امور داخلہ کی وزارت
گنگا بیسن میں سیلاب کا جامع ہنگامی انتظام
प्रविष्टि तिथि:
29 JUL 2026 3:40PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت بارش کے انتہائی شدید واقعات میں مسلسل اضافے کے پیشِ نظر، بہار سمیت سیلاب سے متاثرہ ریاستوں میں آفت سے نمٹنے کی تیاریوں اور ہنگامی ردِعمل کے میکانزم کی مؤثریت کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے۔ ان جائزوں کی بنیاد پر، احتیاطی تدابیر کے لیے ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایڈوائزری اور الرٹس بھی جاری کیے جاتے ہیں۔
ہندستان اور نیپال کے درمیان طے شدہ دوطرفہ میکانزم کے ذریعے سیلاب اور ندیوں کے بندوبست کے مسائل پر بات چیت کی جاتی ہے۔ ان میکانزمز میں، دیگر امور کے علاوہ، ہندستان اور نیپال کی مشترکہ ندیوں پر سیلاب کی پیش گوئی کی جوائنٹ ٹیم (جے ٹی ایف ایف)، کوسی اور گنڈک پروجیکٹس کی جوائنٹ کمیٹی (جے سی کے جی پی)، اِننڈیشن اینڈ فلڈ مینجمنٹ کی جوائنٹ کمیٹی (جے سی آئی ایف ایم) اور آبی وسائل سے متعلق مشترکہ کمیٹی (جے سی ڈبلیو آر) شامل ہیں۔
حساس اضلاع میں انخلا کی منصوبہ بندی، مضبوط مواصلاتی نظام اور ہنگامی رسدکو جاری کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں گنگا بیسن کے لیے فلڈ ایمرجنسی مینجمنٹ فریم ورک بھی شامل ہے:
(i) ہندستان کا محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) اور سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور متوقع سیلاب، بشمول اچانک آنے والے سیلاب کی پیش گوئی کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ ماڈلز کی بنیاد پر مختلف پیرامیٹرز کی نگرانی کرتے ہیں، تاکہ آفت کے بندوبست کے ذمہ دار عہدیداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، عام عوام کو خبردار کرنے وغیرہ میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
(ii) بارش اور سیلاب کی پیش گوئی کے الرٹس باقاعدگی سے سینٹرل واٹر کمیشن (سی ڈبلیو سی) اور محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے ذریعہ تیار کیے جاتے ہیں اور انہیں اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کے ذریعے متعلقہ ریاستوں/اضلاع کو بھیجا جاتا ہے۔
(iii) عام عوام اور قدرتی آفات کے بندوبست سے نمٹنے والے حکام تک ان الرٹس کی ترسیل سچیت ایپ، ایس ایم ایس پر مبنی کامن الرٹنگ پروٹوکول (سی اے پی) اور سیل براڈکاسٹ سسٹم کے ذریعے بھی کی جاتی ہے۔
(iv) تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے این ڈی آر ایف اور این ڈی ایم اے کے ذریعہ کثیر شراکتداروں اور کثیر ریاستی سطح کی فرضی مشقوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
حکومتِ بہار کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ ریاست متعلقہ شعبوں جیسے کہ قدرتی آفات کے بندوبست کے محکمے، بی ایس ڈی ایم اے، ضلع انتظامیہ، آبی وسائل کے محکمے، محکمۂ داخلہ وغیرہ کی مربوط کارروائی کے ذریعے سیلاب کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا طریقۂ کار اپناتی ہے۔ یہ فریم ورک ساختی اقدامات جیسے کہ بند، کٹاؤ روکنے والے کام اور ڈرینیج میں بہتری کو غیر ساختی اقدامات کے ساتھ جوڑتا ہے، جن میں سیلاب کی پیش گوئی، ابتدائی خبرداری کے نظام ، جی آئی ایس پر مبنی نگرانی، ڈیجیٹل رپورٹنگ، ہنگامی ردِعمل اور بین محکماتی تال میل شامل ہیں۔
یہ معلومات وزارتِ داخلہ میں وزیر مملکت جناب نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔ ک ح۔ ش ہ ب
U.No. 857
(रिलीज़ आईडी: 2291213)
आगंतुक पटल : 6