بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ساحلی کارگو کے فروغ کی اسکیم
प्रविष्टि तिथि:
28 JUL 2026 4:39PM by PIB Delhi
مرکزی بجٹ 2026 میں 2047 تک اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں اور ساحلی جہاز رانی کا حصہ 6 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنے کے لیے کوسٹل کارگو پروموشن اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ فی الحال مجوزہ کوسٹل کارگو پروموشن اسکیم تشکیل کے مرحلے میں ہے۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت مختلف اقدامات کے ذریعے ساحلی جہاز رانی کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل رہی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- ساحلی کارگو جہازوں کے لیے پورٹ چارجز (جہاز اور کارگو سے متعلق فیس) پر 40 فیصد رعایت فراہم کی جاتی ہے۔
- ساحلی جہازوں کے لیے ترجیحی برتھنگ پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ ساحلی جہازوں کے ٹرن اراؤنڈ ٹائم کو کم کیا جا سکے اور ان کے استعمال کو بہتر بنایا جا سکے۔
- ہندوستانی پرچم بردار جہازوں کے ذریعے استعمال ہونے والے بنکر ایندھن پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔
- بندرگاہوں پر ساحلی کارگو کے تیز رفتار انخلا (کلیئرنس) کو یقینی بنانے کے لیے گرین چینل کلیئرنس سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔
- ساحلی جہاز رانی کو فروغ دینے کے لیے ساحلی جہاز رانی ایکٹ، 2025 نافذ کیا گیا ہے۔
- بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت نے ساگرمالا اسکیم کے تحت رو-رو، رو-پیکس اور مسافر فیری خدمات کو فروغ دینے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے 30 منصوبوں کے لیے مالی امداد کی منظوری دی ہے۔ ان میں سے 739 کروڑ روپے کی لاگت کے 18 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔
- مثال کے طور پر، مکمل شدہ منصوبوں کے نتیجے میں ریاست گجرات میں گھوگھا-ہزیرہ روٹ پر رو-پیکس فیری سروس نے 12 گھنٹے کے سڑک کے سفر کو کم کرکے 4 گھنٹے کے سمندری سفر تک محدود کر دیا ہے۔ اسی طرح، ریاست مہاراشٹر میں ممبئی-منڈوا روٹ پر رو-پیکس فیری سروس نے علی باغ تک سفر کا وقت سڑک کے ذریعے 4 گھنٹے سے کم کرکے سمندری راستے سے صرف 1 گھنٹہ کر دیا ہے۔
- رو-پیکس اور مسافر فیری خدمات سے 65 لاکھ سے زیادہ مسافروں اور 15 لاکھ سے زیادہ گاڑیوں اور کارگو لے جانے والے ٹرکوں کو فائدہ پہنچا ہے۔
- ساحلی کارگو جہازوں کے لیے پورٹ چارجز (جہاز اور کارگو سے متعلق فیس) پر 40 فیصد رعایت فراہم کی جاتی ہے۔
10 بڑی بندرگاہوں پر مخصوص ساحلی برتھ تیار کیے گئے ہیں۔ تفصیلات ضمیمہ-I میں دستیاب ہیں۔
ضمیمہ-I
|
شمار نمبر
|
بندرگاہ
|
مخصوص ساحلی برتھوں کی تعداد
|
|
1
|
چنئی پورٹ اتھارٹی (ChPA)
|
1
|
|
2
|
کوچین پورٹ اتھارٹی (CoPA)
|
1
|
|
3
|
کامراجار پورٹ لمیٹڈ (KPL)
|
2
|
|
4
|
جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی (جے این پی اے)
|
1
|
|
5
|
پیرا دیپ پورٹ اتھارٹی (پی پی اے)
|
5
|
|
6
|
وی او چدمبرانار پورٹ اتھارٹی (VOCPA)
|
1
|
|
7
|
وشاکھاپٹنم پورٹ اتھارٹی (VPA)
|
1
|
|
8
|
ممبئی پورٹ اتھارٹی (MbPA)
|
3
|
|
9
|
سیاما پرساد مکھرجی پورٹ اتھارٹی (SMPA)
|
3
|
|
10
|
نیو منگلور وپورٹ اتھارٹی (NMPA)
|
2
|
یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر، سربانند سونووال نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
***
UR-770
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2290749)
आगंतुक पटल : 7