راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
راجیہ سبھا کے نو منتخب ارکان کے لیے منعقدہ دو روزہ تعارفی ورکشاپ ’’پرارمبھ‘‘ کی اختتامی تقریب سے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش کا خطاب
بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی تیزی سے پیپر لیس اور زیادہ مؤثر بنی ہے، اور تمام ارکان کو ڈیجیٹل آلات فراہم کیے جاتے ہیں: جناب ہری ونش
راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے افسران وسیع ادارہ جاتی تجربہ اور یادداشت کے حامل ہیں اور وہ ہمیشہ شائستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور خلوص کے ساتھ ارکان پارلیمنٹ کی مدد کے لیے تیار رہتے ہیں: جناب ہری ونش
معزز ارکان کے سیکھنے کا عمل تعارفی پروگرام پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ یہ پروگرام خود کو مسلسل بہتر بنانے اور سیکھنے کے طویل سفر کا صرف آغاز ہے: جناب ہری ونش
प्रविष्टि तिथि:
26 JUL 2026 7:24PM by PIB Delhi
راجیہ سبھا کے معزز ڈپٹی چیئرمین جناب ہری ونش نے بروز اتوار، 26 جولائی 2026 کو نو منتخب اور نامزد ارکانِ راجیہ سبھا کے لیے منعقدہ دو روزہ تعارفی ورکشاپ ’’پرارمبھ‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔
جناب ہری ونش نے کہا کہ نو منتخب اور نامزد ارکانِ راجیہ سبھا کے لیے منعقد کیے گئے اس دو روزہ تعارفی پروگرام کو نہایت غور وخوض کے ساتھ اس انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ نئے ارکان ایوان کے قواعد، ضوابط، طریقۂ کار، روایات اور پارلیمانی اقدار سے بخوبی واقف ہو سکیں، نیز وہ ایوان کی کارروائی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
اختتامی خطاب میں انہوں نے نو منتخب ارکان کو پروگرام میں سرگرم شرکت پر مبارک باد پیش کی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ اس ورکشاپ سے وہ پارلیمانی نظامِ کار کی باریکیوں اور راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے مختلف شعبوں اور ذمہ داریوں سے بہتر طور پر روشناس ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو مختلف نشستوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ ارکان کو ضوابط کار اور سکریٹریٹ کے طریقۂ کار کی جامع فہم حاصل ہو سکے۔ ان کے مطابق سینئر ارکان اور اعلیٰ افسران کی پیشکش میں حقیقی اور عملی مثالوں کے ذریعے پارلیمانی روایات اور طریقۂ کار کی وضاحت کی گئی، جس سے نو منتخب ارکان نے یقیناً بھرپور استفادہ کیا۔
جناب ہری ونش نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سکریٹری جنرل نے ارکان کو سکریٹریٹ کے تنظیمی ڈھانچے، دستیاب سہولتوں اور معاونت کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ کے افسران ادارہ جاتی تجربے اور یادداشت کا قیمتی سرمایہ رکھتے ہیں اور وہ ہمیشہ شائستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور خلوص کے ساتھ ارکان کی رہنمائی اور مدد کے لیے تیار رہتے ہیں۔
جناب ہری ونش نے پارلیمنٹ میں سکیورٹی کے تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ نہ صرف عوامی نمائندگی کا ادارہ ہے بلکہ انتہائی حساس اور اعلیٰ سطح کی حفاظتی اہمیت کا حامل مقام بھی ہے، جسے ماضی میں سکیورٹی سے متعلق خطرات کا سامنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا محکمۂ سکیورٹی ارکان کی سہولتوں اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے، اور انہوں نے ارکان سے اپیل کی کہ وہ پارلیمنٹ کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے میں بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی عمارت کو ایک شاندار شاہکار اور جمہوریت کا جدید مندر قرار دیا، جو ہندوستان کی قدیم تہذیبی روح کی نمائندگی کرتا ہے۔
جناب ہری ونش نے کہا کہ سینئر رکنِ پارلیمنٹ جناب ارون سنگھ نے ارکان کو بجٹ کی باریکیوں سے روشناس کرایا اور اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کو بجٹ کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے ارکان پر زور دیا کہ وہ بجٹ سے متعلق اصطلاحات اور طریقۂ کار سے اچھی طرح واقفیت حاصل کریں۔ انہوں نے ڈاکٹر سسمت پاترا کے سیشن کا بھی تذکرہ کیا، جس میں حکومت کو جواب دہ بنانے کے لیے ستارہ داراور غیر ستارہ دار سوالات کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وقفہ سوالات میں خلل پڑنے سے ارکان ایک اہم پارلیمانی حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ راجیہ سبھا سکریٹریٹ کے تجربہ کار افسران نے قانون سازی کے پورے عمل کی مرحلہ وار وضاحت کی، جبکہ ڈاکٹر جان برٹاس نے قواعد کے تحت دستیاب مختلف پارلیمانی ذرائع و ضوابط کے مؤثر استعمال کو عملی مثالوں کے ذریعے واضح کیا۔جناب ہری ونش نے کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری بھی ارکانِ پارلیمنٹ کی ذمہ داریوں کا ایک اہم پہلو ہے، اس لیے ارکان کو بین الاقوامی پیش رفت اور عالمی جغرافیائی و سیاسی امور سے مسلسل باخبر رہنا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہندوستان متعدد بین الاقوامی پارلیمانی تنظیموں، بشمول بین پارلیمانی یونین(آئی پی یو) ، دولتِ مشترکہ پارلیمانی اسوسی ایشن (سی پی اے)، پی-20 ، کانفرنس آف سیکریٹریز جنرل آف پارلیمنٹس (سی ایس پی او سی)، برکس(بی آر آئی سی ایس) اور دیگر پارلیمانی فورمز میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت دوست ممالک کے ساتھ دوطرفہ پارلیمانی تبادلوں کو بھی فروغ دے رہا ہے۔
جناب ہری ونش نے کہا کہ جناب گھنشام تیواری نے ارکان کو پارلیمانی سفارت کاری کے تصور سے روشناس کرایا، جبکہ مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو اور ڈاکٹر میدھا وشرام کلکرنی نے تفصیل سے محکمہ جاتی پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں کے کردار کو بیان کیا۔انہوں نے ان کمیٹیوں کو ’’منی پارلیمنٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹیاں ارکان کو متعلقہ محکموں کے افسران، مختلف شعبوں کے ماہرین اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کے نمائندوں سے براہِ راست تبادلۂ خیال کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ کمیٹیاں محکموں کے بجٹ، سالانہ رپورٹ، کارکردگی اور ان کے سپرد کیے جانے والے بل کا تفصیلی جائزہ لینے کا بھی مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کمیٹیوں کی رپورٹس مستند معلومات کا اہم ذریعہ ہیں، لہٰذا ارکان کو ان سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔
پارلیمانی کام کاج پر ٹیکنالوجی کے انقلاب کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے جناب ہری ونش نے کہا کہ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے نتیجے میں راجیہ سبھا کی کارروائی تیزی سے کاغذ سے پاک (پیپر لیس) اور زیادہ مؤثر ہو گئی ہے، اور تمام ارکان کو ڈیجیٹل آلات فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان ڈیجیٹل آلات کو سائبر حملوں اور غیر مجاز رسائی سے محفوظ رکھنا ہر رکن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاگ اِن اسنادایوان کے قیمتی اثاثے ہیں اور ان کی حفاظت ہر رکن کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے ارکان کو پارلیمنٹ میں ڈیجیٹل سکیورٹی اور طرزِ حکمرانی میں ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ جناب ہری ونش نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ اسی وقت ملک کو ٹیکنالوجی کے اس انقلابی دور میں مؤثر قیادت فراہم کر سکتی ہے، جب خود ارکانِ پارلیمنٹ جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر واقف اور باخبر ہوں۔
جناب ہری ونش نے اس بات پر زور دیا کہ ارکانِ پارلیمنٹ کا سیکھنے کا عمل تعارفی پروگرام پر ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ یہ پروگرام خود احتسابی، علم میں اضافے اور ذاتی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارنے کے ایک طویل سفر کا محض آغاز ہے۔انہوں نے ارکان کو ترغیب دی کہ وہ پارلیمنٹ کے سابقہ طریقۂ کار کا مطالعہ کریں، اہم پارلیمانی مباحث پڑھیں، سابق ممتاز ارکان پارلیمنٹ جیسے اٹل بہاری واجپئی، ارون جیٹلی اور چندر شیکھر کی تقاریر اور مباحث کی ریکارڈنگز دیکھیں، اور دیگر ممالک کی پارلیمانی روایات و طریقۂ کار کا بھی مشاہدہ کریں۔
آخر میں جناب ہری ونش نے نو منتخب ارکان پر اپنے بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ اپنی مدت کارکے دوران ایوان کے وقار میں اضافہ کریں گے اور مؤثر عوامی نمائندوں کے طور پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں گے۔ انہوں نے تمام نو منتخب ارکان کے لیے کامیاب اور بامقصد پارلیمانی مدت کے لیے دل سے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔


******
(ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا)
UR. No-622
(रिलीज़ आईडी: 2289713)
आगंतुक पटल : 8