قانون اور انصاف کی وزارت
حکومت نے معذور افراد کے لیے قابل رسائی قانونی خدمات اور جامع ڈیجیٹل انصاف کے نظام کو مزید مضبوط بنایا
प्रविष्टि तिथि:
25 JUL 2026 9:03PM by PIB Delhi
عام شہریوں، بالخصوص معذور افراد کو کم لاگت، معیاری اور فوری قانونی خدمات فراہم کرنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ قانونی خدمات اتھارٹیز ایکٹ، 1987 کے تحت معاشرے کے کمزور طبقات، بشمول معذور افراد کو مفت اور مؤثر قانونی خدمات فراہم کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس ایکٹ کی دفعہ 12(d) کے مطابق، ”معذور شخص“ جیسا کہ معذور افراد (مساوی مواقع، حقوق کا تحفظ اور مکمل شرکت) ایکٹ، 1995 کی دفعہ 2 کی شق (i) میں بیان کیا گیا ہے، مفت قانونی امداد حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔
نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی (این اے ایل ایس اے) معذور افراد کے لیے ایک خصوصی اسکیم ”نالسا (ذہنی بیماری میں مبتلا افراد اور ذہنی نشوونما سے متعلق معذوری رکھنے والے افراد کو قانونی خدمات) اسکیم، 2024“ بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ قانونی خدمات، ذہنی بیماری میں مبتلا افراد اور ذہنی نشوونما سے متعلق معذوری رکھنے والے افراد کی مخصوص قانونی اور سماجی ضروریات کے مطابق فراہم کی جائیں۔ اس اسکیم کے تحت لکشدیپ کے علاوہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ”ذہنی بیماری میں مبتلا افراد اور ذہنی نشوونما سے متعلق معذوری رکھنے والے افراد کے لیے قانونی خدمات یونٹ (ایل ایس یو ایم)“ قائم کیے گئے ہیں، جنہیں ”منو نیائے“ کا نام دیا گیا ہے۔ ایل ایس یو ایم ان افراد کو قانونی خدمات فراہم کرنے کا بنیادی ادارہ جاتی نظام ہے، جو درج ذیل مقامات پر اپنی خدمات انجام دیتا ہے: ذہنی صحت کے ادارے، پولیس اسٹیشن، عدالتیں، ریلوے اسٹیشن، بس اڈے، بھکاریوں کی پناہ گاہیں، خواتین کے تحفظ کے مراکز، بچوں کی نگہداشت کے ادارے، جیلیں، حراستی مراکز، فرنٹ آفس اور گھریلو دورے۔
قانونی خدمات اتھارٹیز ایکٹ، 1987 کے تحت گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران قانونی خدمات سے مستفید ہونے والے معذور افراد کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
مالی سال
|
قانونی خدمات حاصل کرنے والے معذور افراد کی تعداد
|
|
2023-24
|
11,591
|
|
2024-25
|
8,313
|
|
2025-26
|
15,280
|
ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت ضلعی اور ماتحت عدالتوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت عدالتی کمرے، عدالتی افسران کے رہائشی یونٹ، وکلاء کے لیے ہال، ڈیجیٹل کمپیوٹر روم اور بیت الخلا کمپلیکس کی تعمیر کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق، ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مجوزہ عدالتی بنیادی ڈھانچہ معذور افراد کے لیے قابل رسائی ڈیزائن پر مبنی ہو۔ عمارتوں کے ڈیزائن سنٹرل پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (سی پی ڈبلیو ڈی) اور وزارت سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات، محکمہ برائے عطائے اختیار معذور افراد کی جانب سے وقتاً فوقتاً مقرر کردہ معیارات اور قابل رسائی کے ضوابط کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں۔
ای کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ ملک بھر میں مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام میں اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے استعمال کو مضبوط بنانا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ای کمیٹی اس منصوبے کی نگران ادارہ ہے، جو ای کورٹس پروجیکٹ کے لیے پالیسی سازی، اسٹریٹجک رہنمائی اور مؤثر نفاذ کی نگرانی کرتی ہے۔
ای کورٹس پروجیکٹ کے مرحلہ III میں 24 مختلف اجزا شامل ہیں، جن کے تحت شہریوں، بالخصوص معذور افراد کے لیے ایک مضبوط اور قابل رسائی ڈیجیٹل عدالتی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس مرحلے کے تحت: معذور افراد کے لیے جدید اور قابل رسائی آئی سی ٹی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 27.54 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ جبکہ S3WaaS (Secure, Scalable and Sugamya Website as a Service) پلیٹ فارم کے ذریعے ویب سائٹ کو معذور افراد کے لیے مزید قابل رسائی بنانے کے لیے 6.35 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ S3WaaS پلیٹ فارم میں ایسی خصوصیات شامل ہیں جو جزوی یا مکمل طور پر بصارت سے محروم افراد کے لیے ویب سائٹ کے مواد کو زیادہ واضح، آسانی سے قابل مطالعہ اور قابل رسائی بناتی ہیں۔
قانون و انصاف کے مرکزی وزیر جناب ارجن رام میگھوال جی نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔
**************
ش ح۔ ف ش ع
U: 605
(रिलीज़ आईडी: 2289536)
आगंतुक पटल : 10