ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال: طویل مدتی موسمی پیش گوئی کا نظام

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 11:49AM by PIB Delhi

وزارتِ ارضیاتی سائنسز (ایم او ای ایس) کے تحت ہندوستان کے محکمۂ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے 2021 سے طویل مدتی موسمی پیش گوئی کے لیے جدید کثیر ماڈل پر  مبنی اشتراکی ( ایم ایم ای) طریقۂ کار اختیار کیا ہے۔ اس جدید نظام کے نتیجے میں طویل مدتی موسمی پیش گوئیوں کی درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس کے بعد سے جاری کی گئی تمام پیش گوئیوں سے متعلق غلطیاں ایک مقررہ حد کے  اندر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، 2021 سے جاری ہونے والی مانسون کی تمام عملی پیش گوئیاںمقررہ حدِخطا کے اندر ثابت ہوئی ہیں، جبکہ 2021 سے 2025 کے پانچ برسوں کے دوران ان میں طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے مقابلے میں اوسط مطلق غلطیاں صرف 2.2 فیصد رہی ہیں۔

 

پورے بھارت میں  مانسون کی بارش

 

 

سال

حقیقی بارش (ایل پی اے کا فیصد)

اپریل میں پہلے مرحلے کی پیش گوئی جاری کی گئی

(ماڈل غلطی: ±5 فیصد ایل پی اے)

دوسرے مرحلے کی پیشن گوئی مئی میں جاری کی گئی

( ماڈل غلطی ± 4 فیصد ایل پی اے)

2015

86

93

88

2016

97

106

106

2017

95

96

98

2018

91

97

97

2019

110

96

96 =

2020

109

100

102

 

2021

99

98

101

2022

106

99

103

2023

95

96

96

2024

108

106

106

2025

108

105

106

 

گزشتہ دس برسوں کے دوران محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) کے طویل مدتی موسمی پیش گوئی کے نظام کی حاصل کردہ درستگی کی سال وار تفصیلات ذیل کی جدول میں دی گئی ہیں۔گزشتہ دس برسوں کے دوران طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے مقابلے میں پیش گوئی کی حدِ خطا صرف ایک مرتبہ، یعنی 2019 میں 10 فیصد سے تجاوز کر سکی، جب مطلق پیش گوئی خطا طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے 14 فیصد کے برابر ریکارڈ کی گئی۔ تاہم، 2021 میں کثیرماڈل پرمبنی اشتراکی (ایم ایم ای) حکمتِ عملی اختیار کرنے کے بعد، محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) نے اپنی طویل مدتی موسمی پیش گوئیوں کی درستگی میں نمایاں بہتری حاصل کی ہے، جس کے نتیجے میں اوسط مطلق پیش گوئی خطا صرف طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے 2.2 فیصد تک محدود رہی۔

وزارتِ ارضیاتی سائنسز کے تحت محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) نے طویل مدتی موسمی پیش گوئی کے اپنے نظام کو مسلسل جدید بنایا ہے اور اس مقصد کے لیے باہم مربوط حرکیاتی موسمیاتی نمونوں پر مبنی جدید کثیر ماڈل پر مبنی اشتراکی (ایم ایم ای) طریقۂ پیش گوئی اختیار کیا ہے۔ ایم ایم ای نظام مختلف موسمیاتی ماڈلز کی پیش گوئیوں کو یکجا کرتا ہے، جس سے انفرادی ماڈلز سے وابستہ غیر یقینی صورتِ حال میں کمی آتی ہے اور موسمی پیش گوئیوں کی درستگی اور معتبریت ر میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ ایم ایم ای نظام کو اختیار کرنے سے موسمی مانسون کی پیش گوئیوں کی  معتبریت  میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ 2021 سے 2025 کے دوران پہلے مرحلے کی پیش گوئی کی اوسط مطلق خطا طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے 3.1 فیصد رہی، جبکہ دوسرے مرحلے کی پیش گوئی میں یہ مزید کم ہو کر 2.2 فیصد رہ گئی۔اس کے برعکس 2016 سے 2020 کے دوران اوسط مطلق خطا طویل مدتی اوسط (ایل پی اے) کے 7.8 فیصد کے برابر تھی۔ اس طرح اوسط مطلق خطا 7.8 فیصد سے کم ہو کر 2.2 فیصد رہ گئی، جو ایم ایم ای نظام کے نفاذ اور اس میں مسلسل عملی بہتری کے بعد موسمی پیش گوئی کے نظام کی درستگی اور  معتبریت میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ایم ایم ای نظام نے ال نینو۔جنوبی ارتعاش (ای این ایس او) اور بحرِ ہند دو قطبی مظہر (آئی او ڈی) جیسے بڑے موسمی عوامل کی بہتر انداز میں نمائندگی کر کے پیش گوئیوں میں ہم آہنگی  میں بھی  اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں مانسون کے موسم کی پیش گوئیاں پہلے کے مقابلے میں معتبریت پیدا ہو گئی ہیں۔

ملک میں طویل مدتی مانسون کی پیش گوئی اور شدید موسمی واقعات کی پیش گوئی کو مزید مؤثر اور درست بنانے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  • طویل مدتی موسمی پیش گوئی کے عملی نظام کے لیے باہم مربوط حرکیاتی موسمیاتی ماڈلز  والے  جدید کثیر ماڈل پر مبنی اشتراکی (ایم ایم ای) طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے۔
  • عددی موسمی پیش گوئی کے ماڈلزکو بہتر ماڈل طبیعیات، زیادہ باریک مکانی تفکیک (اسپیشل ریزولیوشن)، جدید ڈیٹا انضمام (ڈیٹا اسیمیلیشن) کی تکنیکوں اور اعلیٰ درجے کی کمپیوٹنگ صلاحیتوں کے ذریعے مسلسل جدید اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
  • مشن موسم کے تحت صلاحیت میں اضافے کے لیے محکمۂ موسمیات کے مشاہداتی نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ملک بھر میں ڈوپلر موسمیاتی ریڈار (ڈی ڈبلیو آر)، خودکار موسمیاتی مراکز (اے ڈبلیو ایس)، خودکار بارش پیما (اے آر جی)، بالائی فضائی مشاہداتی نظام، ونڈ پروفائلرز اور دیگر مشاہداتی پلیٹ فارمز کے قومی نیٹ ورک کو وسعت دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کارکردگی کے حامل کمپیوٹنگ ڈھانچے اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) و مشین لرننگ پر مبنی موسمی پیش گوئی کے جدید آلات بھی استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔
  • مقامی طور پر تیار کردہ موسمیاتی مصنوعی سیاروں کے ذریعے حاصل ہونے والے مشاہدات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے، جبکہ مصنوعی سیاروں، موسمیاتی ریڈاروں اور زمینی مشاہداتی نظاموں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو عددی موسمی پیش گوئی کے نمونوں میں شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ موسمی پیش گوئیوں کی درستگی میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
  • مرکزی اور ریاستی سرکاری اداروں کے اشتراک سے موبائل ایپلی کیشنز، اے پی آئیز، ویب پورٹلز، ایس ایم ایس، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے موسمی پیش گوئیاں اور انتباہات عوام تک بروقت پہنچائے جا رہے ہیں۔

یہ تمام اقدامات ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے یکساں مفاد کے لیے پورے ملک میں یکساں طور پر نافذ کیے جا رہے ہیں۔ اسی لیے ان اقدامات کے حوالے سے ریاست وار وسائل کی تقسیم یا علیحدہ ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔

یہ معلومات وزیرمملکت (آزادانہ چارج) برائے ارضیاتی سائنسزڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب  میں فراہم کی۔

 

************

 ش ح ۔ش ب۔ش ت

UN-NO-833


(रिलीज़ आईडी: 2290956) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil