جل شکتی وزارت
مون سون کی آمد کے ساتھ راجناندگاؤں مشن جل رکشا کے ذریعے #کیچ_دی_رین کے لیے پوری طرح تیار
سائنسی بنیادوں پر استوار اور عوامی شراکت سے چلنے والا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ بارش کے پانی کا ذخیرہ اور زیرِ زمین پانی کی بھرپائی، طویل مدتی آبی تحفظ کو یقینی بنا سکتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
26 JUL 2026 1:55PM by PIB Delhi
جیسے ہی مانسون کی آمد کے ساتھ ملک گیر #کیچ_دی_رین مہم نے رفتار پکڑی ہے، ملک بھر کے اضلاع موسمی بارش سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے آبی تحفظ کو مضبوط بنانے اور آبی ذرائع کی پائیداری کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ ان میں چھتیس گڑھ کا ضلع راجناندگاؤں ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس نے یہ ثابت کیا ہے کہ مؤثر آبی تحفظ کی بنیاد بروقت اور جامع تیاری ہے۔ اپنے منفرد ’’مشن جل رکشا‘‘ کے ذریعے ضلع نے سائنسی بنیادوں پر مضبوط ڈھانچہ تیار کیا، عوامی شراکت کو فروغ دیا اور زیرِ زمین پانی کی بھرپائی کے لیے جدید اور اختراعی اقدامات نافذ کیے تاکہ بارش کا ہر ممکن قطرہ محفوظ کیا جا سکے، اس کا مؤثر استعمال ہو اور اسے دوبارہ زیرِ زمین آبی ذخائر (ایکویفرز) تک پہنچایا جا سکے۔ مختصراً یہ کہ راجناندگاؤں نہ صرف مانسون کے لیے پوری طرح تیار ہے بلکہ بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کرنے کے لیے بھی مکمل طور پر آمادہ ہے۔
پہلی بارش کے زمین پر گرنے سے بہت پہلے ہی راجناندگاؤں نے اپنے قدرتی اور زمینی ماحول کو اس انداز میں تیار کر لیا تھا کہ بارش کے ہر ممکن قطرے کو جمع، محفوظ اور زمین میں جذب کیا جا سکے۔ مشن جل رکشا کے تحت ضلع میں ایک ایسا سائنسی اور عوامی شراکت پر مبنی نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے بارش کے پانی کو بے مقصد بہہ جانے کے بجائے زمین کے اندر پہنچایا جاتا ہے تاکہ قیمتی زیرِ زمین آبی ذخائر دوبارہ بھر سکیں۔
اس اقدام میں جی آئی ایس نقشہ سازی، ریموٹ سینسنگ، ایکویفر میپنگ، ڈیجیٹل ایلیویشن ماڈل (ڈی ای ایم) اور ریج ٹو ویلی پلاننگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ زیرِ زمین پانی کی بھرپائی کے لیے موزوں ترین مقامات کی سائنسی بنیادوں پر نشاندہی کی جا سکے۔ اس سائنسی حکمتِ عملی کو عملی سطح پر کئی اختراعی اقدامات کے ذریعے مؤثر بنایا گیا، جن میں ناکارہ بورویلز کو ریچارج شافٹس میں تبدیل کرنا اور منی پرکولیشن ٹینکس کو گہرے انجیکشن ویلز کے ساتھ مربوط کرنا شامل ہے تاکہ بارش کا پانی سخت چٹانی علاقوں میں بھی زمین کی گہرائی میں موجود آبی ذخائر تک پہنچ سکے۔
مشن جل رکشا کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ اب ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ کسانوں، خواتین، نوجوانوں، گرام پنچایتوں اور مقامی برادریوں نے آبی بجٹ سازی، بیداری مہمات اور رویّوں میں مثبت تبدیلی کے اقدامات کو بھرپور انداز میں اپنایا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی شراکت (جن بھاگیداری) پائیدار آبی وسائل کے انتظام کی اصل قوت بن گئی ہے۔ فصلوں کے تنوع نے بھی ان کوششوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ گرمیوں میں کاشت کی جانے والی تقریباً 70 فیصد دھان کی فصل کو نسبتاً کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں سے تبدیل کر دیا گیا ہے، جس سے زیرِ زمین پانی پر دباؤ کم ہوا ہے اور زرعی پائیداری کو بھی فروغ ملا ہے۔
ضلع کی تیاری کے نتائج واضح اور قابلِ پیمائش ہیں۔ 662 دیہات میں 60 ہزار سے زائد آبی تحفظ اور زیرِ زمین پانی کی بھرپائی کے ڈھانچے تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ 500 سے زیادہ ناکارہ بورویلز کو ریچارج شافٹس میں تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ 600 سے زائد گہرے انجیکشن ویلز کو 1,700 سے زیادہ منی پرکولیشن ٹینکس کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2,500 سے زائد آبی ذخائر کی جیو ٹیگنگ بھی مکمل کی جا چکی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں 51 لاکھ سے زیادہ انسانی روزگار کے ایام کار پیدا ہوئے ہیں، جبکہ ضلع میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں اوسطاً 2.04 میٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے آبپاشی اور پینے کے پانی کی دستیابی کو نمایاں طور پر تقویت ملی ہے۔
جیسے جیسے #کیچ_دی_رین مہم ملک بھر میں ’’ہر قطرہ محفوظ کریں‘‘ کا پیغام عام کر رہی ہے، راجناندگاؤں اس بات کی ایک بہترین مثال بن کر سامنے آیا ہے کہ پیشگی منصوبہ بندی، سائنسی اقدامات اور جن بھاگیداری (عوامی شراکت) کے ذریعے مانسون کی بارش کو طویل مدتی آبی تحفظ کے مضبوط ذریعہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ہر ریچارج ڈھانچہ، ہر بحال کیا گیا بورویل اور بارش کے ہر محفوظ کیے گئے قطرے میں اس ضلع اور اس کی عوام کے اس مشترکہ عزم کی جھلک دکھائی دیتی ہے کہ آج کی بارش کو کل کے محفوظ زیرِ زمین آبی ذخائر میں تبدیل کیا جائے۔
مشن جل رکشا اس حقیقت کو مزید مضبوطی سے اجاگر کرتا ہے کہ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا صرف ایک موسمی سرگرمی نہیں، بلکہ آبی ذرائع کی پائیداری، موسمیاتی تغیرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور آبی تحفظ سے بھرپور مستقبل کے لیے ایک مسلسل اور دیرپا عہد ہے۔
راجناندگاؤں بارش کا انتظار نہیں کر رہا، بلکہ بارش کے ہر قطرے کو محفوظ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔




******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-611
(रिलीज़ आईडी: 2289599)
आगंतुक पटल : 14