سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بروقت مرکزی مالی معاونت


مرکزی سطح کی کمیٹی 2006 سے اب تک 29 جائزہ اجلاس منعقد کر چکی، مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے تحت تلنگانہ کو 30.52 کروڑ روپے جاری

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 6:37PM by PIB Delhi

مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون، 1989 اور شہری حقوق کے تحفظ قانون، 1955 کے مؤثر نفاذ کے لیے مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل رابطے، باقاعدہ نگرانی اور بروقت مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ معلومات سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب رام داس اٹھاولے نے لوک سبھا میں ڈاکٹر ملو روی کے سوال کے تحریری جواب میں دیں۔

وزیر مملکت نے بتایا کہ 29 مارچ 2006 کو سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر کی سربراہی میں ایک مرکزی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جو اس اسکیم اور مذکورہ دونوں قوانین کے نفاذ کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے۔ کمیٹی اپنے قیام سے اب تک 29 اجلاس منعقد کر چکی ہے، جبکہ اس کا تازہ ترین اجلاس 8 جنوری 2026 کو منعقد ہوا۔

جواب میں مزید بتایا گیا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے موصول ہونے والی تجاویز پر تیزی سے کارروائی کی جاتی ہے۔ تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹک اور تریپورہ کی حکومتوں سے طلب کی گئی وضاحتیں موصول ہو چکی ہیں، جس کے بعد ان ریاستوں کی تجاویز پر اسکیم کے تحت مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔

تلنگانہ کے بارے میں وزیر مملکت نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے 2026-27 کے لیے مالی معاونت کی تجویز پیش کی ہے، جس میں ان بین ذات شادی شدہ جوڑوں کے لیے مالی ترغیب بھی شامل ہے جن میں ایک شریک حیات درج فہرست ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق مرکزی حکومت نے ریاست کو 30.52 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔

جواب میں مزید بتایا گیا کہ اسکیم پر بلا تعطل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے تجاویز موصول ہونے سے پہلے ہی اپریل 2026 میں ایس این اے-اسپرش پلیٹ فارم پر مدر سینکشن کے ذریعے 128.4327 کروڑ روپے کی علامتی رقم جاری کر دی تھی۔ بعد ازاں، جن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی تجاویز مقررہ شرائط پر پوری اتریں، انہیں مرکزی مالی معاونت کی دوسری قسط بھی جاری کر دی گئی۔

حکومت نے کہا کہ وہ درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون، 1989 اور شہری حقوق کے تحفظ قانون، 1955 پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بروقت مالی معاونت، ادارہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنانے اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

************

ش ح ۔   ف ا  ۔  م  ص

(U :896  )


(रिलीज़ आईडी: 2291439) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati