قانون اور انصاف کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ گذشتہ 12 برسوں میں آٹھ آئینی ترامیم کی گئیں

प्रविष्टि तिथि: 25 JUL 2026 9:06PM by PIB Delhi

گذشتہ بارہ برسوں کے دوران دستور ہند میں آٹھ مرتبہ ترمیم کی گئی اور مذکورہ آئینی ترمیمی بلوں کی تصیلات ذیل میں دی گئی ہے:

 

آئین (ننانوے ویں ترمیم) ایکٹ، 2014 (جس کا تعلق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں ججوں کے تقرر کے لیے کلوجیم سسٹم کی جگہ نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹس کمیشن قائم کرنے سے ہے)

 

آئین (سو ویں ترمیم) ایکٹ، 2015 (جس کا تعلق بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان زمینی سرحد کے معاہدے سے ہے)

 

آئین (ایک سو ایک ویں ترمیم) ایکٹ، 2016 (جس کا تعلق بھارت میں گڈز اینڈ سروسز ٹیکس یعنی جی ایس ٹی سے ہے)

 

آئین (ایک سو دو ویں ترمیم) ایکٹ، 2018 (جس کا تعلق نیشنل کمیشن فار بیک ورڈ کلاسز یعنی پسماندہ طبقات کے قومی کمیشن کو آئینی درجہ دینے سے ہے)

 

آئین (ایک سو تین ویں ترمیم) ایکٹ، 2019 (جس کا تعلق سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں اقتصادی طور پر کمزور طبقات یعنی ای ڈبلیو ایس کے لیے ریزرویشن سے ہے)

 

آئین (ایک سو چار ویں ترمیم) ایکٹ، 2019 (جس کا تعلق لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں شیڈولڈ کاسٹس یعنی درج فہرست ذاتوں اور شیڈولڈ ٹرائبز یعنی درج فہرست قبیلوں کے لیے نشستوں کے ریزرویشن میں مزید دس سال، یعنی 25 جنوری 2030 تک توسیع کرنے سے ہے)

 

آئین (ایک سو پانچ ویں ترمیم) ایکٹ، 2021 (جس کا تعلق آئین کی دفعہ 342A میں ترامیم اور اس کے نتیجے میں دفعہ 338B اور دفعہ 366 میں ہونے والی متعلقہ ترامیم سے ہے)

 

آئین (ایک سو چھ ویں ترمیم) ایکٹ، 2023 (جس کا تعلق ہاؤس آف دی پیپل یعنی لوک سبھا اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کے لیے نشستوں کے ریزرویشن سے ہے)

 

 

یہ جانکاری قانون و انصاف کے مرکزی وزیر جناب ارجن رام میگھوال جی کے ذریعہ لوک سبھا میں ایک تحریری جواب دی گئی۔


**********

 (ش ح –ن ا)

U.No:599


(रिलीज़ आईडी: 2289550) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी