ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
این اے پی ایس-2 کی نمایاں خصوصیات
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 3:57PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند نے اگست 2016 میں‘نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم’ (این اے پی ایس)کا آغاز اپرنٹس شپ تربیت کو فروغ دینے اور اپرنٹس کی شمولیت میں اضافہ کرنے کے مقصد سے کیا تھا۔ سال 2023-2022 سے یہ اسکیم این اے پی ایس-2 کے طور پر جاری ہے اور پورے ملک میں نافذ کی جا رہی ہے۔
این اے پی ایس-2 کے تحت حکومت اپرنٹس ایکٹ، 1961 کے تحت شامل اپرنٹس کو وظیفہ (اسٹائپنڈ) کی جزوی معاونت فراہم کرتی ہے۔ حکومت کی جانب سے وظیفے کا حصہ براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی)نظام کے ذریعے اپرنٹس کے بینک کھاتوں میں منتقل کیا جاتا ہے، جس سے شفافیت اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
اداروں، ریاستی حکومتوں اور سیکٹر اسکل کونسلز سے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر اور زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے، صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی)سے منسلک کم از کم وظیفہ شرحوں میں نظرثانی کی تجویز پر 26 مئی 2025 کو منعقدہ مرکزی اپرنٹس شپ کونسل (سی اے سی) کے 38ویں اجلاس میں غور کیا گیا اور اسے منظور کیا گیا۔ بعد ازاں نظرثانی شدہ وظیفہ شرحوں کو 11ستمبر2025 کی گزٹ اطلاع کے ذریعے جاری کیا گیا۔
این اے پی ایس -2کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے مالی معاونت:حکومت اپرنٹس ایکٹ، 1961 کے تحت اداروں کی جانب سے شامل کیے گئے اہل اپرنٹس کو وظیفے کی معاونت فراہم کرتی ہے۔ حکومت کا حصہ براہِ راست فائدہ منتقلی (DBT) نظام کے ذریعے مستحقین کو جاری کیا جاتا ہے تاکہ شفافیت اور بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
صنعت کی زیرِ قیادت تربیت:اپرنٹس شپ تربیت حقیقی کام کے ماحول میں شریک اداروں میں دستیاب تربیتی سہولیات کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے، جس سے عملی سیکھنے اور صنعت سے واقفیت کا موقع حاصل ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر نفاذ:ایک مخصوص آن لائن پورٹل، www.apprenticeshipindia.gov.in، اپرنٹس شپ تربیت کے مکمل نفاذ میں سہولت فراہم کرتا ہے، جس میں رجسٹریشن، معاہدے کی منظوری، نگرانی اور فوائد کی تقسیم شامل ہیں۔
ٹی پی اے کے ذریعے سہولت کاری:اپرنٹس اور اداروں، خصوصاً چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، کو شامل کرنے کے عمل میں فہرست میں شامل تیسرے فریق کے معاون اداروں (ٹی پی ایز) کے ذریعے مدد فراہم کی جاتی ہے۔
بیداری اور رسائی کے اقدامات:اپرنٹس شپ میں شمولیت کو فروغ دینے اور بیداری پیدا کرنے کے لیے باقاعدگی سے پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلوں (پی ایم این اے ایم) کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
مالی سال 2019-2018 سے مالی سال 2027-2026 تک (30 جون 2026 تک) ملک بھر میں این اے پی ایس کے تحت کل 52,98,397 اپرنٹس کو شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں، اپرنٹس شپ پورٹل پر 57,945 اداروں کا اندراج کیا گیا ہے، جن میں سے 38,936 چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (ایم ایس ایم ای) ہیں۔
اسکیم کے تحت شامل کئے گئے اپرنٹس اور شریک اداروں کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات، بشمول کرناٹک کی ضلع وار تفصیلات، ضمیمہ کی جدولI اور جدولII میں فراہم کی گئی ہیں۔
اسکیم کے تحت جولائی 2023 سے شروع ہونے والے براہِ راست فائدہ منتقلی کے ذریعے تقسیم کی گئی وظیفہ معاونت میں حکومت کے حصے کی تفصیلات، بشمول کرناٹک، ضمیمہ کی جدولIII میں دی گئی ہیں۔
ارون جیٹلی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فنانشل مینجمنٹ (اے جے این آئی ایف ایم) کے ذریعے کی گئی این اے پی ایس کی تیسرے فریق کی تشخیصی تحقیق سے اسکیم کے تحت روزگار کے مثبت نتائج ظاہر ہوئے ہیں۔ مطالعے میں بتایا گیا کہ اپرنٹس شپ تربیت مکمل کرنے کے بعد تقریباً 72 فیصد اپرنٹس کو مستقل روزگار کی پیشکش کی گئی۔ نتائج سے مزید ظاہر ہوتا ہے کہ اپرنٹس شپ تربیت سے روزگار کی طرف منتقلی کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں اپرنٹس کی آمدنی کی سطح اور روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
حکومت جون 2022 سے ملک کے مختلف مقامات پر ماہانہ بنیاد پر پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلہ (پی ایم این اے ایم) کا انعقاد کر رہی ہے۔ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر ماہ کل اضلاع کے ایک تہائی حصے میں ہر دوسرے پیر کو پی ایم این اے ایم کا انعقاد کریں۔ مقامی حالات، تہواروں وغیرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع، مقام اور میلے کے دن کے انتخاب میں لچک رکھی گئی ہے، تاکہ تمام اضلاع کو ہر سہ ماہی میں ایک بار اور سال میں چار بار شامل کیا جا سکے۔
جون 2022 سے ملک بھر میں 7,370 پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلوں (پی ایم این اے ایم) کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ کرناٹک میں 156 پی ایم این اے ایم منعقد کیے گئے ہیں۔ منعقد کیے گئے پی ایم این اے ایم اور ان کے تحت شامل کیے گئے امیدواروں کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ کی جدول-IV میں دی گئی ہیں۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی)، 2020 میں پیشہ ورانہ تعلیم کو عمومی تعلیم کے ساتھ مزید مربوط کرنے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ راستوں کے درمیان آسان منتقلی کو فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسی تصور کے مطابق، اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام (اے ای ڈی پ ی) ، جو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اےآئی سی ٹی ای) کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے، ڈگری اور ڈپلومہ پروگراموں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو اپنے نصاب کے لازمی حصے کے طور پر اپرنٹس شپ تربیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پروگرام روزگار کے حصول کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، نتائج پر مبنی سیکھنے کو فروغ دیتا ہے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بناتا ہے اور صنعت سے متعلقہ مہارتوں کے حصول میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
مزید برآں، اداروں میں اپرنٹس شپ تربیت مقررہ شعبوں اور اختیاری شعبوں دونوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت اطلاعاتی ٹیکنالوجی (آئی ٹی)حیاتیاتی ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز، ڈرونز، لاجسٹکس اور دیگر تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں بھی اپرنٹس شپ کے مواقع کو فروغ دے رہی ہے۔
ضمیمہ
جدول-1:مالی سال 2019-2018 سے مالی سال 2027-2026 تک (30 جون 2026 تک) اسکیم کے تحت شامل کیے گئے اپرنٹس اور شریک اداروں (بشمول چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں) کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات، بشمول کرناٹک، درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے
|
این اے پی ایس کے تحت اپرنٹس کو شامل کرنے والے اداروں کی تعداد
|
این اے پی ایس کے تحت مشغول اپرنٹس کی تعداد
|
|
1.
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
26
|
569
|
| |
آندھرا پردیش
|
1,364
|
1,17,246
|
| |
اروناچل پردیش
|
35
|
446
|
| |
آسام
|
1,049
|
53,738
|
| |
بہار
|
856
|
37,050
|
| |
چندی گڑھ
|
206
|
7,022
|
| |
چھتیس گڑھ
|
381
|
32,728
|
| |
دہلی
|
3,321
|
1,33,771
|
| |
گوا
|
556
|
49,960
|
| |
گجرات
|
13,755
|
5,65,729
|
| |
ہریانہ
|
6,568
|
3,99,524
|
| |
ہماچل پردیش
|
859
|
48,947
|
| |
جموں و کشمیر
|
686
|
5,878
|
| |
جھارکھنڈ
|
539
|
59,921
|
| |
کرناٹک
|
3,189
|
4,47,703
|
| |
کیرالہ
|
2,172
|
78,383
|
| |
لداخ
|
16
|
204
|
| |
لکشدیپ
|
2
|
59
|
| |
مدھیہ پردیش
|
1,394
|
1,49,759
|
| |
مہاراشٹر
|
10,802
|
13,46,717
|
| |
منی پور
|
39
|
609
|
| |
میگھالیہ
|
51
|
1,212
|
| |
میزورم
|
28
|
473
|
| |
ناگالینڈ
|
34
|
176
|
| |
اوڈیشہ
|
855
|
61,896
|
| |
پڈوچیری
|
284
|
17,048
|
| |
پنجاب
|
1,218
|
96,176
|
| |
راجستھان
|
1,292
|
1,15,488
|
| |
سکم
|
92
|
2,249
|
| |
تمل ناڈو
|
3,446
|
5,41,317
|
| |
تلنگانہ
|
1,630
|
2,27,138
|
| |
دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
156
|
14,708
|
| |
تریپورہ
|
118
|
2,771
|
| |
اتر پردیش
|
8,005
|
4,10,215
|
| |
اتراکھنڈ
|
935
|
1,15,059
|
| |
مغربی بنگال
|
1,713
|
1,56,508
|
جدول-IIمالی سال 2019-2018 سے مالی سال 2027-2026 تک (30 جون 2026 تک) کرناٹک ریاست میں اسکیم کے تحت شامل کیے گئے اپرنٹس اور شریک اداروں (بشمول چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں) کی ضلع وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
ضلع
|
این اے پی ایس کے تحت اپرنٹس کو شامل کرنے والے اداروں کی تعداد
|
این اے پی ایس کے تحت مشغول اپرنٹس
|
| |
باگل کوٹ
|
46
|
1,013
|
| |
بلاری
|
116
|
9,298
|
| |
بیلگاوی
|
228
|
10,731
|
| |
بنگلورو دیہی
|
609
|
59,752
|
| |
بنگلورو اربن
|
1,756
|
2,16,391
|
| |
بیدر
|
95
|
1,168
|
| |
چامراج نگر
|
37
|
1,885
|
| |
چکبالاپور
|
35
|
1,469
|
| |
چکمگلورو
|
33
|
463
|
| |
چتردرگا
|
35
|
665
|
| |
دکشینا کنڑ
|
171
|
4,783
|
| |
داونگیرے
|
74
|
915
|
| |
دھارواڑ
|
170
|
10,669
|
| |
گدگ
|
33
|
758
|
| |
حسن
|
77
|
6,181
|
| |
ہاویری
|
41
|
2,826
|
| |
کالابورگی۔
|
140
|
7,737
|
| |
کوڈاگو
|
29
|
627
|
| |
کولار
|
103
|
16,727
|
| |
کوپل
|
52
|
2,923
|
| |
منڈیا۔
|
56
|
2,176
|
| |
میسور
|
269
|
18,739
|
| |
رائچور
|
52
|
2,172
|
| |
رامان نگر
|
109
|
53,484
|
| |
شیوموگا
|
56
|
882
|
| |
تماکورو
|
113
|
8,617
|
| |
اڈوپی
|
68
|
1,396
|
| |
اترا کنڑ
|
44
|
1,823
|
| |
وجئے نگر
|
23
|
460
|
| |
وجئے پورہ
|
58
|
856
|
| |
یادگیر
|
17
|
117
|
جدول-III: اسکیم کے تحت براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے تقسیم کیے گئے وظیفے کی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات، بشمول کرناٹک، درج ذیل ہیں:
کروڑ روپے میں
|
نمبر شمار
|
ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
2026-27
|
Total
|
-
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
0.03
|
0.05
|
0.03
|
0.01
|
0.12
|
| |
آندھرا پردیش
|
11.35
|
18.32
|
21.97
|
7.57
|
59.21
|
| |
اروناچل پردیش
|
0.14
|
0.24
|
0.37
|
0.07
|
0.82
|
| |
آسام
|
4.81
|
5.05
|
10.31
|
2.28
|
22.45
|
| |
بہار
|
15.59
|
24.48
|
26.74
|
9.03
|
75.84
|
| |
چندی گڑھ
|
0.24
|
0.33
|
0.41
|
0.16
|
1.14
|
| |
چھتیس گڑھ
|
2.8
|
3.87
|
4.45
|
1.49
|
12.61
|
| |
دہلی
|
4.47
|
9.14
|
12.19
|
3.91
|
29.71
|
| |
گوا
|
0.78
|
1.28
|
1.51
|
0.44
|
4.01
|
| |
گجرات
|
14.34
|
27.31
|
29.24
|
9.6
|
80.49
|
| |
ہریانہ
|
6.98
|
10.62
|
10.64
|
3.55
|
31.79
|
| |
ہماچل پردیش
|
3.43
|
4.61
|
4.65
|
1.67
|
14.36
|
| |
جموں و کشمیر
|
0.4
|
0.8
|
1.02
|
0.28
|
2.5
|
| |
جھارکھنڈ
|
8.13
|
13.58
|
14.17
|
4.47
|
40.35
|
| |
کرناٹک
|
20.11
|
32.9
|
35.08
|
10.69
|
98.78
|
| |
کیرالہ
|
5.93
|
10.77
|
10.64
|
3.19
|
30.53
|
| |
لداخ
|
0
|
0
|
0.01
|
0
|
0.01
|
| |
لکشدیپ
|
0
|
0.01
|
0.01
|
0
|
0.02
|
| |
مدھیہ پردیش
|
11.99
|
21.49
|
23.98
|
7.28
|
64.74
|
| |
مہاراشٹر
|
85.32
|
117.35
|
121.5
|
37.07
|
361.24
|
| |
منی پور
|
0.28
|
0.61
|
1.56
|
0.29
|
2.74
|
| |
میگھالیہ
|
0.19
|
0.28
|
1
|
0.22
|
1.69
|
| |
میزورم
|
0.13
|
0.19
|
0.67
|
0.13
|
1.12
|
| |
ناگالینڈ
|
0.12
|
0.29
|
0.58
|
0.11
|
1.1
|
| |
اوڈیشہ
|
10.73
|
13.45
|
15.94
|
4.75
|
44.87
|
| |
پڈوچیری
|
0.55
|
1.13
|
1.4
|
0.41
|
3.49
|
| |
پنجاب
|
2.69
|
4.05
|
5.33
|
2.05
|
14.12
|
| |
راجستھان
|
5.99
|
9.78
|
13.22
|
4.63
|
33.62
|
| |
سکم
|
0.09
|
0.2
|
0.43
|
0.11
|
0.83
|
| |
تمل ناڈو
|
38.05
|
59.49
|
64.47
|
19.43
|
181.44
|
| |
تلنگانہ
|
5.77
|
8.77
|
10.21
|
3.67
|
28.42
|
| |
دادرہ اور نگر حویلی اور
|
0.27
|
0.56
|
0.72
|
0.24
|
1.79
|
| |
تریپورہ
|
0.34
|
0.5
|
0.96
|
0.22
|
2.02
|
| |
اتر پردیش
|
43.3
|
70.22
|
86.59
|
27.64
|
227.75
|
| |
اتراکھنڈ
|
6.2
|
9.01
|
10.51
|
3.71
|
29.43
|
| |
مغربی بنگال
|
15.63
|
19.42
|
24.76
|
8.5
|
68.31
|
| |
کل
|
327.17
|
500.15
|
567.27
|
178.87
|
1573.46
|
جدول:IV- جون 2022 سے جون 2026 تک اسکیم کے تحت منعقد کیے گئے پی ایم این اے ایم اور ان کے ذریعے شامل کئے گئے اپرنٹس کی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر شمار
|
ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے
|
پی ایم این اے ایم مقامات
|
اپرنٹس جون 2022 سے جون 2026 تک مصروف عمل
|
| |
انڈمان اور نکوبار
|
26
|
555
|
| |
آندھرا پردیش
|
310
|
88,846
|
| |
اروناچل پردیش
|
16
|
415
|
| |
آسام
|
188
|
34,090
|
| |
بہار
|
167
|
27,022
|
| |
چندی گڑھ
|
27
|
5,522
|
| |
چھتیس گڑھ
|
302
|
22,928
|
| |
دادرا نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
20
|
12,457
|
| |
دہلی
|
133
|
89,688
|
| |
گوا
|
29
|
41,971
|
| |
گجرات
|
1,149
|
3,73,976
|
| |
ہریانہ
|
149
|
2,93,031
|
| |
ہماچل پردیش
|
142
|
38,214
|
| |
جموں و کشمیر
|
195
|
4,104
|
| |
جھارکھنڈ
|
231
|
41,350
|
| |
کرناٹک
|
156
|
3,55,773
|
| |
کیرالہ
|
123
|
57,528
|
| |
لداخ
|
5
|
180
|
| |
لکشدیپ
|
73
|
37
|
| |
مدھیہ پردیش
|
381
|
1,11,225
|
| |
مہاراشٹر
|
456
|
10,59,317
|
| |
منی پور
|
4
|
492
|
| |
میگھالیہ
|
13
|
914
|
| |
میزورم
|
4
|
464
|
| |
ناگالینڈ
|
24
|
134
|
| |
اوڈیشہ
|
286
|
43,599
|
| |
پڈوچیری
|
33
|
14,822
|
| |
پنجاب
|
336
|
73,557
|
| |
راجستھان
|
302
|
92,750
|
| |
سکم
|
33
|
1,599
|
| |
تمل ناڈو
|
459
|
4,39,944
|
| |
تلنگانہ
|
287
|
1,56,837
|
| |
تریپورہ
|
54
|
1,785
|
| |
اتر پردیش
|
634
|
3,25,161
|
| |
اتراکھنڈ
|
76
|
95,861
|
| |
مغربی بنگال
|
547
|
1,18,798
|
| |
گرینڈ ٹوٹل
|
7,370
|
40,24,946
|
یہ معلومات ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
***
ش ح۔ ک ا۔
U.NO.657
(रिलीज़ आईडी: 2290044)
आगंतुक पटल : 15