالیسی تعاون، تحقیق و اختراع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈیجیٹل صحت جیسے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے اے پیک میڈ کی رکن کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے گا اور ہندوستان میں سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کو آسان بنایا جائے گا۔ اس تعاون سے مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانے، مقامی ویلیو ایڈیشن کی حوصلہ افزائی، کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانے اور عالمی میڈ ٹیک ویلیو چینز کے ساتھ ہندوستان کے انضمام کو مزید مستحکم کرنے کی توقع ہے۔
مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد ’وکست بھارت 2047 کے لیے میڈ ٹیک بطور محرک‘ کے موضوع پر ایک چیف ایگزیکٹو افسران کی گول میز کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت جناب منوج جوشی نے کی۔ اس کانفرنس میں حکومت کے اعلیٰ حکام، صنعت کے رہنما اور اہم متعلقہ فریق شریک ہوئے، جنہوں نے ہندوستان کے میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر اس کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے اہم ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت میں پالیسی، ضابطہ جاتی اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم امور پر توجہ دی گئی، جن میں مقامی خریداری، سپلائی چین کی مضبوطی، تحقیق و ترقی، عالمی صلاحیتی مراکز (جی سی سی) کا کردار، افرادی قوت کی مہارت اور تربیت، اور عالمی میڈ ٹیک منڈیوں میں ہندوستان کی شمولیت کو فروغ دینے جیسے امور شامل تھے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب منوج جوشی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہندوستان کے طبی آلات کے شعبے نے نمایاں ترقی کی ہے، جس کی بنیادی وجوہات صحت کی خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب، صحت کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم اور دیگر معاون پالیسی اقدامات ہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے ہمیں طبی آلات کے شعبے کو ایک زیادہ مضبوط اور مؤثر ضابطہ جاتی نظام میں تبدیل کرنا ہوگا، جو معیار، مریضوں کے تحفظ اور عالمی مسابقت کو فروغ دے۔
میڈیکل ٹیکنالوجی شعبے کے مستقبل کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے جناب منوج جوشی نے کہا، "ہمارا وژن یہ ہے کہ خاص طور پر اعلیٰ درجے کے طبی آلات اور طبی امیجنگ کے سازوسامان میں مقامی ویلیو ایڈیشن کو مضبوط بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے پرزہ جات کی مضبوط مینوفیکچرنگ کا نظام تیار کیا جائے گا اور مقامی ویلیو ایڈیشن کو موجودہ تقریباً 25 فیصد سے بڑھا کر 40 سے 45 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔ حکومت اس شعبے کی معاونت کے لیے سازگار پالیسی اقدامات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور پی ایل آئی اسکیم کے اگلے مرحلے پر بھی سرگرمی سے غور کر رہی ہے۔ ہم ری ایجنٹس اور تشخیصی آلات کی مقامی مینوفیکچرنگ میں مزید سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں، جبکہ برآمدات کی مضبوط صلاحیت رکھنے والی عالمی معیار کی پرزہ سازی کی صنعت کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں۔ حکومت اور صنعت کے درمیان مسلسل تعاون کے ذریعے ہمارا مقصد ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی میڈیکل ٹیکنالوجی نظام تشکیل دینا ہے، جو وکست بھارت 2047 کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں معاون ہو۔"
نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر ایم سرینواس نے باہمی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں صحت کے شعبے کے مستقبل کے لیے ایک مضبوط میڈیکل ٹیکنالوجی نظام کی تشکیل نہایت اہم ہے۔ طبی مہارت، ٹیکنالوجی، تحقیق اور ڈیجیٹل اختراع کا امتزاج صحت کی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور معیاری علاج تک رسائی کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تحقیق و ترقی کو فروغ دینے، نئی ٹیکنالوجیز کو اپنانے اور ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور عالمی سطح پر مسابقتی میڈیکل ٹیکنالوجی نظام کی تشکیل کے لیے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں اور اختراع کاروں کے درمیان مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔

*****
ش ح۔ ع و۔ ص ج
U.No. 957
(रिलीज़ आईडी: 2291865)
आगंतुक पटल : 14