|
ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
خلائی اور جغرافیائی مکانی شعبوں کے لیے ہنرمندی کی تربیت
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 3:55PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کے اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کے تحت ہنرمندی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) ملک بھر میں، بشمول ریاست آندھرا پردیش، معاشرے کے تمام طبقات کے لیے مختلف اسکیموں کے تحت قائم وسیع نیٹ ورک کے ذریعے مہارتوں، نئی مہارتوں کی فراہمی اور موجودہ صلاحیتوں کے نکھار کی تربیت فراہم کر رہی ہے۔ اس مشن کا مقصد بھارت کے نوجوانوں کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا اور انہیں صنعت سے متعلقہ مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
حکومت خلائی اور جغرافیائی مکانی شعبوں میں ہنرمندی کے فروغ کو ہنرمندی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت کی اہم اسکیموں، یعنی پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) اور قومی اپرنٹس شپ فروغ اسکیم (این اے پی ایس) کے ذریعے فعال طور پر فروغ دے رہی ہے۔ ان اسکیموں کے تحت جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس)، مکانی اعداد و شمار کا انتظام، ڈرون ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر تیاری، مواصلات اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں قلیل مدتی تربیت، مہارت میں اضافہ، دوبارہ تربیت، سابقہ سیکھنے کی شناخت (آر پی ایل) اور عملی تربیتی اپرنٹس شپ فراہم کی جاتی ہے۔ مزید برآں، غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) اور تعلیمی اداروں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے محکمۂ خلا کے تحت انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (اِن-اسپیس) نے خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں 11 قلیل مدتی ہنرمندی کے تربیتی کورسز شروع کیے ہیں، جن کے تحت ملک بھر میں 1,000 سے زائد امیدواروں کو کامیابی کے ساتھ تربیت دی جا چکی ہے۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران خلائی اور جغرافیائی مکانی شعبوں سے متعلق تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں اور شامل کیے گئے اپرنٹس کی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام خطے کے لحاظ سے تعداد، نیز پی ایم کے وی وائی اور این اے پی ایس کے تحت تربیتی مراکز اور اداروں کی تعداد بالترتیب ضمیمہ اول اور ضمیمہ دوم میں فراہم کی گئی ہے۔ ملک بھر میں خلائی ٹیکنالوجی کے مختلف کورسز کرانے والے اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئیز) کی تفصیلات ضمیمہ سوم میں دی گئی ہیں۔
آندھرا پردیش سمیت تمام ریاستوں/مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں قائم ہنرمندی سے متعلق ضلع کمیٹیاں (ڈی ایس سیز) اس امر کی پابند ہیں کہ وہ ہنرمندی کی ترقی سے متعلق ضلعی منصوبے (ڈی ایس ڈی پیز) تیار کریں، تاکہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع، ہنرمندی کی طلب اور دستیاب تربیتی سہولیات کی نشاندہی کرتے ہوئے نزمینی سطح سے ہنرمندی کی منصوبہ بندی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے بعد حکومتی ہنرمندی پروگرام مختلف شعبوں میں شناخت کیے گئے مہارت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ شعبہ جاتی ہنرمندی کونسلیں (ایس ایس سیز)، جن کی قیادت صنعت کے ماہرین کرتے ہیں، باقاعدگی سے مہارت کے خلا سے متعلق مطالعات انجام دیتی ہیں تاکہ مختلف شعبوں کی ضروریات کا جائزہ لیا جا سکے اور مہارت کے معیار مقرر کیے جا سکیں۔ یہ معیارات حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کی رہنمائی کرتے ہیں، تاکہ افرادی قوت کو صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی جانب سے سنکلپ — روزگار کے فروغ کے لیے ہنرمندی کے حصول اور معلوماتی بیداری کا پروگرام) کے تعاون سے کی گئی قومی سطح کی ہنرمندی کے خلا سے متعلق تحقیق سات تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں مہارت کی کمی کا جائزہ لینے کے لیے ایک معیاری اور اعداد و شمار پر مبنی طریقۂ کار فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) ہنرمندی کے پروگراموں کو صنعت کی طلب اور مستقبل کی افرادی قوت کی ضروریات کے مطابق ترتیب دینے میں مدد حاصل کرتی ہے۔ مزید برآں، اِن-اسپیس نے صنعت کے مشورے سے خلائی ٹیکنالوجی، لانچ وہیکل، راکٹ، سیٹلائٹ وغیرہ جیسے شعبوں میں درکار ہنرمندی کا جائزہ لیا ہے اور شناخت شدہ ضروریات کی بنیاد پر متعلقہ تربیتی نصاب تیار کرنے کا کام شروع کیا ہے۔
ہنرمندی کی تربیت کا دائرہ وسیع کرنے اور اسے روزگار سے مضبوطی سے جوڑنے کے لیے حکومت نے جون 2022 سے پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلے (پی ایم این اے ایم) کا انعقاد شروع کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیداری پیدا کرنے، آجروں تک رسائی بڑھانے اور امیدواروں کو شامل کرنے کی سرگرمیاں بھی انجام دی جا رہی ہیں۔آجروں، صنعتی اداروں، تعلیمی اداروں اور شعبہ جاتی ہنرمندی کونسلوں کے تعاون سےاپرنٹس شپ کے فروغ کی قومی اسکیم (این اے پی ایس) نوجوانوں، خصوصاً دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں، کے لیے صنعت سے متعلقہ مہارتیں حاصل کرنے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور خود روزگاری کے امکانات کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، اِن-اسپیس کے ہنرمندی کے فروغ سے متعلق قلیل مدتی کورسز میں تدریس کے لیے اسرو ، اِن-اسپیس، سابق اسرو افسران، نجی خلائی اداروں، نئی کمپنیوں (اسٹارٹ اَپس) اور تعلیمی اداروں کے ماہرین شامل ہوتے ہیں، جو کورس کے دوران نظریاتی معلومات کے ساتھ ساتھ عملی پہلوؤں کا بھی احاطہ کرتے ہیں۔
خلائی اور جغرافیائی مکانی شعبوں سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں کی صنعتی ضروریات کے مطابق ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں کو ہم آہنگ کرنے، نجی اداروں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دینے، ہنرمند افرادی قوت کی روزگار کے حصول کی صلاحیت اور کاروباری مواقع میں اضافہ کرنے کے لیے ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) نے آندھرا پردیش سمیت ملک بھر میں درج ذیل خصوصی اقدامات کیے ہیں:
- قومی کونسل برائے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (این سی وی ای ٹی) کو ایک اعلیٰ سطحی نگراں ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی) کے شعبے میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط اور معیارات مرتب کرتا ہے۔
- این سی وی ای ٹی سے منظور شدہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صنعت کی ضروریات کے مطابق تعلیمی و تربیتی اہلیتیں تیار کریں، انہیں قومی پیشہ جاتی درجہ بندی 2015 کے مطابق شناخت شدہ پیشوں سے منسلک کریں اور صنعت سے ان کی توثیق حاصل کریں۔
- این سی وی ای ٹی نے صنعت کی ضروریات کے مطابق 10,209 تربیتی اہلیتوں کو منظوری دی ہے، جن میں سے 2,975 اہلیتیں فعال اور قابلِ عمل ہیں، جبکہ 7,234 اہلیتوں کو محفوظ ریکارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
- مختلف شعبوں کے صنعتی ماہرین کی قیادت میں 36 شعبہ جاتی ہنرمندی کونسلیں (ایس ایس سیز) قائم کی گئی ہیں، جو متعلقہ شعبوں میں ہنرمندی کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور مہارت کے معیار مقرر کرنے کا کام انجام دیتی ہیں۔
- ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت کے زیرِ نگرانی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی)، فلیکسی ایم او یو اسکیم اور تربیت کے دوہرے نظام (ڈی ایس ٹی) کو نافذ کر رہا ہے، جن کا مقصد صنعتی ماحول میں صنعتی ضروریات کے مطابق آئی ٹی آئی طلبہ کو تربیت فراہم کرنا ہے۔
- پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) کے تحت نئی نسل اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق روزگار کے کرداروں کو صنعت 4.0 کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ، روبوٹکس، میکاٹرونکس، ڈرون ٹیکنالوجی وغیرہ شامل ہیں، تاکہ مستقبل کی مارکیٹ اور صنعت کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
- ڈی جی ٹی نے صنعتی تربیتی اداروں (سی ٹی ایس) کے تحت نئی نسل اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق کورسز متعارف کرائے ہیں، جن میں 5 جی نیٹ ورک ٹیکنیشن، مصنوعی ذہانت پروگرامنگ اسسٹنٹ، سائبر سکیورٹی اسسٹنٹ، ڈرون ٹیکنیشن وغیرہ شامل ہیں۔
- ڈی جی ٹی نے آئی بی ایم، سسکو، مائیکروسافٹ، اے ڈبلیو ایس جیسی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت نامے کیے ہیں، تاکہ ریاستی اور علاقائی سطح کے تربیتی اداروں کو صنعت سے جوڑا جا سکے۔ ان شراکت داریوں کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
- احمد آباد اور ممبئی میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز (آئی آئی ایس) سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت صنعت کے لیے تیار افرادی قوت کا ذخیرہ تیار کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور عملی تربیت پر مبنی کورسز فراہم کرتے ہیں۔
- تصدیق شدہ امیدواروں کے لیے روزگار اور اپرنٹس شپ کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے کوشل میلے اور پردھان منتری نیشنل اپرنٹس شپ میلے (پی ایم این اے ایم) منعقد کیے جاتے ہیں۔
- اِن-اسپیس نے اِن-اسپیس کین سیٹ انڈیا طلبہ مقابلے کے دو مراحل اور اِن-اسپیس ماڈل راکٹری طلبہ مقابلے کا ایک مرحلہ منعقد کیا ہے۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں کالج کے طلبہ میں خلائی ٹیکنالوجی کے تئیں دلچسپی پیدا ہوئی اور روزگار کے متعدد مواقع پیدا ہوئے۔
- اِن-اسپیس کالج کے طلبہ کو خلائی شعبے سے متعلقہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لیے انٹرن شپ اور عملی تجرباتی پروگرام (امرجن مواقع) بھی فراہم کر رہا ہے، تاکہ وہ اس شعبے میں درکار صلاحیتیں حاصل کر سکیں۔
ہنرمندی کی ترقی اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کی پی ایم کے وی وائی اور این اے پی ایس اسکیموں کے تحت گزشتہ تین برسوں کے دوران خلائی اور جغرافیائی مکانی شعبوں میں تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں اور شامل کیے گئے اپرنٹس کی ریاست/مرکز کے زیرِ انتظام خطے کے لحاظ سے تعداد
|
نمبر
|
ریاست/یو ٹی کا نام
|
مالی سال 2023-24
|
مالی سال 2024-25
|
مالی سال 2025-26
|
|
پی ایم کے وی وائی
|
این اے پی ایس
|
پی ایم کے وی وائی
|
این اے پی ایس
|
پی ایم کے وی وائی
|
این اے پی ایس
|
|
تربیت یافتہ/
اورینٹڈ
|
اپرنٹس مشغول
|
تربیت یافتہ/
اورینٹڈ
|
اپرنٹس مشغول
|
تربیت یافتہ/
اورینٹڈ
|
اپرنٹس مشغول
|
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
-
|
12
|
-
|
38
|
-
|
34
|
|
|
آندھرا پردیش
|
2,414
|
5,163
|
4,239
|
5,336
|
247
|
5,074
|
|
|
اروناچل پردیش
|
120
|
11
|
-
|
12
|
-
|
30
|
|
|
آسام
|
31
|
2,782
|
481
|
1,344
|
74
|
2,320
|
|
|
بہار
|
169
|
939
