کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کوئلے کی درآمدات میں کمی

प्रविष्टि तिथि: 27 JUL 2026 5:11PM by PIB Delhi

مالی سال 2025-26 کے دوران حرارتی بجلی گھروں نے مجموعی طور پر 4 کروڑ 54 لاکھ ٹن کوئلہ درآمد کیا، جبکہ مالی سال 2024-25 میں یہ مقدار 6 کروڑ 25 لاکھ ٹن تھی۔ اس طرح کوئلے کی درآمدات میں تقریباً 27.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح، درآمدی کوئلے پر مبنی بجلی گھروں نے اپریل 2026 میں 28 لاکھ 80 ہزار ٹن کوئلہ درآمد کیا، جبکہ اپریل 2025 میں یہ مقدار 39 لاکھ 70 ہزار ٹن تھی، جو تقریباً 27.45 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

بجلی کے شعبے میں درآمدی کوئلے پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:

  1. بجلی گھروں کی سالانہ معاہدہ شدہ کوئلہ مقدار (اے سی کیو) کو ان تمام صورتوں میں معیاری ضرورت کے 100 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے، جہاں پہلے یہ مقدار غیر ساحلی بجلی گھروں کے لیے 90 فیصد اور ساحلی بجلی گھروں کے لیے 70 فیصد مقرر تھی۔ اس اقدام سے مقامی کوئلے کی فراہمی میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں درآمدی کوئلے پر انحصار کم ہوگا۔
  2. حکومت نے 2022 میں فیصلہ کیا تھا کہ بجلی کے شعبے کے تمام موجودہ لنکیج ہولڈرز کو ان کے بجلی خریداری معاہدے (پی پی اے) کی مکمل ضرورت کے مطابق کوئلہ فراہم کیا جائے گا، خواہ مقررہ حد( ٹرگر لیول) یا اے سی کیو کی سطح کچھ بھی ہو۔ اس فیصلے سے بجلی کے شعبے میں درآمدی کوئلے پر انحصار مزید کم ہونے کی توقع ہے۔
  3. درآمدی کوئلے پر مبنی (آئی سی بی) بجلی گھروں کو نظرثانی شدہ شکتی پالیسی 2025 کے تحت کوئلہ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت ان بجلی گھروں کو مقامی کوئلہ دستیاب ہونے سے درآمدی کوئلے پر ان کا انحصار کم ہوگا۔
  4. اسی طرح، موجودہ فیول سپلائی ایگریمنٹ ( ایف ایس اے) رکھنے والے اداروں کو بھی نظرثانی شدہ شکتی پالیسی 2025 کے تحت، موجودہ معاہدے کے مطابق اے سی کیو کا 100 فیصد کوئلہ حاصل کرنے کے بعد اضافی کوئلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اضافی فراہمی سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو اپنے بجلی گھروں کی مکمل ضرورت پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
  5. اس کے علاوہ غیر ضابطہ بند شعبے کے لیے لنکیج نیلامی کے تحت قائم کیے گئے نئے کول سیتو پلیٹ فارم کے ذریعے کوئلے کی فراہمی سے ملک میں دھوئے گئے (واشڈ) کوئلے کی دستیابی میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں درآمدی کوئلے کی ضرورت مزید کم ہو جائے گی۔

کوئلے کی وزرات نے متعلقہ وزارتوں اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے جامع کوئلہ لاجسٹکس منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا مقصد کوئلے کی نقل و حمل کے نظام میں موجود مسائل کا جائزہ لینا اور ان کا مؤثر حل تلاش کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 33 اہم ریلوے منصوبوں کی ترقی، فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی (ایف ایم سی) کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، وزارت ریلوے کے اشتراک سے ریل کے ذریعے کوئلے کی ترسیلی صلاحیت میں اضافہ، اور ریل، ساحلی جہاز رانی اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں پر مشتمل کثیر ذرائع نقل و حمل کو فروغ دینا شامل ہے۔

کوئلے کی ترسیل کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مالی سال30- 2029 تک 131 کروڑ 90 لاکھ ٹن سالانہ گنجائش کے حامل 139 فرسٹ مائل کنیکٹیویٹی (ایف ایم سی) منصوبے قائم کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ، کوئلہ پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیاں (پی ایس یو) کوئلہ پیدا کرنے والی ریاستوں میں کوئلے کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے آٹھ ریلوے منصوبوں پر بھی عمل درآمد کر رہی ہیں۔

موجودہ درآمدی پالیسی کے تحت کوئلہ اوپن جنرل لائسنس (اوجی ایل) کے زمرے میں شامل ہے، لہٰذا صارفین اپنی ضرورت اور معاہدے کی قیمت کے مطابق، مقررہ درآمدی ڈیوٹی ادا کرکے اپنی پسند کے کسی بھی ملک سے کوئلہ درآمد کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ تاہم، حکومت نے درآمدی کوئلے پر مبنی (آئی سی بی) بجلی گھروں کو نظرثانی شدہ شکتی پالیسی 2025 کے تحت مقامی کوئلہ حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔حکومت کی ترجیح ملک میں مقامی کوئلے کی پیداوار میں اضافہ کرنا اور غیر ضروری کوئلہ درآمدات کا خاتمہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت جی ایس ٹی معاوضہ سیس (جی ایس ٹی) ختم کیے جانے سے مقامی کوئلہ درآمدی کوئلے کے مقابلے میں زیادہ مسابقتی اور معاشی طور پر فائدہ مند ہو گیا ہے۔

اس کے علاوہ کوئلہ پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیاں (پی ایس یوز) متعلقہ ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف شعبوں کو مناسب اور قابلِ برداشت قیمتوں پر کوئلہ فراہم کرتی رہی ہیں۔ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران کول انڈیا لمیٹڈ (سی آئی ایل) کی زیادہ تر اقسام کے کوئلے کی سرکاری مقررہ قیمت میں صرف 20 روپے فی ٹن کا معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، کول انڈیا لمیٹڈ نے 2026 میں (جون 2026 تک) نظرثانی شدہ شکتی پالیسی کے ونڈو-II کے تحت مختصر مدتی نیلامی کے تین مرحلے اور طویل/درمیانی مدت کی نیلامی کا ایک مرحلہ کامیابی سے منعقد کیا۔ ان نیلامیوں میں بجلی گھروں کے لیے وافر مقدار میں کوئلہ دستیاب کرایا گیا، جس سے انہیں انتہائی معمولی اضافی قیمت پر اپنی مختصر، درمیانی اور طویل مدتی ضروریات کے مطابق کوئلہ حاصل کرنے میں سہولت ملی۔

یہ معلومات کوئلے اور کانوں کے مرکزی وزیر مملکت جناب ستیش چندر دوبے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کی۔

******

ش ح۔ ش آ۔ ص ج

U.NO. 713


(रिलीज़ आईडी: 2290243) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu