الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مضبوط سائبر دفاع، جدید ٹیکنالوجی سے نگرانی اور تحفظ میں اضافے کے ذریعے اے آئی سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کا اقدام


انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر خطرات کے موضوع پر 10 سائبر سکیورٹی مشقیں، 345 سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے 1,470 افراد کی شرکت

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 2:55PM by PIB Delhi

حکومت مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات سمیت بدلتے ہوئے سائبر سکیورٹی خطرات اور چیلنجز سے آگاہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز خودکار نگرانی، کمزوریوں کا تیزی سے فائدہ اٹھانے، خفیہ معلومات تک غیر مجاز رسائی اور نہایت مؤثر کثیر لسانی سماجی انجینئرنگ مہمات کے ذریعے مجموعی سائبر خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ یہ صلاحیتیں حملہ آوروں کے اخراجات کو کم کرتی ہیں، حملوں کو زیادہ مؤثر بناتی ہیں اور فشنگ و شناخت کی نقالی پر مبنی حملوں کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کے ساتھ ساتھ ان کی نشاندہی کو بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔

حکومت ایک کھلے، محفوظ، قابل اعتماد اور جوابدہ سائبر ماحول کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات سے لاحق خدشات کو دور کرنے، سائبر تحفظ کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور واقعات سے نمٹنے کی استعداد بہتر بنانے کے لیے متعدد قانونی، تکنیکی اور انتظامی پالیسی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں، جن میں دیگر کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:

  1. انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی-ان) کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر مبنی صورتحال سے آگاہی کے سسٹم نصب کیے گئے ہیں، جو نقصان دہ ڈومینز اور دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ ضروری تدارکی اقدامات کیے جا سکیں۔
  2. سی ای آر ٹی-ان نے عوامی رسائی والے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے سینڈ باکس ماحول میں مصنوعی ذہانت پر مبنی کمزوریوں کے جائزے کی سہولت فراہم کی ہے، تاکہ کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کا تدارک کیا جا سکے۔
  3. سی ای آر ٹی-ان ایک خودکار سائبر خطرات سے متعلق معلومات کے تبادلے کے پلیٹ فارم کو چلا رہا ہے، جس کے ذریعے مختلف شعبوں کی تنظیموں کے ساتھ مخصوص نوعیت کی الرٹس کا تبادلہ کیا جاتا ہے تاکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔
  4. سی ای آر ٹی-ان نے جون سے جولائی 2026 کے دوران "جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی سائبر خطرات کے خلاف مضبوطی پیدا کرنا" کے موضوع پر 10 مخصوص سائبر سکیورٹی مشقیں اور تربیتی مشقیں منعقد کیں۔ ان مشقوں میں بجلی، ٹیلی کام، بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ (بی ایف ایس آئی)، نقل و حمل، تعلیم، صحت اور خلائی شعبوں سمیت مختلف شعبوں کی 345 سرکاری اور نجی تنظیموں کے 1,470 شرکاء نے حصہ لیا۔
  5. مصنوعی ذہانت میں سرٹیفائیڈ سکیورٹی پروفیشنل ( سی ایس پی اے آئی) پروگرام سی ای آر ٹی-ان اور ایس آئی ایس اے کی جانب سے ستمبر 2024 میں شروع کیا گیا۔ امریکن نیشنل اسٹینڈرڈز انسٹی ٹیوٹ (اے این ایس آئی) نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ (اے این اے بی) سے منظور شدہ  اس پروگرام کا مقصد سائبر سکیورٹی ماہرین کو مصنوعی ذہانت کے نظام کو محفوظ بنانے، مصنوعی ذہانت سے متعلق خطرات سے پیشگی  طور پر نمٹنے اور کاروباری ماحول میں قابل اعتماد مصنوعی ذہانت کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ضروری مہارتیں فراہم کرناہے۔
  6. سی ای آر ٹی-ان صنعت کے شراکت داروں کے تعاون سے سرکاری، عوامی اور نجی شعبوں میں سائبر سکیورٹی افرادی قوت کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لیے سائبر سکیورٹی تربیتی پروگرام منعقد کرتا ہے۔
  7. سی ای آر ٹی-ان مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق مشترکہ اعلیٰ سطحی خطرات کے تجزیے کی رپورٹ "سائبر خطرات پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے مصنوعی ذہانت پر اعتماد قائم کرنا" پر دستخط کرنے والے بین الاقوامی شراکت داروں میں شامل ہے۔ یہ رپورٹ فرانس کی نیشنل سائبر سکیورٹی ایجنسی (اے این ایس ایس آئی) کی جانب سے فروری 2025 میں شائع کی گئی تھی۔
  8. ہدایات اور رہنمائی:
  1. سی ای آر ٹی-ان کمپیوٹروں، نیٹ ورکس اور ڈیٹا کے تحفظ کے لیے تازہ ترین سائبر خطرات، کمزوریوں اور ان سے نمٹنے کے اقدامات سے متعلق الرٹ اور ہدایات مسلسل جاری کرتا ہے۔
  2. سی ای آر ٹی-ان نے جون 2026 میں رہنما ہدایات جاری کیں، جن کے تحت تمام اصل سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں (او ای ایم) اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے لیے اے آئی کی مدد سے کمزوریوں کے تحفظ کے نظام نافذ کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ ان ہدایات میں اے آئی کی مدد سے سکیورٹی جانچ، مسلسل نگرانی، پیچ مینجمنٹ اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کو شامل کیا گیا ہے تاکہ اے آئی سے پیدا ہونے والے سائبر خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
  3. سی ای آر ٹی-ان نے مئی 2026 میں "ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں خطرات کو کم کرنے اور اے آئی کی مدد سے کمزوریوں کے استحصال کے خلاف دفاع کا خاکہ" جاری کیا، جس کا مقصد تیزی سے بڑھتے ہوئے اے آئی پر مبنی سائبر خطرات سے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کا تحفظ کرنا ہے۔
  4. سی ای آر ٹی-ان نے اپریل 2026 میں ’جدید اے آئی پر مبنی سائبر خطرات سے دفاع‘کے عنوان سے ایک گائڈ لائن جاری کی، جس میں اداروں، بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور عام افراد کے لیے جدید اے آئی سے پیدا ہونے والے خطرات کے خلاف تحفظ کو مضبوط بنانے کے جامع اقدامات بیان کیے گئے۔
  5. سی ای آر ٹی-ان نے جولائی 2025 میں سافٹ ویئر، ہارڈویئر، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ اور کرپٹوگرافی سے متعلق تقاضوں کے لیے بل آف میٹیریلز (بی او ایم) کے بارے میں تکنیکی رہنما ہدایات جاری کیں، تاکہ سپلائی چین کی سکیورٹی اور شفافیت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
  6. سی ای آر ٹی-ان نے مارچ 2025 میں اختراعی مصنوعی ذہانت کے مؤثر اور ذمہ دارانہ استعمال کے بہترین طریقوں پر مبنی ایک گائڈ لائن جاری کی۔
  7. سی ای آر ٹی-ان نے فروری 2025 میں ’اسمارٹ سٹی بنیادی ڈھانچے کے لیے سائبر سکیورٹی رہنما ہدایات‘ شائع کیں، جن میں اسمارٹ سٹی کے بنیادی ڈھانچے اور ایپلی کیشنز میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ (ایم ایل) کے محفوظ استعمال سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
  8. سی ای آر ٹی-ان نے نومبر 2024 میں ڈیپ فیک سے لاحق خطرات اور ان سے محفوظ رہنے کے لیے اختیار کیے جانے والے اقدامات سے متعلق ایک مشاورتی ہدایت جاری کی۔
  9. سی ای آر ٹی-ان نے اگست 2023 میں ماسٹر کارڈ کے تعاون سے ایک وائٹ پیپر(قرطاس ابیض) شائع کیا، جس میں ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس (اے پی آئی) پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ان حملوں کے تدارک میں اے آئی کے استعمال کو اجاگر کیا گیا۔
  10. سی ای آر ٹی-ان نے مئی 2023 میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایپلی کیشنز سے پیدا ہونے والے مخالفانہ خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے متعلق ایک  گائڈ لائن جاری کی۔

 

یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے29 جولائی2026 کو لوک سبھا میں پیش کیں۔

*****

ش ح۔ ع و۔ ص ج

U.No. 946


(रिलीज़ आईडी: 2291787) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी