دیہی ترقیات کی وزارت
پی ایم اے وائی – جی کے تحت ہدف بند اور منظور شدہ مکانات
प्रविष्टि तिथि:
28 JUL 2026 6:26PM by PIB Delhi
مرکزی کابینہ نے اسکیم کے نئے مرحلے میں 2 کروڑ اضافی مکانات کی تعمیر کے لیے مالی برس 2024-25 سے 2028-29 کے دوران پی ایم اے وائی- جی کو جاری رکھتے ہوئے تجویز کو منظوری دی۔ قومی سطح پر ریاستوں کے لیے مختص کردہ مجموعی طور پر 1.22 کروڑ مکانات میں سے 97.48 لاکھ مکانات کو پی ایم اے وائی – جی کے نئے مرحلے کے تحت منظوری دی جا چکی ہے۔
مالی برس 2024-25 کے بعد سے، پی ایم اے وائی-جی کے تحت 49407.96 کروڑ روپے کے بقدرکا مرکز کا مجموعی حصہ ریاستوں کے لیے جاری کیا گیا۔ مجموعی طور پر 88426.76 کروڑ روپے کے بقدر کی رقم استعمال میں لائی جا چکی ہے(پی ایم اے وائی-جی کے رہنما خطوط کے مطابق اس میں ریاستی حکومت کا برابر کا حصہ بھی شامل ہے)
زمینی سطح پر نافذ کرنے والے بنیادی حکام ریاستی حکومتیں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ ہیں۔ جیسا کہ ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی طرف سے رپورٹ کیا گیا ہے، منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں مستفیدین کی عدم آمادگی، مستقل ہجرت، فوت شدہ مستفید ہونے والوں کا متنازعہ جانشینی کا معاملہ، ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی طرف سے بے زمین مستفید ہونے والوں کو زمین کی الاٹمنٹ میں تاخیر، بعض اوقات عام/اسمبلی/پنچایت انتخابات، عمارتی سامان کی عدم دستیابی اور ریاستی خزانے سے پی ایم اے وائی-جی کے اسٹیٹ نوڈل اکاؤنٹ میں فنڈز کے اجرا میں تاخیر شامل ہیں۔
وزارت باقاعدگی سے ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی جانب سے رپورٹ کردہ پیش رفت کا جائزہ لیتی ہے اور نفاذ سے متعلق مسائل کے بروقت حل کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کرتی ہے۔
یہ جانکاری وزیر مملکت برائے دیہی ترقیات ڈاکٹر چندر شیکھر پیماسانی کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔
*********
(ش ح –ا ب ن)
U.No:801
(रिलीज़ आईडी: 2290741)
आगंतुक पटल : 5