وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

خزانہ و کارپوریٹ امورکی مرکزی وزیرِ محترمہ نرملا سیتارمن نے جوابدہ ٹیکس نظم و نسق کے پانچ بنیادی اصول (5آرز) پیش کیے؛ نئی دہلی میں منعقدہ انکم ٹیکس کے 167ویں یومِ تاسیس کی تقریب میں ٹیکس سے متعلق یقین دہانی کو مضبوط بنانے اور مقدمات میں کمی پر زور


مرکزی وزیرِ خزانہ نے منصفانہ، مؤثر، شفاف اور ٹیکس دہندگان پر مرکوز انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا

انکم ٹیکس ایکٹ، 2025، اور نئے قواعد و ضوابط اور فارمز، سادہ اور ٹیکس دہندگان کے لیے سہل ٹیکس نظام کی جانب تاریخی اصلاحات کی علامت ہیں: محکمۂ محصولات کے سکریٹری جناب اروند شریواستو

سی بی ڈی ٹی کے چیئرمین روی اگروال نے ریٹرن کی تیز تر جانچ، شکایات کے بروقت ازالے اور ٹیکس مقدمات میں کمی کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کیا

سی بی ڈی ٹی نے پین 2.0، آئی ٹی بی اے 2.0، آئی ای سی 3.0 اور سکشم نَج کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیکس انتظامیہ کو مزید مضبوط بنایا

مرکزی وزیرِ خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے چھ مطبوعات جاری کیں، جن میں بین الاقوامی ٹیکس نظام اور ٹیکس دہندگان پر مرکوز نظم و نسق کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قیادت کو اجاگر کیا گیا

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 9:23PM by PIB Delhi

مرکزی وزیرِ خزانہ و کارپوریٹ امور، محترمہ نرملا سیتارمن نے آج نئی دہلی میں سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ انکم ٹیکس ڈے کی 167ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر محکمۂ محصولات کے سکریٹری جناب اروند شریواستو، سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) کے چیئرمین جناب روی اگروال، سنٹرل بورڈ آف اِن ڈائریکٹ ٹیکسز اینڈ کسٹمز (سی بی آئی سی) کے چیئرمین جناب وویک چترویدی، سی بی ڈی ٹی اور سی بی آئی سی کے اراکین، نیز محکمہ کے دیگر سینئر افسران اور اہلکار موجود تھے۔

 

انکم ٹیکس ڈے کی 167ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ انکم ٹیکس محکمہ کا کردار محض ٹیکس وصول کرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ منصفانہ، مؤثر، شفاف اور ٹیکس دہندگان پر مرکوز ٹیکس نظم و نسق کی تشکیل کی جانب ترقی کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ایکٹ، 2025 کا نفاذ ایک تاریخی اصلاح ہے، جس نے قانون کو زیادہ سادہ بنایا، تعمیل (کمپلائنس) کی لاگت میں کمی کی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو مزید فروغ دیا۔ انہوں نے ای-فائلنگ پورٹل کی بہتر صلاحیت، انکم ٹیکس ریٹرن کی تیز تر کارروائی، بروقت ریفنڈز اور شکایات کے ازالے میں نمایاں پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔

 

محترمہ سیتارمن نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ کو صرف شکایات نمٹانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ بار بار سامنے آنے والے مسائل کا تجزیہ کرکے نظام میں اصلاحات کے ذریعے ان کی روک تھام بھی کرنی چاہیے۔

 

انہوں نے جوابدہ ٹیکس نظم و نسق کے پانچ بنیادی اصول 5آرز پیش کیے، جن میں شناخت، فوری ردِعمل ، مؤثر ازال، جائزہ اور اصلاح  شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی اصول ٹیکس دہندگان کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی بنیاد ہونے چاہییں۔

 

انہوں نے زور دے کر کہا کہ دیانت دار ٹیکس دہندگان کو ایک ایسا نظام میسر آنا چاہیے جو سہولت فراہم کرے، نیک نیتی سے ہونے والی غلطیوں کی اصلاح کا موقع دے اور اپنے اختیارات استعمال کرتے وقت انکساری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔

 

مرکزی وزیرِ خزانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ٹیکس دہندگان ہندوستان کی ترقی کے حقیقی شراکت دار ہیں اور ٹیکس سے متعلق یقین دہانی (ٹیکس سرٹینٹی) کو مزید مضبوط بنا کر ٹیکس مقدمات میں مسلسل کمی لانے کی ضرورت ہے۔

مرکزی وزیرِ خزانہ محترمہ نرملا سیتارمن نے جدید بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل میں مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے دفاتر کی جدید کاری اور ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق سہولیات میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈیٹا اینالیٹکس، فورینسنک اکاؤنٹنگ، بین الاقوامی ٹیکسیشن، ٹرانسفر پرائسنگ، ڈیجیٹل اثاثہ جات، سائبر سکیورٹی اور قیادت کی صلاحیتوں کی ترقی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں استعداد سازی کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے محکمہ پر زور دیا کہ وہ رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کو مزید فروغ دے، ٹیکس دہندگان کے لیے نظام کو مزید آسان بنائے، ٹیکس سے متعلق یقین دہانی کو مضبوط کرے، ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنائے، ادارہ جاتی عمدگی کو فروغ دے، عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرے اور مسلسل بہتری کے عمل کو اپنائے۔انکم ٹیکس ڈے کی 167ویں سالگرہ کے موقع پر انکم ٹیکس محکمہ کے افسران اور عملے کو مبارک باد دیتے ہوئے محترمہ سیتارمن نے اس یقین کا اظہار کیا کہ محکمہ مستقبل میں بھی کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینے، ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے اور ہندوستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزارتِ خزانہ کے محکمۂ محصولات کے سکریٹری، جناب اروند شریواستو نے انکم ٹیکس محکمہ کے تمام افسران اور اہلکاروں کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس ایکٹ، 2025 اور نئے انکم ٹیکس قواعد و ضوابط اور فارمز کا نفاذ ایک تاریخی اصلاح ہے، جو ٹیکس نظام کو زیادہ سادہ، واضح اور ٹیکس دہندگان کے لیے سازگار بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے ٹیکس دہندگان تک رسائی بڑھانے، شکایات کے مؤثر ازالے، ٹیکس مقدمات کے بہتر انتظام اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات کی فراہمی کے لیے انکم ٹیکس محکمہ کی کوششوں کو سراہا۔جناب شریواستو نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کے مرکز میں ٹیکس دہندگان کو رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مزید آسان بنانے، ٹیکس سے متعلق یقین دہانی کو مضبوط کرنے، معیاری خدمات کی فراہمی اور اختراعات کو فروغ دینے پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 

انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ انکم ٹیکس محکمہ مستقبل میں بھی عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرے گا اور 2047 تک وِکست بھارت کے وژن کی تکمیل میں مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

انکم ٹیکس محکمہ کی جانب سے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسز (سی بی ڈی ٹی) کے چیئرمین جناب روی اگروال نے گزشتہ سال انکم ٹیکس ڈے کی تقریب کے موقع پر مرکزی وزیرِ خزانہ کی جانب سے مقرر کی گئی ترجیحات اور رواں سال کے آغاز میں منعقدہ پرارمبھ (پی آر اے آر اے ایم بی ایچ) پروگرام میں بیان کیے گئے اہداف کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ نے گزشتہ ایک سال کے دوران ان رہنما ہدایات کو عملی جامہ پہنانے اور انہیں قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے۔انہوں نے ٹیکس مقدمات میں کمی، اپیلوں کے تیز رفتار تصفیے اور ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹس کے ذریعے ٹیکس سے متعلق یقین دہانی کو مضبوط بنانے کے لیے محکمہ کی مسلسل کوششوں کو اجاگر کیا۔

 

انہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن کی تیز رفتار کارروائی، اپیلوں کے فیصلوں پر بروقت عمل درآمد، ریفنڈز کی جلد ادائیگی اور شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے شعبوں میں حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے پرارمبھ (پی آر اے آر اے ایم بی ایچ) اور سنواد (سمواد) جیسے اقدامات کے ذریعے ٹیکس دہندگان تک رسائی اور ان کے ساتھ مؤثر رابطے کو وسعت دینے میں محکمہ کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا۔جناب روی اگروال نے اس بات پر بھی زور دیا کہ محکمہ پین 2.0، آئی ٹی بی اے 2.0، آئی ای سی 3.0، کر ساتھی اور سکشم نَج جیسے اقدامات کے ذریعے ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر مسلسل توجہ دے رہا ہے، تاکہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد کو مزید آسان بنایا جا سکے، ٹیکس دہندگان کے تجربے کو بہتر بنایا جا سکے اور رضاکارانہ ٹیکس تعمیل کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے سی بی ڈی ٹی کے تمام شعبہ جات، بشمول استثنیٰ (ایگزمپشنز) وِنگ، اور انکم ٹیکس ایکٹ، 2025 کے تحت قواعد و ضوابط اور فارمز کی تیاری میں شامل تمام افسران کی خدمات کو سراہا۔

 

مرکزی وزیرِ خزانہ کی مسلسل رہنمائی اور تعاون پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ اختراع، باہمی تعاون اور شہریوں پر مرکوز طرزِ حکمرانی کے ذریعے ایک منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد ٹیکس انتظامیہ کے قیام اور اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔مرکزی وزیرِ خزانہ نے انکم ٹیکس محکمہ کی چھ اہم مطبوعات بھی جاری کیں، جو علم کے فروغ، استعداد سازی، شفافیت اور ٹیکس دہندگان پر مرکوز طرزِ حکمرانی کے لیے محکمہ کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان مطبوعات میں شامل ہیں:

 

‘‘اولوکن ’’، جو غیر ملکی ٹیکس اور ٹیکس ریسرچ (ایف ٹی اینڈ ٹی آر) ڈویژن کی پہلی سالانہ رپورٹ ہے اور بین الاقوامی ٹیکسیشن کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی قیادت کو اجاگر کرتی ہے۔

‘‘اطلاعات کے تبادلے (ایکسچینج آف انفارمیشن) سے متعلق رہنما کتابچہ’’  اور ایف اے ٹی سی اےو سی آر ایس سے متعلق تازہ ترین رہنما ہدایات۔

کرپٹو اثاثہ خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے کرپٹو اثاثوں کی رپورٹنگ سے متعلق ذمہ داریوں پر ہندوستان کی پہلی جامع رہنما دستاویز۔

ایڈوانس پرائسنگ ایگریمنٹ (اے پی اے) پروگرام کی سالانہ رپورٹ، جس میں پروگرام کی پیش رفت اور اہم کامیابیوں کو پیش کیا گیا ہے۔

‘‘ری انجینئرنگ ٹیکس گورننس’’، جس میں انکم ٹیکس محکمہ کے کاغذی کارروائی پر مبنی نظام سے ایک مربوط، ٹیکنالوجی سے مزین اور ٹیکس دہندگان پر مرکوز ڈیجیٹل نظام تک کے ارتقائی سفر کو بیان کیا گیا ہے۔

تقریب کے دوران چار مختصر فلمیں بھی پیش کی گئیں، جن میں ٹیکس نظام کی تاریخ، کرم یوگی شکشا پتھ پورٹل، مالی سال 2025-26 کے دوران انکم ٹیکس محکمہ کی نمایاں کامیابیاں، اور ڈیجیٹل دور میں ٹیکس دہندگان سے رابطے کے نئے انداز کو اجاگر کیا گیا۔

 

تقریب کا اختتام سی بی ڈی ٹی کی رکن محترمہ جی اپرنا راؤ کی جانب سے پیش کیے گئے کلماتِ تشکر پر ہوا۔ انہوں نے مرکزی وزیرِ خزانہ کا تقریب میں شرکت کرنے اور اپنے بصیرت افروز خیالات سے محکمہ کی حوصلہ افزائی کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے تقریب میں شریک دیگر تمام معزز مہمانوں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور تقریب کے منتظمین کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

*******

ش ح۔ ش ت  ۔رض

U-637


(रिलीज़ आईडी: 2289840) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , Marathi , हिन्दी