ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمنٹ کا سوال: مائیکرو پلاسٹک آلودگی سے متعلق این سی سی آر کے مطالعات

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 11:45AM by PIB Delhi

وزارتِ ارضیاتی سائنسز کے تحت  ساحلی علاقوں سے متعلق تحقیق کا قومی مرکز  (این سی سی آر) ہندوستانی ساحلی علاقوں کے منتخب مقامات، جن میں توتھوکوڈی اور خلیجِ منار بھی شامل ہیں، میں پلاسٹک کے ذرات (مائیکرو پلاسٹک)، درمیانے حجم کے پلاسٹک (میسو پلاسٹک)، بڑے پلاسٹک (میکرو پلاسٹک) اور سمندری کچرے کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ ان مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ریشے پلاسٹک کے ذرات  کی سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہیں، جبکہ دریاؤں کے ذریعے سمندر میں پہنچنے والا کچرا اور چھوڑا ہوا، گم شدہ یا پھینکا گیا ماہی گیری کا سا ز و سامان (اے ایل ڈی ایف جی) پلاسٹک ذرات سے آلودگی کے اہم ذرائع ہیں۔

ساحلی علاقوں سے متعلق تحقیق کا قومی مرکز  (این سی سی آر) نے ساحلی ماحول میں  پلاسٹک کے ذرات (مائیکرو پلاسٹک) اور بڑے پلاسٹک (میکرو پلاسٹک) کے دستیاب اعداد و شمار کی بنیاد پر صاف ستھرا ساحل اشاریہ (کلین کوسٹ انڈیکس – سی سی آئی) تیار کیا ہے۔سی سی آئی کے جائزے کے مطابق توتھوکوڈی کے ساحل اور خلیجِ منار کو ‘‘ اوسط  درجے کے صاف’’  ساحلی علاقوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ خلیجِ منار اور توتھوکوڈی کے ساحلی علاقوں کی تلچھٹ  میں ہر 50 گرام تلچھٹ میں28 سے 60 پلاسٹک کے ذرات پائے گئے ہیں۔دستیاب معلومات کی بنیاد پر اس خطے میں پلاسٹک کے ذرات سے آلودگی کے کسی بڑے مرکز (ہاٹ اسپاٹ) کی نشاندہی نہیں ہوئی ہے۔

ساحلی علاقوں سے متعلق تحقیق کا قومی مرکز  (این سی سی آر) ہندوستانی ساحلی علاقوں میں سمندری کچرے اور پلاسٹک کے ذرات (مائیکرو پلاسٹک) کی سائنسی نگرانی اور جانچ کا کام انجام دیتا ہے اور پالیسی سازی اور مؤثر انتظام کے لیے متعلقہ وزارتوں اور دیگر شراکت دار اداروں کو سائنسی معلومات اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) نے پلاسٹک آلودگی میں کمی لانے کے لیے متعدد پالیسی اقدامات کیے ہیں، جن میں یکم جولائی2022 سے کم افادیت اور زیادہ آلودگی پھیلانے والے مخصوص ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک  کی اشیاء پر پابندی بھی شامل ہے۔ وزارت نے پلاسٹک کچرے کے انتظام (ترمیمی) قواعد، 2022 بھی نافذ کیے ہیں، جن کے تحت پلاسٹک کی پیکجنگ کے لیے توسیعی پیداواری ذمہ داری (ای پی آر) سے متعلق رہنما اصول متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان رہنما اصولوں میں پلاسٹک پیکجنگ کے لازمی طور پر جمع کرنے، ری سائیکلنگ، سخت پلاسٹک پیکجنگ کے دوبارہ استعمال اور ری سائیکل شدہ پلاسٹک کے استعمال کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں، تاکہ پلاسٹک کچرے  کے پائیدار انتظام  کوفروغ  دیا جاسکے اور پلاسٹک سے ہونے والی آلودگی میں کمی لائی جاسکے۔سال 2022 سے اب تک ای پی آر نظام کے تحت تقریباً232 لاکھ ٹن پلاسٹک پیکجنگ کے کچرے کو مؤثر طریقے سے ٹھکانے لگایا جا چکا ہے۔

قومی سمندری کچرا پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور مشاورت کے لیے اسے وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) کو بھیج دیا گیا ہے۔

یہ معلومات وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) برائے ارضیاتی سائنسز ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں  فراہم کیں۔

***

 ش ح ۔ش ب۔ش ت

UNO-833


(रिलीज़ आईडी: 2290936) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil