وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ماہی گیروں کے لیے  جی اے آئی ایس سہولت

प्रविष्टि तिथि: 28 JUL 2026 3:55PM by PIB Delhi

حکومت ہند کی وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے محکمۂ ماہی پروری کی جانب سے مالی سال 21-2020 سے اب تک ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ماہی پروری کے شعبے کی ترقی کے لیے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) نافذ کی جا رہی ہے، جس پر مجموعی طور پر 20,750 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت، دیگر اقدامات کے علاوہ، سمندری اور اندرون ملک ماہی گیروں اور ماہی پروری سے وابستہ کارکنوں کو گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم (جی اے آئی ایس) کے ذریعے سماجی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت بیمہ کی پوری رقم کا بوجھ مرکز اور ریاستیں بالترتیب60:40 کے تناسب سے برداشت کرتی ہیں، جبکہ ہمالیائی اور شمال مشرقی ریاستوں کے لیے یہ تناسب 90:10 ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بیمہ کا پورا خرچ مرکزی حکومت برداشت کرتی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت فراہم کی جانے والی بیمہ سہولت میں درج ذیل شامل ہیں:  (i) حادثے کے نتیجے میں موت یا مکمل مستقل معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے؛ (ii) جزوی مستقل معذوری کی صورت میں 2.5 لاکھ روپے؛ اور  (iii) حادثے کی صورت میں علاج و اسپتال کے اخراجات کے لیے25 ہزار روپے تک کی مالی مدد۔ مالی سال 21-2020 سے اب تک ماہی گیروں کے لیے گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم (جی اے آئی ایس) کے تحت ریاست وار اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ وار دائر کیے گئے دعووں، منظور شدہ دعووں، مسترد شدہ دعووں، زیرالتوا دعووں اور ادا کیے گئے مجموعی معاوضے کی تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔

(b . پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے نفاذ کے گزشتہ پانچ برسوں (22-2021سے 26-2025) اور موجودہ مالی سال (27-2026) کے دوران، ہر سال اوسطاً 35.74 لاکھ فعال ماہی گیروں کو گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم (جی اے آئی ایس) کے تحت شامل کیا گیا ہے۔گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم (جی اے آئی ایس) کے تحت شامل کیے گئے ماہی گیروں کی اوسط تعداد اور ماہی گیروں کی مجموعی تخمینی آبادی کے مقابلے میں بیمہ تحفظ کی شرح سے متعلق ریاست وار اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وار تفصیلات ضمیمہ-2 میں دی گئی ہیں۔

(c. سابقہ بلیو ریولیوشن اسکیم کے تحت ماہی گیروں کے لیے فراہم کیا جانے والا بیمہ تحفظاتی اسکیم محدود تھی اور اس کے تحت دی جانے والی مالی معاونت بھی نسبتاً کم تھی۔ ریاستی حکومتوں سے موصول ہونے والی تجاویز اور بلیو ریولیوشن اسکیم کے جائزے کی بنیاد پر پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم (جی اے آئی ایس) کے دائرۂ کار اور مالی فوائد میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، تاکہ ماہی گیروں کو زیادہ مالی تحفظ اور خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اسی مقصد کے تحت، حادثاتی موت یا مکمل مستقل معذوری کی صورت میں بیمہ رقم 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، جبکہ جزوی مستقل معذوری کی صورت میں یہ رقم 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2.5 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح حادثے کی صورت میں اسپتال میں علاج کے اخراجات کے لیے مالی امداد 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے کر دی گئی ہے، جو سابقہ بلیو ریولیوشن اسکیم کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

ضمیمہ-1

ماہی گیروں کے لیے گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم (جی اے آئی ایس)

مالی سال 22-2021سے 26-2025 تک ماہی گیروں کے لیے گروپ حادثاتی بیمہ اسکیم (جی اے آئی ایس) کے تحت ریاست وار اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ وار دائر کیے گئے دعووں، منظور شدہ دعووں، مسترد شدہ دعووں، زیرالتوا دعووں اور ادا کیے گئے مجموعی معاوضے کی تفصیلات

 

مالی سال -2022-2021

کوریج کی مدت (26.07.2021 سے 25.07.2022 تک)

نمبر شمار

نام

دائر کردہ دعوے

منظور شدہ دعوے

مسترد کیے گئے دعوے

زیر التواء  دعوے

کل معاوضہ ادا کیا گیا (روپے میں)

 

ریاستیں

 

 

 

صفر

 

1

آسام

2

2

 

5,23,746

2

بہار

2

-

2

-

3

گجرات

1

1

 

5,00,000

4

ہماچل پردیش

4

3

1

15,00,000

5

کرناٹک

1

1

 

5,00,000

6

اوڈیشہ

20

16

4

75,25,000

7

تمل ناڈو

145

120

25

5,85,75,000

8

تلنگانہ

223

191

32

9,50,25,000

 

کل تعداد

398

334

64

16,41,48,746

مرکز کے زیر انتظام علاقے

 

 

 

 

9

انڈمان اور نکوبار

1

1

 

5,00,000

10

جموں و کشمیر

2

1

1

5,00,000

11

پڈوچیری

15

9

6

40,25,000

 

کل تعداد

18

11

7

50,25,000

 

کل مجموعی تعداد

416

345

71

16,91,73,746

 

مالی سال -23-2022

کوریج کی مدت (26.07.2022 سے 25.07.2023 تک)

نمبر شمار

نام

دائر کردہ دعوے

منظور شدہ دعوے

مسترد کیے گئے دعوے

زیر التواء  دعوے

کل معاوضہ ادا کیا گیا (روپے میں)

 

ریاستیں

 

 

 

صفر

 

1

آسام

2

1

1

5,00,000

2

بہار

2

1

1

5,00,000

3

چھتیس گڑھ

8

4

4

17,50,000

4

گجرات

15

5

10

25,00,000

5

ہریانہ

1

-

1

-

6

ہماچل پردیش

1

1

 

5,00,000

7

جھارکھنڈ

2

2

 

10,00,000

8

کرناٹک

9

2

7

10,00,000

9

مدھیہ پردیش

3

-

3

-

10

مہاراشٹر

4

2

2

10,00,000

11

اوڈیشہ

31

21

10

96,00,000

12

راجستھان

3

2

1

10,00,000

13

تمل ناڈو

198

136

62

6,48,23,650

14

تلنگانہ

321

242

79

11,98,14,005

15

تریپورہ

1

-

1

-

16

اتر پردیش

3

1

2

21,385

 

کل تعداد

604

420

184

20,40,09,040

مرکز کے زیر انتظام علاقے

 

 

 

 

17

انڈمان اور نکوبار

6

2

4

10,00,000

18

لکشدویپ

1

-

1

-

19

پڈوچیری

11

4

7

15,25,000

 

کل  تعداد

18

6

12

25,25,000

 

کل مجموعی تعداد

622

426

196

20,65,34,040

 

مالی سال -2024-2023

کوریج کی مدت (26.07.2023 سے 25.07.2024 تک)

نمبر شمار

نام

دائر کردہ دعوے

منظور شدہ دعوے

مسترد کیے گئے دعوے

زیر التواء  دعوے

کل معاوضہ ادا کیا گیا (روپے میں)

 

ریاستیں

 

 

 

 

 

1

آسام

1

-

 

1

-

2

بہار

2

-

1

1

-

3

چھتیس گڑھ

11

8

 

3

40,00,000

4

گجرات

15

-

3

12

-

5

ہماچل پردیش

3

-

1

2

-

6

جھارکھنڈ

4

1

1

2

5,00,000

7

کرناٹک

13

5

3

5

25,00,000

8

مدھیہ پردیش

7

-

4

3

-

9

مہاراشٹر

9

1

2

6

5,00,000

10

اوڈیشہ

30

22

1

7

1,10,00,000

11

تمل ناڈو

196

136

31

29

6,39,50,000

12

تلنگانہ

218

176

20

22

8,70,50,000

13

تریپورہ

1

-

1

 

-

14

اتر پردیش

7

2

2

3

10,00,000

 

کل تعداد

517

351

70

96

17,05,00,000

مرکز کے زیر انتظام علاقے

 

 

 

 

 

15

انڈمان اور نکوبار

4

-

1

3

-

16

جموں و کشمیر

2

1

 

1

5,00,000

17

پڈوچیری

19

6

7

6

30,00,000

 

کل تعداد

25

7

8

10

35,00,000

 

کل مجموعی تعداد

542

358

78

106

17,40,00,000

 

جی اے آئی ایس  مالی سال  2024-2025

کوریج کی مدت (01.06.2024 سے 31.05.2025 تک)

نمبر شمار

نام

دائر کردہ دعوے

منظور شدہ دعوے

مسترد کیے گئے دعوے

زیر التواء  دعوے

کل معاوضہ ادا کیا گیا (روپے میں)

 

 

ریاستیں

 

 

 

 

 

 

1

آسام

2

1

 

1

5,00,000

 

2

بہار

6

1

3

2

5,00,000

 

3

چھتیس گڑھ

20

1

3

16

5,00,000

 

4

گوا

1

-

 

1

-

 

5

گجرات

11

1

2

8

5,00,000

 

6

ہماچل پردیش

3

-

 

3

-

 

7

جھارکھنڈ

4

1

 

3

5,00,000

 

8

کرناٹک

16

6

2

8

30,00,000

 

9

مدھیہ پردیش

5

-

2

3

-

 

10

مہاراشٹر

28

13

4

11

65,00,000

 

11

منی پور

1

1

 

0

5,00,000

 

12

اوڈیشہ

41

19

7

15

95,00,000

 

13

تمل ناڈو

211

134

48

29

6,48,26,551

 

14

تلنگانہ

310

246

26

38

12,30,00,000

 

15

اتر پردیش

5

1

 

4

5,00,000

 

 

کل تعداد

664

425

97

142

21,03,26,551

 

مرکز کے زیرانتظام علاقے

 

 

 

0

 

 

16

انڈمان اور نکوبار

5

-

 

5

-

 

17

جموں و کشمیر

3

-

2

1

-

 

18

لکشدویپ

1

1

 

0

18,224

 

19

پڈوچیری

21

8

3

10

35,25,000

 

 

کل تعداد

30

9

5

16

35,43,224

 

 

کل مجموعی تعداد

694

434

102

158

21,38,69,775

 

 

جی اے آئی ایس-پانچواں سال

 ضمیمہ -5 جی اے آئی ایس-کوریج کی مدت (01.06.2025 سے 31.05.2026 تک)

نمبر شمار

نام

دائر کردہ دعوے

منظور شدہ دعوے

مسترد کیے گئے دعوے

زیر التواء  دعوے

کل معاوضہ ادا کیا گیا (روپے میں)

 

ریاستیں

 

 

 

 

 

1

آسام

1

 

 

1

 

2

بہار

2

1

1

0

5,00,000

3

چھتیس گڑھ

8

 

 

8

 

4

گوا

1

1

 

0

5,00,000

5

گجرات

10

3

4

3

15,00,000

6

ہماچل پردیش

5

2

2

1

5,75,000

7

جھارکھنڈ

4

 

 

4

 

8

کرناٹک

21

13

6

2

65,00,000

9

مدھیہ پردیش

3

1

 

2

5,00,000

10

مہاراشٹر

20

10

1

9

50,00,000

11

اوڈیشہ

44

32

 

12

1,40,89,059

12

تمل ناڈو

224

96

28

100

4,39,87,926

13

تلنگانہ

224

150

13

61

7,42,02,500

14

اتر پردیش

2

1

1

0

5,00,000

 

کل تعداد

569

310

56

203

14,78,54,485

مرکز کے زیر انتظام علاقے

 

 

 

0

 

15

جموں و کشمیر

3

3

 

0

15,00,000

16

لکشدویپ

1

1

 

0

5,00,000

17

پڈوچیری

9

2

3

4

10,00,000

 

کل تعداد

13

6

3

4

30,00,000

 

کل مجموعی تعداد

582

316

59

207

15,08,54,485

ضمیمہ II

ماہی گیروں کے لیے جی اے آئی ایس سے متعلق تفصیلات

گزشتہ پانچ سالوں (22-2021 سے 26-2025) اور موجودہ مالی سال (27-2026) کے دوران گروپ ایکسیڈنٹ انشورنس اسکیم (جی اے آئی ایس)کے تحت اندراج کیے گئے ماہی گیروں کی اوسط ریاست – یو ٹی وار تفصیلات

نمبر شمار

ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا نام

جی اے آئی ایس کے تحت اندراج شدہ ماہی گیروں کی اوسط تعداد

کل تخمینہ شدہ ماہی گیروں کی آبادی کا کوریج فیصد

 

ریاستیں

 

 

1

آندھرا پردیش

2,84,888

19.03

2

اروناچل پردیش

1,001

4.17

3

آسام

1,80,605

7.16

4

بہار

1,50,000

2.49

5

چھتیس گڑھ

2,20,206

99.93

6

گوا

2,673

25.35

7

گجرات

1,01,039

18.08

8

ہریانہ

1,582

1.34

9

ہماچل پردیش

10,752

91.07

10

جھارکھنڈ

1,68,599

100.00

11

کرناٹک

73,745

7.57

12

مدھیہ پردیش

1,04,328

4.67

13

مہاراشٹر

1,37,587

9.06

14

منی پور

1,539

3.23

15

میزورم

4,302

68.41

16

میگھالیہ

717

4.33

17

اوڈیشہ

10,12,464

66.72

18

پنجاب

3,178

41.87

19

راجستھان

4,737

8.27

20

سکم

618

100.00

21

تمل ناڈو

5,66,006

44.09

22

تلنگانہ

3,08,972

35.83

23

تریپورہ

30,287

100.00

24

اتر پردیش

1,07,714

2.76

25

اتراکھنڈ

3,883

46.49

26

مغربی بنگال

8,499

0.26

 

کل تعداد

34,89,919

13.02

مرکز کے زیر انتظام علاقے

 

 

1

انڈمان اور نکوبار

12,894

49.71

2

دہلی

393

11.75

3

دمن اور دیو

7,720

19.29

4

جموں و کشمیر

25,655

100.00

5

لکشدویپ

2,111

32.39

6

لداخ

470

100.00

7

پڈوچیری

35,188

32.80

 

کل تعداد

84,429

42.11

 

کل مجموعی تعداد

35,74,348

13.23

یہ معلومات ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

************

ش ح ۔ش ب۔ش ت

UN-NO-829


(रिलीज़ आईडी: 2290907) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil