امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

فارنسک صلاحیتوں میں اضافہ

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 3:47PM by PIB Delhi

دستورِ ہند کے ساتویں شیڈول کے تحت ’’پولیس‘‘ اور ’’عوامی نظم و نسق‘‘ریاست کے موضوعات ہیں اور امن و قانون کو برقرار رکھنے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ بشمول جرائم کی تفتیش، مجرموں پر مقدمہ چلانے اور اس سے متعلق فارنسک سائنس کی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داریاں متعلقہ ریاست کی ہوتی ہیں۔ تاہم، حکومتِ ہند کی وزارتِ داخلہ نے 4800 کروڑ روپے سے زیادہ کے مجموعی مالیاتی تخمینے والی نربھیا فنڈ سمیت مختلف اسکیموں کے ذریعے ملک میں فارنسک ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

(i) سینٹرل فارنسک سائنسز لیبارٹری (سی ایف ایس ایل)، چنڈی گڑھ میں ایک جدید ترین (اسٹیٹ آف دی آرٹ) ڈی این اے انالسس اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کی سہولت قائم کی گئی ہے۔

(ii) سینٹرل فارنسک سائنسز لیبارٹریز میں مشینری اور آلات کو اپ گریڈ کیا گیا ہے، جس میں فارنسکس کے نئے شعبے جیسے نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینسز، ڈیجیٹل فارنسکس، ڈی این اے فارنسک انالسس، اور فارنسک سائیکولوجی شامل ہیں۔

(iii) ڈیجیٹل فراڈ / سائبر فارنسکس کے اہم مقدمات کی تفتیش کے لیے سینٹرل فارنسک سائنسز لیبارٹری، حیدرآباد میں ایک نیشنل سائبر فارنسک لیبارٹری قائم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ’’سیفٹی آف وومن‘‘ کی اسکیم مزید 06 نیشنل سائبر فارنسک لیبارٹریز قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

(iv) ملک میں چنڈی گڑھ، دہلی، کامروپ (آسام)، کولکاتہ (مغربی بنگال)، بھوپال (مدھیہ پردیش)، پونے (مہاراشٹر) اور حیدرآباد (تلنگانہ) میں پہلے سے قائم 07 (سات) سینٹرل فارنسک سائنس لیبارٹریز (سی ایف ایس ایلز) کے علاوہ، جموں (مرکزکے زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر)، راجستھان، تمل ناڈو، بہار، اتر پردیش، اڈیشہ، چھتیس گڑھ اور کیرالہ میں 08 نئی سی ایف ایس ایلز قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

(v) ملک بھر میں معياری اور تربیت یافتہ فارنسک افرادی قوت فراہم کرنے کے لیے سال 2020 میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت نیشنل فارنسک سائنسز یونیورسٹی (این ایف ایس یو) قائم کی گئی ہے۔ گاندھی نگر (گجرات) اور دہلی میں این ایف ایس یو کے ابتدائی کیمپس کے علاوہ، گوا، اگرتلہ (تریپورہ)، بھوپال (مدھیہ پردیش)، دھاروار (کرناٹک)، گوہاٹی (آسام)، ناگپور (مہاراشٹر)، کھوردا (اڈیشہ)، رائے پور (چھتیس گڑھ)، چنگل پٹو (تمل ناڈو)، راجستھان، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، بہار، اور اتر پردیش میں این ایف ایس یو کے مزید 14 کیمپس قائم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ این ایف ایس یو نے امپھال (منی پور) اور پونے (مہاراشٹر) میں ٹریننگ اکیڈمیز بھی قائم کی ہیں۔

(vi) اسٹیٹ فارنسک سائنس لیبارٹریز میں ڈی این اے انالسس اور/یا سائبر فارنسک کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے نربھیا کے تحت مالی اعانت یافتہ اسکیم کے تحت 30 ریاستوں اور مرکزکے زیر انتظام علاقوں کو امداد فراہم کی گئی ہے۔

vii) حکومت ریاستوں/مرکزکے زیر انتظام علاقوں کے تفتیشی افسران ، پراسکیوٹرز اور میڈیکل آفیسرز کو ڈی این اے ثبوت کے جمع کرنے، ان کے تحفظ اور دیکھ بھال کے علاوہ سیکسول اسالٹ ایویڈنس کلیکشن کٹس کے استعمال کی تربیت دے رہی ہے۔ بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (بی پی آر اینڈ ڈی) اور ایل این جے این نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کرائمینولوجی اینڈ فارنسک سائنسز (اب نیشنل فارنسک سائنسز یونیورسٹی کا دہلی کیمپس) نے اب تک 37,978 تفتیشی افسران، پراسیکیوٹرز اور میڈیکل افسران کو تربیت دی ہے۔

(viii) فارنسک صلاحیتوں کی جدید کاری کی اسکیم کے تحت ’’ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فارنسک سائنس لیبارٹریز کی جدید کاری / اپ گریڈیشن‘‘ کے لیے 420 کروڑ روپے اور ’’ملک کے تمام اضلاع اور ریاستی ایف ایس ایلز کے لیے موبائل فارنسک وینز‘‘ فراہم کرنے کے لیے 496.66 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔

ix) حکومت نے ثبوتوں کی مؤثر دیکھ بھال کے نظام کے لیے تمام فارنسک لیبارٹریز سے حاصل ہونے والے فارنسک ڈیٹا کو منظم طریقے سے محفوظ کرنے کے لیے ’’سیفٹی آف وومن‘‘ کی اسکیم کے تحت نیشنل فارنسک ڈیٹا سینٹر کے قیام کی منظوری دی ہے۔

یہ معلومات وزارتِ داخلہ میں وزیر مملکت جناب بنڈی سنجے کمار نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*****

ش ح۔ ک ح۔ ش ہ ب

U.No. 858


(रिलीज़ आईडी: 2291247) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English