ادویات سازی کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

ضروری ادویات کی قیمتوں کا ضابطہ

प्रविष्टि तिथि: 28 JUL 2026 3:30PM by PIB Delhi

ادویات کی قیمتوں کو ڈرگز (پرائسز کنٹرول) آرڈر- 2013 (ڈی پی سی او- 2013) کی دفعات کے مطابق منظم کیا جاتا ہے۔ موجودہ ضوابط کے تحت قومی دواسازی قیمتوں کی اتھارٹی (این پی پی اے) ،ڈی پی سی او- 2013کےشیڈول-I میں شامل ادویات کی زیادہ سے زیادہ قیمت (سیلنگ پرائس) مقرر کرتی ہے۔ یہ فہرست وزارت صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری کردہ قومی فہرست ضروری ادویات (این ایل ای ایم) پر مبنی ہوتی ہے۔این ایل ای ایم-2022 میں29 علاجی زمروں کے تحت388 ادویات شامل ہیں۔23 جولائی 2026 تک این پی پی اے 935 شیڈول شدہ ادویاتی فارمولیشنز کی زیادہ سے زیادہ قیمتیں مقرر کر چکی ہے۔

این پی پی اے ڈی پی سی او- 2013کی شق 2(1)(یو) میں بیان کردہ نئی ادویات کی خردہ قیمتیں بھی مقرر کرتی ہے۔ اس میں وہ فارمولیشنز شامل ہیں جو این ایل ای ایم میں درج کسی دوا کو دوسری دوا کے ساتھ ملا کر یا اس کی طاقت(اسٹرینگتھ) ، خوراک (ڈوزیجز) یا دونوں میں تبدیلی کرکے موجودہ مینوفیکچررز کی جانب سے متعارف کرائی جاتی ہیں۔ نئی ادویات کی مقررہ خردہ قیمتیں صرف درخواست گزار صنعت کار اور فروخت کنندہ پر لاگو ہوتی ہیں اور وہ این پی پی اے کی مقررہ قیمت سے زیادہ پر دوا فروخت نہیں کر سکتے۔23 جولائی 2026 تک این پی پی اے3,845 نئی ادویات کی خردہ قیمتیں مقرر کر چکی ہے۔

مزید برآں، غیر شیڈول شدہ فارمولیشنزکے معاملے میں صنعت کار کسی دوا کی زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت (ایم آر پی) میں گزشتہ12 ماہ کے دوران اس کی سابقہ ایم آر پی کے مقابلے میں 10 فیصدسے زیادہ اضافہ نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ، غیر معمولی حالات میں عوامی مفاد کے پیش نظر این پی پی اے ڈی پی سی او- 2013 کی شق -19 کے تحت کسی بھی دوا کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔ این پی پی اے کی جانب سے مقرر یا نظرثانی شدہ قیمتوں کی تفصیلات اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔

این پی پی اے ادویات کی دستیابی اورقابل استطاعت قیمتوں کا مسلسل جائزہ لیتی رہتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر حکومت ڈی پی سی او، 2013 کی دفعات کے تحت ضروری اقدامات کرتی ہے تاکہ عوام کو مناسب قیمت پر ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔

ادویات کی زیادہ قیمت وصول کرنے کی روک تھام کے لیےڈی پی سی او- 2013کے تحت ہر صنعت کار کے لیے لازم ہے کہ وہ دوا کے ہر پیک یا  پاٹس پر اس کی زیادہ سے زیادہ خردہ قیمت (ایم آر پی) واضح طور پر درج کرے۔ اس کے علاوہ، کسی بھی شخص کو کسی دوا کو موجودہ قیمت کی فہرست یا پیک پر درج قیمت، دونوں میں سے جو بھی کم ہو، اس سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مزید یہ کہ این پی پی اے شیڈول شدہ اور غیر شیڈول شدہ دونوں اقسام کی ادویات کی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کرتی ہے اور اگر کسی کمپنی کی جانب سے صارفین سے زائد قیمت وصول کرنے کی شکایت موصول ہو، خواہ وہ ریاستوں میں قائم پرائس مانیٹرنگ اینڈ ریسورس یونٹس، ریاستی ڈرگ کنٹرولرز، کھلے بازار سے حاصل کیے گئے نمونوں، مارکیٹ ڈیٹا بیس کی رپورٹوں یا شکایات کے ازالے کے مختلف ذرائع سے ہو، توڈی پی سی او- 2013 کی دفعات کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔

عوام کو مناسب قیمت پر ضروری ادویات تک رسائی فراہم کرنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجناکے تحت ملک بھر میں20,000 سے زائد جن اوشدھی کیندرقائم کیے گئے ہیں، جہاں معیاری جنیرک ادویات برانڈڈ ادویات کے مقابلے میں عموماً50 سے 80 فیصدکم قیمت پر دستیاب ہیں۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی آیوشمان بھارت–پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی-پی ایم جے اے وائی) کے تحت ہر مستحق خاندان کو ثانوی اور اعلیٰ درجے کے اسپتالوں میں علاج، بشمول ادویات کے لیےسالانہ 5 لاکھ روپے تک کا صحت بیمہ فراہم کیا جاتا ہے۔

قومی صحت مشن کے تحت فری ڈرگز سروس انی شی ایٹیو کے ذریعے انڈین پبلک ہیلتھ اسٹینڈرڈز (آئی پی ایچ ایس) کے مطابق تجویز کردہ ضروری ادویات ملک بھر کے سرکاری صحت مراکز، یعنی پرائمری ہیلتھ سینٹرز (پی ایچ سیز) سے لے کر ضلع اسپتالوں تک، بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہیں۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود کے امرت (سستی ادویات اور قابلِ اعتماد امپلانٹس برائے علاج) اقدام کے تحت کینسر، قلبی امراض اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات، امپلانٹس، جراحی میں استعمال ہونے والا سامان اور دیگر ضروری طبی اشیا مختلف اسپتالوں اور صحت کے اداروں میں قائم امرت فارمیسیوں کے ذریعے مارکیٹ قیمت کے مقابلے میں اوسطاً  50 فیصد تک رعایت پر فراہم کی جاتی ہیں۔

راشٹریہ آروگیہ ندھی اور وزیرصحت کے صوابدیدی گرانٹ کی جامع اسکیم کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے ایسے مریضوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے جو کینسر سمیت جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہوں۔

یہ معلومات کیمیکلز اور کھاد کی وزارت میں وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے آج ایوان بالا- راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔Bottom of 

*****

ش ح- ظ الف- ت ع

UR-763


(रिलीज़ आईडी: 2290685) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu