ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہنر مندی کی تربیت کے نتائج، روزگار کے مواقع کی تخلیق اور کارکردگی پر مبنی ادائیگیاں

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 4:21PM by PIB Delhi

 

حکومت ہند کے اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کے تحت  ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) مختلف اسکیموں کے ذریعے ملک بھر کے تمام طبقات ہنر مندی، ازسر نو ہنر مندی (ری اسکلنگ) اور اعلیٰ درجے کی ہنر مندی (اَپ اسکلنگ)کی تربیت فراہم کرتی ہے۔ یہ تربیت ہنر مند ی کے فروغ کے مراکز اور اداروں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے، جن میں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی)، جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس)، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) اور انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) کے ذریعے چلائی جانے والی کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) شامل ہیں۔ اسکل انڈیا مشن کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا اور انہیں صنعت سے ہم آہنگ مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔

 

گزشتہ تین برسوں کے دوران ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کی مختلف اسکیموں کے تحت مختلف پیشوں میں مہارتی تربیت حاصل کرنے والے افراد کی ریاست وار تعداد ضمیمہ میں دی گئی ہے۔

 

پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کے تحت، اسکیم کے پہلے تین مراحل یعنی پی ایم کے وی وائی 1.0، پی ایم کے وی وائی 2.0 اور پی ایم کے وی وائی 3.0، جو مالی سال 2015-16 سے 2021-22 تک نافذ رہے، جس میں مختصر مدتی تربیت (شارٹ ٹرم ٹریننگ - ایس ٹی ٹی) کے جزو کے تحت امیدواروں کی ملازمت کے حصول کی نگرانی کی گئی۔ اس مدت کے دوران مجموعی طور پر 1.11 کروڑ امیدواروں کو تصدیق نامے جاری کیے گئے، جن میں سے 24.38 لاکھ امیدواروں کو مختصر مدتی تربیت کے جزو کے تحت روزگار حاصل ہونے کی اطلاع دی گئی۔مزید برآں، پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تربیت یافتہ امیدواروں کو اپنے لیے مختلف پیشہ ورانہ راستوں کا انتخاب کرنے کے قابل بنایا جائے، اور انہیں اس مقصد کے لیے مناسب رہنمائی اور تربیت فراہم کی جائے۔

 

وزارت نے پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت متعدد جامع اصلاحی اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں آدھار پر مبنی ای-کے وائی سی، چہرے کی تصدیق (فیس آتھنٹیکیشن) اور جغرافیائی محل وقوع سے منسلک حاضری (جیو ٹیگڈ اٹینڈنس)، کیو آر کوڈ پر مبنی ڈیجیٹل تصدیق نامے، اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب پر حقیقی وقت کے ڈیش بورڈز، نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی) کے ذریعے جانچ کاروں اور تربیتی مراکز کی مضبوط منظوری کا نظام، کوشل سمیکشا کیندر کے ذریعے آزادانہ نگرانی، واضح کلیدی کارکردگی اشاریوں (کے پی آئی) پر مبنی نظرثانی شدہ نگرانی کے رہنما اصول، اور جرمانوں و رقوم کی وصولی کا مضبوط نظام شامل ہیں۔

 

 

جہاں بھی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی، وہاں معطلی، بلیک لسٹ کرنا، رقوم کی واپسی اور دیگر سخت تادیبی اقدامات کیے گئے۔ ان اقدامات کے ذریعے اسکیم کے تحت جوابدہی، تصدیق اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا گیا ہے۔پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت مالی سال 2023-24 سے مالی سال 2025-26 کے دوران 2,314.09 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ اس مدت میں 400 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں (جو مذکورہ مدت کے دوران استعمال ہونے والی مجموعی رقم کا تقریباً 17.3 فیصد بنتی ہیں) تربیت کاروں کی حاضری سے متعلق تقاضوں کی عدم تعمیل کے باعث مزید جانچ پڑتال کے لیے روک دی گئی ہیں۔

 

ضمیمہ

گزشتہ تین برسوں کے دوران ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کی مختلف اسکیموں کے تحت ملک میں مختلف پیشوں میں مہارتی تربیت حاصل کرنے والے افراد کی ریاست وار مجموعی تعداد:

 

  1. پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی):

 

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

2023-24

2024-25

2025-26

انڈمان اور نکوبار جزائر

648

909

30

آندھرا پردیش

32,449

35,471

3,094

اروناچل پردیش

4,152

10,054

125

آسام

38,190

75,182

5,902

بہار

23,613

99,982

4,451

چندی گڑھ

319

628

148

چھتیس گڑھ

8,385

16,452

490

دہلی

10,686

12,277

2,769

گوا

183

236

12

گجرات

19,975

39,762

949

ہریانہ

27,411

75,942

8,308

ہماچل پردیش

5,348

19,341

3,582

جموں و کشمیر

28,895

85,557

4,689

جھارکھنڈ

8,796

30,034

1,785

کرناٹک

13,025

69,486

7,339

کیرالہ

8,832

10,449

1,118

لداخ

445

312

-

لکشدیپ

-

120

-

مدھیہ پردیش

34,884

2,59,871

16,686

مہاراشٹر

35,284

75,368

8,180

منی پور

2,879

20,798

1,067

میگھالیہ

2,502

7,938

1,168

میزورم

3,533

6,871

1,384

ناگالینڈ

3,830

7,299

662

اڈیشہ

21,457

26,231

2,189

پڈوچیری

1,556

3,096

646

پنجاب

11,836

1,06,699

10,259

راجستھان

23,564

2,80,156

10,856

سکم

2,802

2,874

-

تمل ناڈو

34,533

85,689

10,786

تلنگانہ

15,390

22,188

6,344

دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو

301

1,407

75

تریپورہ

5,081

14,363

1,906

اتر پردیش

71,771

4,63,503

28,823

اتراکھنڈ

11,669

35,364

3,650

مغربی بنگال

25,768

36,410

3,916

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

  1. جے ایس ایس:

 

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

2023-24

2024-25

2025-26

انڈمان اور نکوبار

1800

1800

1797

آندھرا پردیش

10800

10769

10795

اروناچل پردیش

0

0

0

آسام

9000

10799

10798

بہار

37786

36733

37073

چندی گڑھ

1800

1770

1462

چھتیس گڑھ

23376

24967

25158

دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو

3179

2417

3197

دہلی

5398

5391

5363

گوا

1800

1700

1799

گجرات

14160

14311

14889

ہریانہ

7181

3333

3437

ہماچل پردیش

18630

18052

18865

جموں و کشمیر

1020

680

2297

جھارکھنڈ

22439

20976

23063

کرناٹک

21532

21509

21377

کیرالہ

16198

15929

16199

لداخ

212

0

717

لکشدیپ

1772

900

999

مدھیہ پردیش

49089

51477

52082

مہاراشٹر

37273

36861

37612

منی پور

7197

7219

7200

میگھالیہ

1800

1780

1759

میزورم

1800

963

922

ناگالینڈ

2631

540

2560

اڈیشہ

50828

52123

52151

پنجاب

3560

2980

3458

راجستھان

14831

15534

16180

تمل ناڈو

14780

15124

15818

تلنگانہ

10300

10787

10793

تریپورہ

3600

3480

3567

اتر پردیش

84573

82475

82532

اتراکھنڈ

14393

13978

14304

مغربی بنگال

12599

13133

14118

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

III-این اے پی ایس:

 

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

2023-24

2024-25

2025-26

انڈمان اور نکوبار جزائر

48

199

177

آندھرا پردیش

21,701

22,075

26,446

اروناچل پردیش

65

66

204

آسام

8,174

5,801

10,028

بہار

5,317

5,502

9,013

چندی گڑھ

1,231

1,692

1,739

چھتیس گڑھ

5,249

5,362

6,820

دہلی

15,957

22,471

30,330

گوا

11,882

11,770

12,412

گجرات

83,957

90,796

1,09,027

ہریانہ

66,714

66,504

85,979

ہماچل پردیش

10,212

9,257

10,891

جموں و کشمیر

859

1,026

1,230

جھارکھنڈ

11,883

9,686

10,674

کرناٹک

78,457

92,843

1,16,343

کیرالہ

13,104

15,317

15,519

لداخ

66

50

19

لکشدیپ

6

8

14

مدھیہ پردیش

22,706

26,823

34,210

مہاراشٹر

2,63,245

2,78,423

3,01,910

منی پور

18

187

219

میگھالیہ

212

328

175

میزورم

12

146

280

ناگالینڈ

15

24

40

اوڈیشہ

10,755

10,757

12,416

پڈوچیری

2,469

4,268

5,953

پنجاب

14,761

15,510

25,649

راجستھان

18,230

22,328

32,243

سکم

298

439

508

تمل ناڈو

1,01,553

1,01,788

1,43,236

تلنگانہ

37,775

34,017

47,501

دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو

2,878

3,570

4,100

تریپورہ

383

449

533

اتر پردیش

71,505

78,966

1,06,269

اتراکھنڈ

21,058

22,887

30,643

مغربی بنگال

29,538

23,324

35,153

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 IV-سی ٹی ایس/آئی ٹی آئی:

 

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نام

2023

2024

2025

انڈمان اور نکوبار جزائر

481

838

829

آندھرا پردیش

50,568

52,447

54,213

اروناچل پردیش

733

669

697

آسام

5,325

4,256

5,725

بہار

125,625

116,293

116,754

چندی گڑھ

1,083

898

1,175

چھتیس گڑھ

24,226

22,237

23,970

دہلی

10,288

9,368

10,970

گوا

2,255

2,161

2,404

گجرات

98,454

78,811

90,790

ہریانہ

54,944

51,465

53,477

ہماچل پردیش

23,371

18,801

16,973

جموں و کشمیر

8,504

8,226

10,047

جھارکھنڈ

40,108

40,263

48,331

کرناٹک

78,724

64,447

71,839

کیرالہ

33,196

30,445

30,132

لداخ

368

375

421

لکشدیپ

360

341

210

مدھیہ پردیش

73,224

69,309

79,970

مہاراشٹر

128,009

115,889

130,810

منی پور

812

721

894

میگھالیہ

714

992

1,000

میزورم

396

260

328

ناگالینڈ

240

379

324

اڈیشہ

65,801

54,855

61,348

پڈوچیری

796

695

704

پنجاب

43,997

40,370

44,247

راجستھان

109,648

90,937

88,418

سکم

312

353

431

تمل ناڈو

41,127

35,466

39,119

تلنگانہ

29,579

33,583

40,452

دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو

908

822

841

تریپورہ

2,452

2,240

2,714

اتر پردیش

333,024

317,044

385,871

اتراکھنڈ

11,499

8,661

11,526

مغربی بنگال

44,211

40,216

42,323

  1.  

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

یہ معلومات ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔

********

 

 

ش ح۔ش آ ۔رض

U-914

 


(रिलीज़ आईडी: 2291609) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil