وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لکھنؤ میں کمانڈ اسپتال (وسطی کمان) میں، ملٹری میڈیسن محکمے کا ورچوئل وسیلے سے افتتاح کیا


جناب راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ مذکورہ محکمہ آر اینڈ ڈی ہب اور سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر ، ملک کو ابھرتے ہوئے خطرات سے لیس کرنے کے لیےہے

وزیر دفاع نے جنگی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے ٹیک پر مبنی احتیاطی صحت کی دیکھ بھال پر زور دیا

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 1:23PM by PIB Delhi

وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے 29 جولائی 2026 کو اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں کمانڈ ہسپتال (سنٹرل کمان) میں ملٹری میڈیسن کے محکمے کا ورچوئل وسیلے سے افتتاح کیا ۔  افتتاح ملک کے پہلے وقف شدہ تعلیمی اور آپریشنل محکمہ کے قیام کی نشاندہی کرتا ہے جو خصوصی طور پر فوجی طب پر مرکوز ہے ۔ اس پہل کا مقصد جنگی طبی تیاریوں کو مزید مضبوط بنانا، تحقیق کو فروغ دینا، مقامی نظریات اور طریقۂ کار تیار کرنا اور مستقبل کے میدانِ جنگ اور انسانی امدادی ہنگامی حالات کے لیے خصوصی مہارت پیدا کرنا ہے۔   ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیکل سروسز (آرمی) کے زیراہتمام قائم کیا گیا یہ آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز (اے ایف ایم ایس) کی آپریشنل طبی تیاریوں کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PIC2KEYS.jpeg

وزیرِ دفاع نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ معاشی اور سماجی ترقی ملک کی تعمیر کے اہم پہلو ہیں، لیکن کسی بھی ملک کی خودمختاری اور ترقی کی اصل بنیاد اس کی فوج کی مضبوطی اور حوصلے میں مضمر ہوتی ہے۔ وزیر موصوف نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مذکورہ محکمۂ فوجی طب فوجیوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرکے قومی سلامتی کو مزید مضبوطی فراہم کرے گا، جبکہ اس یقین کو بھی تقویت دے گا کہ ضرورت کے وقت انہیں مناسب دیکھ بھال اور معاونت حاصل ہوگی۔

مذکورہ محکمہ اہم شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا، جن میں فوجی ٹرامہ اور نقصان پر قابو پانے کا انتظام، جنگی نفسیات اور ذہنی مضبوطی، ماحولیاتی و عملیاتی طب، فوجی طبی لاجسٹکس، کیمیکل، حیاتیاتی، ریڈیولوجیکل، نیوکلیائی اور دھماکہ خیز مواد (سی بی آر این ای) سے متعلق طبی ردِعمل، ہنگامی طب اور انتہائی نگہداشت، آفات سے متعلق طب، انسانی امداد اور آفات سے متعلق امدادی کارروائیاں (ایچ اے ڈی آر)، نیز تحقیق، جائزہ اور ڈیٹا اینالیٹکس  شامل ہیں۔ یہ محکمہ ٹیکنالوجی پر مبنی میدانِ جنگ کی طبی سہولیات، سیمولیشن پر مبنی تربیت، ٹیلی میڈیسن، طویل مدتی فیلڈ کیئر اور طبی فیصلوں میں معاونت کے نظام میں جدت کو بھی فروغ دے گا۔

اس  محکمہ کو مرحلہ وار طریقے سے تیار کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں اس کے قیام اور تعلیمی پروگراموں کے آغاز پر توجہ مرکوز کی جائے گی، جس کے بعد  انسانی امداد و آفات سے متعلق امدادی کارروائیوں (ایچ اے ڈی آر)  اور  سی بی آر این ای طب  میں اعلیٰ مراکز قائم کیے جائیں گے، اور بالآخر اسے فوجی طب کے ایک قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ مرکز کے طور پر فروغ دیا جائے گا۔

فوجی طب کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جس طرح  ایرو اسپیس طب  کم زمینی مدار میں پائلٹوں اور خلانوردوں کو درپیش چیلنجز کا مطالعہ کرتی ہے، اسی طرح فوجی طب جنگ اور جنگ جیسی صورتحال میں انسانی جسم پر پڑنے والے جسمانی اور ذہنی دباؤ کا جائزہ لیتی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا،  ‘‘ہمارے فوجی دنیا کے بعض انتہائی پیچیدہ علاقوں اور سخت ترین موسمی حالات میں تعینات ہوتے ہیں، جہاں انہیں مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نیا محکمہ ان عملیاتی ماحول کے مطابق خصوصی طبی طریقۂ کار تیار کرے گا۔’’

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PIC3MJWY.jpeg

وزیرِ دفاع  جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ موجودہ دور میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا خطرہ بھی برقرار ہے۔ وزیر موصوف انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ محکمہ تحقیق اور ترقی کے مرکز کے طور پر کام کرے گا اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے نئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ملک کو تیار کرے گا۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر بھارت اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں سب سے زیادہ فوجی تعاون فراہم کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ دفاعی افواج قومی سرحدوں سے باہر بھی انسانی امداد اور آفات سے متعلق امدادی کارروائیوں (ایچ اے ڈی آر) میں پیش پیش رہتی ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ  محکمۂ فوجی طب  آفات سے نمٹنے، فیلڈ اسپتالوں کی تعیناتی، بڑے پیمانے پر زخمیوں کے انتظام اور وباء پر قابو پانے کے شعبوں میں مہارت بڑھانے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔

نئے قائم کیے گئے اس محکمہ کو فوجی طب میں اعلیٰ معیار کے مرکز کے طور پر تصور کیا گیا ہے، جو مسلح افواج کی طبی خدمات (اے ایف ایم ایس) کے لیے بنیادی تعلیمی، تحقیقی اور نظریاتی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ یہ فوجی اور عملیاتی طب میں منظم تعلیم اور تربیت فراہم کرے گا، جنگی طب، جنگی سرجری اور ٹرامہ سے متعلق نگہداشت جیسے شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ پروگراموں کو فروغ دے گا اور بھارت کی عملیاتی ضروریات کے مطابق مقامی تحقیق کو بھی آگے بڑھائے گا۔

 

وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ محکمہ آرمی میڈیکل کور کے نوجوان ڈاکٹروں کے لیے میدانِ جنگ میں نرسنگ اور جدیدٹرامہ لائف سپورٹ کی تربیت کا مرکز ثابت ہوگا۔ وزیر موصوف نے کہا، ‘‘یہ محکمہ نوجوان طبی ماہرین کے لیے کیریئر کا ایک نیا باب کھولے گا۔ اب طلبہ فوجی طب میں سپر اسپیشیلائیزیشن حاصل کر سکیں گے۔ اس سے نہ صرف فوج کے اندر علمی صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر طبی تحقیق کے شعبےمیدان میں بھارت کا مقام بھی اور بلند ہوگا۔’’

 ‘احتیاطی صحت نگہداشت’  کی اہم ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اصل علاج سے پہلے اسے دفاع کی پہلی صف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ وزیر موصوف نے ایک ایسے نظام کی تشکیل پر زور دیا جو بیماریوں کی نگرانی، ٹیکہ کاری، صفائی ستھرائی، غذائیت، جسمانی فٹنس، پیشہ ورانہ صحت اور باقاعدہ طبی معائنے کے ذریعے صحت کے خطرات کی ابتدائی مرحلے میں نشاندہی اور ان کا تدارک کر سکے۔ جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا،  ‘‘احتیاطی صحت نگہداشت کا براہِ راست تعلق جنگی تیاری اور قومی سلامتی سے ہے۔ ہم مصنوعی ذہانت (اے آئی)، پہننے کے قابل آلات، پیش گوئی پر مبنی تجزیات اور جدید تشخیصی ٹیکنالوجی جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھا کر فوجیوں کی صحت کی ریئل ٹائم میں نگرانی اور ممکنہ صحت خطرات کی ابتدائی شناخت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔’’

وزیرِ دفاع نے اپنی بات کو ختم کرتے ہوئے فوجی طب کے نئے محکمے کو ملک کی فوجی سوچ میں ایک انقلابی تبدیلی کی علامت قرار دیا۔ وزیر موصوف نے کہا،  "ہمیں مل کر اس محکمہ کو دنیا کا بہترین ‘میدانِ جنگ طبی تحقیقی مرکز’ بنانا ہوگا۔"

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/PIC2K3P8.jpeg

اس تقریب میں بری فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، وزیرِ دفاع کے سیکریٹری جناب راجیش کمار سنگھ، بری فوج کے نائب سربراہِ لیفٹیننٹ جنرل سندیپ جین، سینٹرل کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل انندیا سین گپتا، ڈی جی اے ایف ایم ایس سرجن وائس ایڈمرل آرتی سرین، ایڈجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل وی پی ایس کوشک، ڈی جی میڈیکل سروسز (آرمی) اور کرنل کمانڈنٹ آرمی میڈیکل کور لیفٹیننٹ جنرل سی جی مرلی دھرن، محکمۂ دفاع کے ایڈیشنل سیکریٹری جناب منیش ترپاٹھی، کمانڈنٹ کمانڈ اسپتال (سینٹرل کمانڈ)، لکھنؤ میجر جنرل الوک بھلا اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔

مذکورہ محکمہ کا قیام حکومت کے اس وژن کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور دفاعی افواج کی عملیاتی تیاریوں میں اضافہ کرنا ہے۔ یہ  دفاعی حکمتِ عملی وژن30-2026کے تحت تجویز کردہ  عالمی فوجی طب مرکز  کے قیام کے تصور سے بھی ہم آہنگ ہے۔ اس محکمہ کا افتتاح مسلح افواج کی طبی خدمات (اے ایف ایم ایس) کو ایک جدید، ٹیکنالوجی سے مزین، عملیاتی ضروریات کے مطابق اور مریضوں پر مرکوز فوجی صحت نگہداشت کے نظام میں تبدیل کرنے کے جاری عمل میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے، جو مستقبل کے دفاعی اور قومی سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بھارت کی تیاریوں کو مزید مضبوط کرے گا۔

 

 

  *

 ( ش ح ۔ش م۔ت ا)

U. No. 841


(रिलीज़ आईडी: 2291069) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil