وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

 وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام 2026 سے وزیر اعظم کے خطاب کا متن

प्रविष्टि तिथि: 26 JUL 2026 8:01PM by PIB Delhi

ساتھیو!

آپ سب سے بات کرکے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ آج اس پروگرام میں میرے ساتھ موجود مرکزی کابینہ میں میرے رفیق کار جناب مانسکھ مانڈویہ، محترمہ رکشا کھڈسے اور ملک بھر سے وابستہ میرے تمام نوجوان ساتھیو!

آج کا یہ پروگرام انتہائی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ملک کے تقریباً 250 اضلاع کے نوجوان اس پروگرام سے جڑے ہوئے ہیں۔ میں دل کی گہرائیوں سے  آپ سب کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

ساتھیو!

چند برس قبل ہم نے میرا یوا بھارت   ’’مائی بھارت ‘‘ پلیٹ فارم بنایا تھا۔ آج اس سے ملک بھر کے کروڑوں نوجوان وابستہ ہیں اور ’’مائی بھارت‘‘ سے وابستہ نوجوان ملک کے مختلف حصوں میں قابلِ ستائش خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ’’وکست بھارت ڈائیلاگ‘‘ سے لے کر ’’وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام‘‘ تک آپ سب نے اپنی صلاحیتوں کا بخوبی مظاہرہ کیا ہے۔

ساتھیو!

’’وکست بھارت ینگ لیڈرس ڈائیلاگ‘‘ کے دوران میں نے نوجوانوں کے سامنے ایک خیال پیش کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ آخر کیوں نہ نوجوان صرف ورچوئل ذرائع تک محدود رہنے کے بجائے عملی طور پر میدان میں اتریں، بھارت کو قریب سے جانیں، اس سے جڑیں، اسے محسوس کریں اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔جب ہم گاؤں میں جاتے ہیں تبھی ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہاں ترقی کی کتنی شدید توقعات  ہیں، اور ہمارے سرحدی گاؤں میں ترقی کی امنگ کے ساتھ ساتھ حب الوطنی کا جذبہ بھی غیر معمولی طور پر مضبوط ہے۔ بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کے لیے ملک کی اہمیت  اپنی ذات سے بڑھ کر ہے۔ ان کے لیے ’’ملک پہلے، باقی تمام سہولتیں بعد میں‘‘ کا جذبہ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے اور سرحدی گاؤں میں یہ احساس خاص طور پر نمایاں ہے۔اسی کے پیش نظر یہ منصوبہ بنایا گیا کہ ملک کے مختلف اضلاع کے نوجوان ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور لداخ کے سرحدی گاؤں  کا دورہ کریں۔ وہ دیکھیں کہ وہاں کے لوگ کس طرح زندگی گزارتے ہیں، ان کی خوراک، رہن سہن، کام کاج، تہذیب و ثقافت اور روزمرہ کا طرزِ زندگی کیسا ہے، انہیں کن چیلنجوں کا سامنا ہے، ملک کے اولین سرحدی گاؤں  میں رہنے والے لوگ قومی سلامتی کے حوالے سے کس قدر بیدار اور حساس ہیں، اور ملک کے دیگر علاقوں کے ساتھ ان کا رشتہ اور وابستگی کتنی مضبوط ہے۔ہماری خواہش تھی کہ ملک کے نوجوان ان تمام پہلوؤں کا خود مشاہدہ کریں اور ان کا عملی تجربہ حاصل کریں۔ ملک بھر کے نوجوانوں نے جس جوش و خروش کے ساتھ اس پروگرام میں حصہ لیا، وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ تقریباً تین لاکھ نوجوانوں نے اس مقابلے میں شرکت کی، جن میں سے 400 سے زائد نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا۔آپ سب نے ایک ہفتے تک ان دور افتادہ سرحدی گاؤں میں قیام کیا۔ وہ مقامات آپ کے لیے بالکل نئے تھے، لیکن آپ نے وہاں کے لوگوں کی زندگی کو قریب سے جاننے اور اسے خود جینے کی کوشش کی۔ آپ مقامی آبادی میں گھل مل گئے، اپنی ثقافت کو وہاں کی ثقافت سے جوڑا اور باہمی ربط پیدا کیا۔ ’’ایک بھارت، شریشٹھ بھارت‘‘ کے جذبے کی اس سے بہتر اور کارگر مثال شاید ہی کوئی اور ہو سکتی ہے۔

ساتھیو!

