کوئلے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کوئلہ کو گیس کی شکل میں تبدیل کرنے اور ماحولیات کے لیے سازگار کوئلہ ٹیکنالوجی کا فروغ

प्रविष्टि तिथि: 27 JUL 2026 5:12PM by PIB Delhi

قومی کوئلہ گیسیفیکیشن مشن نے 2030 تک 100 ملین ٹن (ایم ٹی)کوئلہ گیسیفیکیشن صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ فی الحال تقریباً 22.6 ملین ٹن سالانہ (ایم ٹی پی اے) کوئلہ گیسیفیکیشن صلاحیت یا تو فعال ہے یا اس پر عمل درآمد جاری ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

(i) جندل اسٹیل لمیٹڈ (جے ایس ایل): تقریباً 8 ایم ٹی پی اے (فعال)

(ii) تلچر فرٹیلائزرز لمیٹڈ (ٹی ایف ایل): تقریباً 2.6 ایم ٹی پی اے (عمل درآمد کے مرحلے میں)

(iii) مؤرخہ 24 جنوری2024  کو منظور شدہ 8,500 کروڑ روپے کی مالی مراعاتی اسکیم کے تحت 8 منصوبے: تقریباً 12 ایم ٹی پی اے (عمل درآمد کے مرحلے میں)

حکومت نے 13مئی2026کو سطحی کوئلہ/لگنائٹ گیسیفیکیشن منصوبوں کے فروغ کے لیے 37,500 کروڑ روپے کے مالی حجم والی ایک اسکیم کو منظوری دی ہے۔ توقع ہے کہ اس نئی اسکیم کے تحت تقریباً 75 ایم ٹی پی اے کوئلہ استعمال کیا جائے گا، جس سے 100 ایم ٹی کوئلہ گیسیفیکیشن کے ہدف کے حصول میں نمایاں مدد ملے گی۔

24.01.2024 کو منظور شدہ 8,500 کروڑ روپے کی کوئلہ/لگنائٹ گیسیفیکیشن فروغ اسکیم کے تحت آٹھ (8) کوئلہ گیسیفیکیشن منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے۔ ان میں سے جنڈال اسٹیل لمیٹڈ (جے ایس ایل) کے ایک منصوبے نے مالی انتظام مکمل کر لیا ہے اور تعمیراتی کام جاری ہے۔ مجموعی طور پر پانچ منصوبوں میں سنگِ بنیاد رکھے جانے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور وہ مختلف منظوریوں کے حصول یا عمل درآمد کے مراحل میں ہیں۔

کوئلہ گیسیفیکیشن منصوبوں کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے مالی معاونت، کوئلے کی فراہمی اور پالیسی تعاون کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مالی مراعات:8,500 کروڑ روپے کی اسکیم کے تحت سرمایہ جاتی اخراجات (کیپیکس) کا 15 فیصد تک مالی تعاون اور 37,500 کروڑ روپے کی اسکیم کے تحت پلانٹ اور مشینری کی اہل لاگت کا 20 فیصد تک مالی تعاون فراہم کیا جائے گا۔

کوئلے کی فراہمی میں معاونت:کوئلہ کو گیس کی شکل میں تبدیل کرنے کے لیے کوئلے کی دستیابی کو یقینی بنانے کی غرض سے کوئلے کی نیلامی کے ذریعے فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ’’کوئلہ گیسیفیکیشن کے لیے سنتھیٹک گیس (سِنگیس) کی پیداوار‘‘ کے نام سے ایک نیا شعبہ متعارف کرایا گیا ہے، جس میں کم از کم قیمت بجلی کے شعبے کے برابر رکھی گئی ہے۔ کوئلے کی فراہمی کی مدت بھی بڑھا کر 30 سال کر دی گئی ہے۔ اگر کسی منصوبے کے پاس نیلام شدہ کوئلے کی کان موجود ہے تو اسے مختص کان کی گنجائش سے زیادہ کوئلہ فراہمی کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

پالیسی تعاون:گیسیفیکیشن کے لیے استعمال ہونے والے کوئلے کی آمدنی میں حکومت کے حصے پر 50 فیصد رعایت دی گئی ہے۔ حکومت نے زیرِ زمین کوئلہ گیسیفیکیشن (یو سی جی)کے لیے ضوابط اور رہنما اصول جاری کیے ہیں اور پائلٹ منصوبے شروع کرنے کے لیے استثنا بھی فراہم کیا ہے۔ یو سی جی کے لیے کوئلے کے بلاک کی نیلامی کی صورت میں کم از کم قیمت کو زیرِ زمین کان کنی کے لیے مقررہ 4 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا گیا ہے۔ پیشگی ادائیگی سے چھوٹ اورپرفارمنس بینک گارنٹی میں 50 فیصد رعایت کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

بھارت کی برکس صدارت کے دوران وزارتِ کوئلہ نے 24.06.2026 کو ماحولیات کے لیے سازگار کوئلہ ٹیکنالوجی کے موضوع پر ایک برکس ضمنی اجلاس منعقد کیا، جس میں خصوصی توجہ کوئلہ کو گیس کی شکل میں تبدیل کرنے کے عمل پر مرکوز رہی۔ اس اجلاس کے ذریعے برکس ممالک کے درمیان ماحولیات کے لیے سازگار کوئلہ ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات اور بہترین طریقۂ کار کا تبادلہ ہوا۔

کوئلہ کو گیس کی شکل میں تبدیل کرنے کے عمل کے ذریعے گھریلو کوئلے کا زیادہ سازگار اور قدر افزودہ استعمال ممکن ہو سکے گا، جس سے مصنوعی قدرتی گیس، کیمیکل، کھاد، ہائیڈروجن اور دیگر مصنوعات تیار کی جا سکیں گی اور درآمدی انحصار کم ہوگا۔ ان اقدامات سے توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، درآمدات کے متبادل کو فروغ دینے، قدر میں اضافے والی صنعتی پیداوار بڑھانے، سرمایہ کاری راغب کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ماحولیات کے لیے سازگار کوئلہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملنے کی توقع ہے۔8,500 کروڑ روپے کی اسکیم، 37,500 کروڑ روپے کی اسکیم اور تلچر فرٹیلائزرز لمیٹڈ کے منصوبوں کے مکمل ہونے کے بعد کوئلہ/لگنائٹ گیسیفیکیشن کے ذریعے درآمدی متبادل کی مالیت تقریباً 1.5 لاکھ کروڑ روپے سالانہ ہونے کی توقع ہے۔

یہ معلومات کوئلہ و کانکنی کے مرکزی وزیرمملکت جناب ستیش چندر دوبے نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

*********

 ش ح۔ک  ح۔ش ت

Urdu No-674


(रिलीज़ आईडी: 2290095) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil , Telugu