|
3,380
|
1,000
|
50
|
2,496
|
|
|
چنڈی گڑھ
|
-
|
689
|
-
|
982
|
-
|
1,005
|
|
|
چھتیس گڑھ
|
30
|
2,161
|
90
|
1,864
|
-
|
2,109
|
|
|
دہلی
|
13
|
2,521
|
160
|
3,551
|
-
|
4,288
|
|
|
گوا
|
-
|
3,695
|
-
|
4,554
|
-
|
4,435
|
|
|
گجرات
|
245
|
23,189
|
4,445
|
22,211
|
51
|
26,542
|
|
|
ہریانہ
|
57
|
18,058
|
2,086
|
19,047
|
224
|
24,799
|
|
|
ہماچل پردیش
|
71
|
1,803
|
190
|
1,645
|
156
|
2,122
|
|
|
جموں و کشمیر
|
79
|
166
|
3,815
|
118
|
617
|
230
|
|
|
جھارکھنڈ
|
228
|
2,825
|
319
|
2,415
|
81
|
3,098
|
|
|
کرناٹک
|
80
|
25,112
|
14,813
|
34,033
|
2,734
|
37,254
|
|
|
کیرالہ
|
60
|
4,481
|
451
|
6,080
|
130
|
5,292
|
|
|
لداخ
|
-
|
23
|
-
|
8
|
-
|
6
|
|
|
لکشدیپ
|
-
|
4
|
-
|
7
|
-
|
11
|
|
|
مدھیہ پردیش
|
257
|
7,882
|
4,805
|
7,290
|
1,128
|
8,768
|
|
|
مہاراشٹر
|
542
|
81,371
|
2,768
|
87,060
|
236
|
91,640
|
|
|
منی پور
|
-
|
1
|
-
|
4
|
60
|
22
|
|
|
میگھالیہ
|
-
|
59
|
139
|
89
|
-
|
52
|
|
|
میزورم
|
28
|
3
|
177
|
0
|
-
|
0
|
|
|
ناگالینڈ
|
29
|
0
|
111
|
2
|
-
|
6
|
|
|
اڈیشہ
|
273
|
3,995
|
1,389
|
2,870
|
23
|
3,141
|
|
|
پڈوچیری
|
-
|
924
|
-
|
994
|
124
|
1,510
|
|
|
پنجاب
|
79
|
4,001
|
2,177
|
4,050
|
293
|
6,132
|
|
|
راجستھان
|
546
|
4,486
|
5,146
|
5,434
|
348
|
6,924
|
|
|
سکم
|
-
|
52
|
-
|
97
|
-
|
121
|
|
|
تمل ناڈو
|
1,267
|
22,352
|
6,579
|
22,549
|
655
|
27,404
|
|
|
تلنگانہ
|
70
|
15,509
|
2,543
|
13,494
|
975
|
13,912
|
|
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
-
|
852
|
237
|
1,494
|
-
|
1,155
|
|
|
تریپورہ
|
-
|
70
|
19
|
57
|
209
|
70
|
|
|
اتر پردیش
|
583
|
39,276
|
10,305
|
40,666
|
924
|
46,327
|
|
|
اتراکھنڈ
|
-
|
7,618
|
1,337
|
7,331
|
45
|
8,831
|
|
|
مغربی بنگال
|
61
|
7,638
|
208
|
7,981
|
276
|
12,072
|
ضمیمہ- II
ایم ایس ڈی ای کی پی ایم کے وی وائی اور این اے پی ایس اسکیموں کے تحت تربیتی مراکز/ اداروں کی ریاست/یو ٹی- وار تعداد (30.06.2026 تک)
|
نمبر
|
ریاست/یو ٹی کا نام
|
پی ایم کے وی وائی (تربیتی مراکز)
|
این اے پی ایس (اسٹیبلشمنٹس)
|
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
11
|
8
|
|
|
آندھرا پردیش
|
527 ڈالر
|
241*
|
|
|
اروناچل پردیش
|
82
|
7
|
|
|
آسام
|
864
|
93
|
|
|
بہار
|
548
|
236
|
|
|
چنڈی گڑھ
|
15
|
26
|
|
|
چھتیس گڑھ
|
183
|
77
|
|
|
دہلی
|
148
|
165
|
|
|
گوا
|
6
|
159
|
|
|
گجرات
|
276
|
2,520
|
|
|
ہریانہ
|
536
|
1,871
|
|
|
ہماچل پردیش
|
183
|
181
|
|
|
جموں و کشمیر
|
554
|
38
|
|
|
جھارکھنڈ
|
208
|
139
|
|
|
کرناٹک
|
436
|
889
|
|
|
کیرالہ
|
146
|
464
|
|
|
لداخ
|
11
|
2
|
|
|
لکشدیپ
|
1
|
1
|
|
|
مدھیہ پردیش
|
1,417
|
364
|
|
|
مہاراشٹر
|
577
|
2,666
|
|
|
منی پور
|
164
|
4
|
|
|
میگھالیہ
|
108
|
9
|
|
|
میزورم
|
109
|
0
|
|
|
ناگالینڈ
|
96
|
4
|
|
|
اڈیشہ
|
242
|
162
|
|
|
پڈوچیری
|
29
|
88
|
|
|
پنجاب
|
619
|
217
|
|
|
راجستھان
|
1,474
|
276
|
|
|
سکم
|
38
|
18
|
|
|
تمل ناڈو
|
530
|
668
|
|
|
تلنگانہ
|
173
|
381
|
|
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
10
|
61
|
|
|
تریپورہ
|
170
|
7
|
|
|
اتر پردیش
|
2,664
|
1,972
|
|
|
اتراکھنڈ
|
198
|
237
|
|
|
مغربی بنگال
|
280
|
340
|
* ضلع کونسیما میں 5 سمیت
$ بشمول کونسیما ضلع میں 6
ضمیمہ III
ملک بھر میں خلائی ٹیکنالوجی کے مختلف کورسز کروانے والے ایچ ای آئی کی تفصیلات (30.06.2026 تک)
|
نمبر
|
انسٹی ٹیوٹ
|
|
1
|
آدتیہ یونیورسٹی
|
|
2
|
برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس پیلانی
|
|
3
|
کارونیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنسز
|
|
4
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
|
|
5
|
امرتا وشوا ودیاپیتم
|
|
6
|
برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، میسرا
|
|
7
|
ایمیٹی یونیورسٹی اتر پردیش، نوئیڈا
|
|
8
|
گرافک ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی
|
|
9
|
منی پال انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، منی پال
|
|
10
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اندور
|
|
11
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس
|
|
12
|
انسٹی ٹیوٹ آف ایروناٹیکل انجینئرنگ
|
|
13
|
کلنگا انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی
|
|
14
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رُڑکی
|
|
15
|
آئی آئی ٹی کھڑگپور
|
|
16
|
انوراگ یونیورسٹی
|
|
17
|
ریوا یونیورسٹی
|
|
18
|
مدن موہن مالویہ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی گورکھپور
|
|
19
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کانپور
|
|
20
|
دہلی ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی
|
|
21
|
ہندوستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس
|
|
22
|
سی وی رمن گلوبل یونیورسٹی
|
|
23
|
ایس آر ایم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی
|
|
24
|
ایمیٹی یونیورسٹی مہاراشٹر ممبئی
|
|
25
|
بنارس ہندو یونیورسٹی
|
|
26
|
تھاپر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
|
|
27
|
ڈاکٹر وشواناتھ کراڈ ایم آئی ٹی-ورلڈ پیس یونیورسٹی، پونے، مہاراشٹر، بھارت
|
|
28
|
ویگننس فاؤنڈیشن برائے سائنس ٹیکنالوجی اور تحقیق
|
|
29
|
سی او ای پی ٹکنالوجی یونیورسٹی پونے
|
|
30
|
سری سائی رام انجینئرنگ کالج
|
|
31
|
این آئی ٹی رائے پور
|
|
32
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی تروپتی
|
|
33
|
مسیح کو یونیورسٹی ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی
|
|
34
|
گوکاراجو رنگاراجو انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی
|
|
35
|
نیتے میناکشی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی
|
|
36
|
کوئمبٹور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی
|
|
37
|
ملا ریڈی ایم آر کو یونیورسٹی ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹی
|
|
38
|
آسام ڈان باسکو یونیورسٹی
|
|
39
|
جے ایس ایس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میسور
|
|
40
|
سنٹرل یونیورسٹی آف جموں
|
|
41
|
ڈی ایس پی ایم آئی آئی آئی ٹی نیا رائے پور
|
|
42
|
سنکل چند پٹیل کالج آف انجینئرنگ/ سنکل چند پٹیل یونیورسٹی
|
|
43
|
ادیکوی ننایا یونیورسٹی
|
|
44
|
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ٹیکنیکل یونیورسٹی لکھنؤ
|
|
45
|
کے جے سومیا اسکول آف انجینئرنگ
|
|
46
|
اندرا پرستھ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی دہلی (آئی آئی ٹی دہلی)
|
|
47
|
اجینکیا ڈی وائی پاٹل یونیورسٹی، لوہیگاؤں، پونے
|
|
48
|
شاہ اور اینکر کچھی انجینئرنگ کالج، چیمبر، ممبئی
|
|
49
|
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی، پوائی، ممبئی
|
|
50
|
لولی پروفیشنل یونیورسٹی، پھگواڑہ، پنجاب
|
|
51
|
ایم کے ایس ایس ایس کا کمنز کالج آف انجینئرنگ برائے خواتین، پونے
|
یہ معلومات ہنرمندی کی ترقی اور صنعتکاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*********
ش ح۔ک ح۔ش ت
Urdu No-658
(रिलीज़ आईडी: 2289957)
|