آج کا یہ پروگرام میرے لیے اس لحاظ سے بھی بے حد خاص ہے کہ جب میں حکومت اور سیاست کی ذمہ داریوں سے دور تھا، تب مجھے کئی مرتبہ ایسے سرحدی دیہات میں جانے کا موقع ملا۔ وہاں کے لوگوں سے میری ذاتی شناسائی بھی تھی، بلکہ کئی دیہات کے ساتھ میرا رابطہ طویل عرصے تک برقرار رہا۔ حکومت میں آنے کے بعد بھی جب کبھی موقع ملتا ہے، میں سرحدی دیہات کا دورہ ضرور کرتا ہوں اور ایسا موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔آپ سب جانتے ہیں کہ میں گزشتہ تقریباً 25 برس سے دیوالی کا تہوار سرحد پر جا کر، بارڈر پر جاکر  اپنے ملک کی حفاظت کرنے والے بہادر فوجیوں کے ساتھ مناتا آ رہا ہوں، اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔آج جن نوجوان ساتھیوں سے میری گفتگو ہوئی، ان میں سے کئی لوگ ایسے دیہات میں بھی گئے تھے جہاں میں پہلے جا چکا ہوں۔ جب آپ ان مقامات کا ذکر کر رہے تھے تو میری آنکھوں کے سامنے وہ تمام پرانی یادیں تازہ ہو رہی تھیں۔میری طرح آپ سب کے لیے بھی یہ تجربہ نہایت یادگار رہا ہوگا۔ کسی نے بلند و بالا پہاڑی سلسلوں کی دلکشی اور سنسنی کا ذکر کیا، کسی نے سرحدی گاؤں کے لوگوں کی محبت، اپنائیت اور خلوص سے متاثر ہونے کی بات کی، کسی نے وہاں کے بچوں کے خوابوں کو قریب سے دیکھا، جبکہ کسی کو ہماری مسلح افواج کے بے مثال حوصلے، جرأت اور نظم و ضبط کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ گویا ’’وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام‘‘ کا پورا تجربہ ہر لحاظ سے شاندار رہا۔اتفاق سے آج کارگل وجئے دیوس بھی ہے۔ آپ میں سے بہت سارے نوجوانوں نے کارگل کے آس پاس کے علاقوں کا بھی دورہ کیا، جہاں نہایت دشوار حالات میں ہمارے بہادر سپاہیوں نے فتح کا پرچم لہرایا تھا۔ آپ نے ان تاریخی مقامات کو قریب سے دیکھا اور ان کی اہمیت کو محسوس کیا۔

میں اس پروگرام میں شرکت کرنے اور اس یادگار تجربے کا حصہ بننے پر آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو!

ترقی یافتہ گاؤں ہی ترقی یافتہ بھارت کی مضبوط بنیاد ہیں۔ ’’وکست بھارت‘‘ کی تعمیر کا سفر مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، اور اس میں آپ جیسے نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ جب ملک کا نوجوان زمینی حقیقتوں سے جڑتا ہے تو ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کو مزید وسعت اور طاقت ملتی ہے۔ اس سے نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لیے جینے اور اس کی خدمت کرنے کا عزم مزید پختہ ہوتا ہے۔

ساتھیو!

اس مہم کے دوران آپ نے خود محسوس کیا ہوگا کہ سرحدی گاؤں میں زندگی کتنی دشوار ہوتی ہے، لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود وہاں کے لوگ ہر لمحہ حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔چند برس پہلے تک سرحدی گاؤں کو ملک کا ’’آخری گاؤں‘‘ سمجھ کر تقریباً نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ ان علاقوں میں سڑک، بجلی، پانی، اسکول، اسپتال اور دیگر بنیادی سہولتوں کا شدید فقدان تھا۔ ممکن ہے آپ نے بھی وہاں کے لوگوں سے ان محرومیوں کی بے شمار داستانیں سنی ہوں اور انہوں نے آپ کو اپنے ماضی کے حالات سے آگاہ کیا ہو۔ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ ایسے نامساعد حالات کے باوجود سرحدی گاؤں کے لوگوں کی حب الوطنی اور ملک سے وفاداری میں کبھی ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی۔

اسی لیے ساتھیو!

ہماری حکومت نے ان سرحدی گاؤں کو ملک کا ’’پہلا گاؤں‘‘ قرار دیا ہے۔ وہ پہلا گاؤں جہاں صبح کی پہلی کرن بھارت کو سلام کرتی ہے اور جہاں شام کی آخری کرن ’’گڈ نائٹ‘‘ کہہ کر رخصت ہوتی ہے۔ یہی وہ بستیاں ہیں جہاں سب سے پہلے ملک کا  ترنگا ہوا کے دوش پر لہراتا ہے اور جہاں سے دنیا سب  سے پہلے بھارت کی جھلک دیکھتی ہے۔اسی سوچ کی تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے سرحدی علاقے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ کئی گاؤں میں بجلی پہنچی، پہلی بار سڑکیں تعمیر ہوئیں، پہلی بار گھروں تک نل کے ذریعے پینے کا پانی پہنچا اور پہلی بار گھریلو گیس کنکشن فراہم کیے گئے۔ شہروں میں یہ سہولتیں معمول کی بات معلوم ہوتی ہیں، لیکن سرحدی گاؤں  کے لوگوں کے لیے یہ ان کی زندگی بدل دینے والی نعمتیں ہیں۔ ان اقدامات سے کسانوں اور باغبانوں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب پھل اور سبزیاں بڑی منڈیوں تک آسانی سے پہنچائی جا رہی ہیں۔ بہتر رابطہ کے  نظام کی بدولت وہاں کی زندگی اب رکاوٹوں کا شکار نہیں رہتی بلکہ مسلسل رواں دواں ہے۔آپ نے خود بھی دیکھا ہوگا کہ آج ان دور دراز گاؤں  میں بھی اعلیٰ معیار کی انٹرنیٹ سہولت دستیاب ہے، اور آپ سب نے نہایت خوشی کے ساتھ اس کا ذکر بھی کیا۔

ساتھیو!

ان تمام سہولتوں کا ایک اور بڑا فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ اب ان علاقوں میں سیاحت کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ جو دیہات کبھی ویران ہو چکے تھے، وہاں دوبارہ رونقیں لوٹ آئی ہیں۔ بیٹیاں اسکولوں اور کالجوں تک پہنچ رہی ہیں، جبکہ بہتر تعلیم اور بہتر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ ’’وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام‘‘ سرحدی دیہات کی اس ترقی کو مزید رفتار دے رہا ہے۔

ساتھیو!

’’وکست وائبریَنٹ ولیج‘‘ کا یہ سفر لوگوں کو آپس میں جوڑنے اور ایک دوسرے کو قریب لانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، اور اب آپ سب کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔آپ کا یہ سفر ’’مشغولیت کے ذریعے اتحاد‘‘کا عملی نمونہ ہے۔ بھارت کا نوجوان جتنا زیادہ اپنے سرحدی گاؤں  کو جانے گا، اتنا ہی آسانی سے وہ پورے بھارت کو سمجھ سکے گا اور ملک کے کونے کونے سے اس کا تعلق مزید مضبوط ہوگا۔ یہی کوششیں قومی یکجہتی کو نئی طاقت عطا کریں گی۔ذرا یاد کیجیے، ان گاؤں  میں آپ کے قیام کے لیے نہ کوئی گیسٹ ہاؤس تھا اور نہ کوئی ہوٹل۔ پورا گاؤں ہی آپ کی میزبانی میں مصروف تھا۔ لیکن آپ کا وہاں قیام صرف ایک دورہ نہیں تھا بلکہ دیہی زندگی کو قریب سے جاننے، مقامی ثقافت سے آشنا ہونے اور اسے محسوس کرنے کا ایک عملی سبق تھا۔وہاں آپ کو مادی سہولتوں سے بڑھ کر محبت، عزت اور خلوص ملا۔ جو تجربات آپ وہاں سے حاصل کرکے آئے ہیں، وہ کسی بھی کلاس روم میں نہیں سکھائے جا سکتے۔اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ان تجربات کو دوسرے نوجوانوں کے ساتھ بھی ضرور شیئر کریں اور انہیں بھی ترغیب دیں کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سرحدی دیہات کا دورہ کریں۔ جتنے زیادہ نوجوان وہاں جائیں گے، وہاں قیام کریں گے، اتنا ہی وہ اپنے ملک کو بہتر طور پر دیکھیں گے، سمجھیں گے اور اس سے جڑیں گے۔ اور جب لوگوں کی آمدورفت ان دیہات کی طرف بڑھے گی تو وہاں بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی مزید تیزی سے ممکن ہو سکے گی۔

ساتھیو!

ہماری حکومت ان سرحدی گاؤں  میں سیاحت کے فروغ کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہیں، اور آپ ان سرکاری اقدامات کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ ہر نوجوان کم از کم 100 دیگر نوجوانوں کے ساتھ اپنے اس سفر اور تجربات کو ضرور شیئر کریں۔

جن علاقوں میں آپ نے قیام کیا، وہاں کے لوگوں سے اپنا رابطہ برقرار رکھیں۔ اگر آپ نے وہاں تصاویر کھینچی ہیں یا ویڈیوز بنائی ہیں تو انہیں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھرپور انداز میں شیئر کریں۔ ان گاؤں   کے مقامی کانٹینٹ کریئیٹرز کے ساتھ تال میل کرکے آپ وہاں کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافت کو بھی فروغ دے سکتے ہیں۔اگر آپ نے وہاں مقامی مصنوعات دیکھی ہیں تو اس پر بھی غور کریں کہ انہیں اپنے علاقے میں کس طرح متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ پر معلومات تو بہت دستیاب ہوتی ہیں، لیکن ان سرحدی دیہات کے بارے میں مستند اور حقیقی معلومات آپ ہی لوگوں کے ذریعے دوسروں تک پہنچ سکتی ہیں۔آپ خود بھی اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ ان دیہات کی سیر کے لیے جائیں۔ میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بھی اپیل کروں گا کہ وہ سرحدی دیہات کے مطالعاتی اور تعلیمی دوروں کا اہتمام کریں۔

ساتھیو!

میرا ہمیشہ سے یہ پختہ یقین رہا ہے کہ آپ جیسے نوجوان ہی اکیسویں صدی کی دنیا کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہی بھارت کے نوجوانوں کا حقیقی مقدر ہے۔آج کا نوجوان ’’وکست بھارت‘‘ کی توانائی بھی ہے اور اس ترقی یافتہ بھارت کا سب سے بڑا استفادہ کنندہ بھی ہے۔ اسی لیے جب نوجوان ملک کے مسائل اور ان کے حل سے براہِ راست جڑیں گے تو مستقبل یقیناً روشن ہوگا۔انہی نیک تمناؤں کے ساتھ میں ایک بار پھر آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

******

 

(ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا)

UR. No-619

 


(रिलीज़ आईडी: 2289712) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati