پنچایتی راج کی وزارت
نئی دہلی میں نربھے نیتری پہل کے تحت ماسٹر ٹرینرس کے دوسرے بیچ کی تربیت مکمل
نربھے نیتری پہل کا مقصد محفوظ اور صنفی اعتبارسے حساس پنچایتوں کی 14.5 لاکھ منتخب خواتین نمائندوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 4:53PM by PIB Delhi
وزارتِ پنچایتی راج (ایم او پی آر) کی جانب سے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) اور پیرامل فاؤنڈیشن کے اشتراک سے آج نئی دہلی میں ’’نربھے نیتری – تشدد سے آزادی: خواتین کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق قانونی دفعات کے حوالے سے منتخب خواتین نمائندوں کی صلاحیت سازی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ ماسٹر ٹرینرس تربیتی پروگرام کے دوسرے بیچ کا اختتام ہوا۔ یہ پروگرام 27 سے 29 جولائی 2026 تک وزارت کے ’’نربھے رہو‘‘ پہل کے تحت منعقد کیا گیاتھا، جسے نربھیا فنڈ کےتحت فنڈفراہم کیا جا رہا ہے۔ اس تین روزہ پروگرام میں مختلف نشستوں کے ذریعہ شرکاء کو صنف، تشدد، قانونی حقوق، ادارہ جاتی کارروائی کے نظام اور متاثرہ فرد پر مرکوز طریقۂ کار سے متعلق امور پر غور و خوض کے لیے باہمی مباحثوں، گروہی سرگرمیوں اور عملی تجربات کے ذریعہ سیکھنے کے طریقوں کو اختیار کیا گیا۔ ملک بھر سے ریاستی حکومتوں کے نمائندوں، فیکلٹی اراکین، شریک تربیت کنندگان اور دیگر افراد نے اس پروگرام میں شرکت کی۔
ہنرکی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت کی سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد ہمیشہ واضح طور پر ظاہر نہیں ہوتا ہے، بلکہ یہ خواتین کو مواقع سے محروم رکھنے، امتیازی سلوک اور ان کی محنت کی قدر نہ کرنے کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے معاشی بااختیاری، محفوظ عوامی مقامات اور مضبوط مثالی کرداروں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب خواتین نمائندے نچلی سطح پر قیادت کو فروغ دینے اور سماجی تبدیلی لانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وزارتِ پنچایتی راج کے جوائنٹ سکریٹری جناب امت اگروال نے کہا کہ خواتین نمائندوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا زیادہ مؤثر اور جواب دہ مقامی حکومت میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نربھے نیتری پہل کا مقصد منتخب خواتین نمائندوں کو قانونی معلومات، ادارہ جاتی طریقۂ کار کی سمجھ اور قیادتی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی برادریوں میں خواتین کی سلامتی، تحفظ اور وقار سے متعلق مسائل کو مؤثر انداز میں حل کر سکیں۔
اس تین روزہ تربیتی اجلاس میں نربھے رہواقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، جس کا مقصد منتخب خواتین نمائندوں کو علم، مہارت اور اعتماد فراہم کرکے خواتین کے خلاف تشدد کے مسائل سے نمٹنے اور کمیونٹی سطح پر معاون نظام کو مضبوط بنانے کے لیے طرز سلوک اور ادارہ جاتی نظام دونوں میں تبدیلی لانا ہے۔اجلاس میں ممتاز مقررین نے یقین ظاہر کیا کہ اس پروگرام کے تحت اختیار کیا گیا اشتراکی طریقۂ کار اور ماسٹر ٹرینرس تربیتی ماڈل کے ذریعے پیدا ہونے والا سلسلہ وار اثر ملک بھر میں وسیع پیمانے پر منتخب خواتین نمائندوں کی صلاحیت سازی کو ممکن بنائے گا، جس سے پنچایتوں میں زیادہ صنفی حساس اور جامع حکمرانی کو فروغ ملے گا۔ وزارت نے نربھے رہو مہم کے تحت ملک گیر صلاحیت سازی کے پروگرام کے آغاز کے طور پر مئی 2026 میں نئی دہلی میں ماسٹر ٹرینرس تربیتی پروگرام کے پائلٹ بیچ کا انعقاد کیا تھا۔
نربھے رہو مہم کے بارے میں
وزارتِ پنچایتی راج نے 11 مارچ 2026 کو نربھیا فنڈ کے تحت ’’نربھے رہو‘‘ مہم کا آغاز کیاتھا، جس کا مقصد پنچایتی راج کے اداروں کے ذریعے خواتین کے تحفظ، سلامتی اور بااختیاری کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ مہم پنچایتوں اور منتخب نمائندوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کرکے صنفی لحاظ سے حساس حکمرانی کو فروغ دیتی ہے، تاکہ خواتین کو درپیش مسائل کی روک تھام اوران کے مؤثر حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ اس مہم کے تین اہم اجزا ہیں: نربھے نیتری، نربھے چیتنا اور نربھے درشٹی۔نربھے نیتری پہل کے تحت ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں تقریباً 14.5 لاکھ منتخب خواتین نمائندوں اور روایتی مقامی اداروں کے نمائندوں کو ماسٹر ٹرینرس کے سلسلہ وار تربیتی ماڈل کے ذریعے تربیت دی جائے گی، جس کے لیے ریاست، ضلع اور بلاک سطح پر تقریباً 28,500 ماسٹر ٹرینرس کی معاونت حاصل کی جائے گی۔ اس اقدام کے ذریعے خواتین نمائندوں کو عام خواتین کے تحفظ اور سلامتی سے متعلق قانونی دفعات، ادارہ جاتی نظام اور کمیونٹی سطح پر کارروائی کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا جائے گا۔اس پروگرام کو کثیر لسانی تربیتی ماڈیولز، آڈیو ویژول تعلیمی مواد اور منظم تربیتی وسائل سے تعاون فراہم کیا گیا ہے، تاکہ ملک بھر میں یکساں طورپراس کے نفاذ کویقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی پنچایت کے ترقیاتی منصوبوں میں خواتین کے تحفظ، وقار اور بااختیاری کو شامل کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ نربھے چیتنا کا مقصد منتخب مرد نمائندوں کو حساس بنانا ہے تاکہ وہ صنفی لحاظ سے حساس حکمرانی کے فروغ میں کردار ادا کریں، جبکہ نربھے درشٹی کا مقصد پنچایت سطح پر نگرانی اور حفاظتی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے تاکہ عوامی مقامات پر خواتین زیادہ محفوظ محسوس کر سکیں۔

***
( ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا )
Urdu.No-869
(रिलीज़ आईडी: 2291263)
आगंतुक पटल : 10