خلا ء کا محکمہ
پارلیمانی سوال:این اے وی آئی سی(ناوک) سیٹلائٹ نظام کی عملیاتی حیثیت
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 4:06PM by PIB Delhi
وزیرِ اعظم کے دفتر ، عملے ، عوامی شکایات اور پینشن ، ایٹمی توانائی اور خلا ء کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ 10 سالہ مشن مدت مکمل ہونے کے بعد آئی آر این ایس ایس-1 ایف کے غیر فعال ہونے کے باعث، فی الحال ناوک سیٹلائٹ نظام میں پی این ٹی (پوزیشننگ، نیویگیشن اور وقت کی خدمات) فراہم کرنے کے لیے صرف تین سیٹلائٹس، یعنی آئی آر این ایس ایس-1 بی، آئی آر این ایس ایس-II آئی اور این وی ایس-01 فعال ہیں۔بنیادی پوزیشننگ خدمات فراہم کرنے کے لیے مدار میں کم از کم چار فعال سیٹلائٹس کا ہونا ضروری ہے۔ اس لیے فی الحال ناوک اپنے طور پر پوزیشننگ کی سہولت فراہم نہیں کر سکتا، تاہم ٹائمنگ سروس بدستور فعال ہیں۔ فی الحال مسلح افواج عملی ضروریات کے لیے ناوک سمیت متعدد عالمی سیٹلائٹ نیویگیشن نظام (ملٹی کانسٹیلیشن جی این ایس ایس) سے استفادہ کر رہی ہیں۔
کیونکہ زیادہ تر استعمالات میں ناوک کو دیگر سیٹلائٹ نیویگیشن نظاموں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا رہا ہے،لہذا اس لیے استعمال کنندہ کے لیے کسی قسم کی کمزوری یا خلل کا خدشہ نہیں ہے۔ ناوک کا اگلا سیٹلائٹ این وی ایس-03 آغاز کے لیے تیار ہے، جبکہ مزید دو سیٹلائٹس این وی ایس-04 اور این وی ایس-05 کی تیاری اپنے آخری مراحل میں ہے۔
***
( ش ح ۔ش م۔ت ا)
U. No. 863
(रिलीज़ आईडी: 2291259)
आगंतुक पटल : 16