PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام


زمینی سطح پر انٹرپرینیورشپ کے ذریعے دیہی معیشتوں کو فروغ دینا

प्रविष्टि तिथि: 25 JUL 2026 10:12AM by PIB Delhi

اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام تربیت، مالی معاونت، رہنمائی اور کمیونٹی کی قیادت میں ادارہ جاتی مدد کے ذریعے غیر زرعی کاروباری اداروں کی معاونت کرتا ہے۔ 30 جون 2026 تک، ایس وی ای پی نے ملک بھر میں 4.32 لاکھ دیہی کاروباری اداروں کی معاونت کی تھی۔ اس پروگرام میں سماجی شمولیت اور صنعت کاری کے مواقع تک مساوی رسائی پر زور دیا گیا ہے۔ تقریباً 86 فیصد کاروباری افراد کا تعلق ایس سی، ایس ٹی، اقلیتی اور او بی سی برادریوں سے ہے۔ ایس ایچ جی، سی آر پی-ای پی، بینک روابط، اور پردھان منتری مدرا یوجنا جیسی اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے، ایس وی ای پی نے اپنی رسائی کو وسعت دی ہے۔ ایس وی ای پی غربت میں کمی، مقامی روزگار پیدا کرنے اور دیہی اقتصادی ترقی کے لیے ایک مؤثر نچلی سطح کے ماڈل کے طور پر ابھرا ہے۔

بھارت میں انٹرپرائز  (کاروبار) پر مبنی دیہی تبدیلی

ہندوستان کے پاس دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔ یہ سازگار حکومتی پالیسیوں کی حمایت سے پروان چڑھا ہے اور معیشت کی ترقی کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ تاہم، ہندوستان کا زیادہ تر اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام شہری علاقوں میں مرکوز ہے۔ اس لیے حکومت نے دیہی علاقوں میں صنعت کاری اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ اہم اقدامات میں سے ایک اسٹارٹ اپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام (ایس وی ای پی) ہے۔

2016 میں شروع کیا گیا ایس وی ای پی، دین دیال انتیودیا یوجنا-نیشنل رورل لائیولی ہڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) کی ایک ذیلی اسکیم ہے۔ یہ پروگرام غیر زرعی شعبے میں چھوٹے کاروباری اداروں کے قیام میں سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) اور ان کے خاندان کے افراد کی مدد کرتا ہے۔ یہ مالی معاونت، ادارہ جاتی مدد، کاروباری انتظام کی تربیت، سافٹ اسکل ڈیولپمنٹ، اور کاروباری ترقی کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ یہ دیہی علاقوں میں پائیدار معاش اور خود روزگار کے مواقع کو فروغ دیتا ہے۔

ایس وی ای پی بینکنگ روابط تک رسائی اور سرکاری اسکیموں کے ساتھ ہم آہنگی کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔اس  کا بنیادی مقصد طویل مدتی اقتصادی ترقی اور وسیع تر سماجی فوائد کا حصول ہے۔ ایس وی ای پی کی ایک اہم خصوصیت مقامی سطح پر کاروباری اداروں کی مالی معاونت اور مدد کے لیے کمیونٹی پر مبنی فیصلہ سازی رہی ہے۔

اس کا بنیادی مقصد طویل مدتی اقتصادی ترقی اور بڑے پیمانے پر سماجی فوائد حاصل کرنا ہے۔

دین دیال انتیودیہ یوجنا- نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن

دین دیال انتیودیہ یوجنا-نیشنل رورل لائیولی ہُڈ مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم) دنیا کے سب سے بڑے ذریعۂ معاش کے اقدامات میں سے ایک ہے۔ یہ دیہی غریب گھرانوں کو سیلف ہیلپ گروپوں (ایس ایچ جیز) میں متحرک کرتا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں۔ اس کا مقصد انہیں پائیدار ذریعۂ معاش، مالیاتی خدمات تک رسائی اور ہنرمندی کے فروغ کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ جون 2026 کے وسط تک، ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کے تحت 10.29 کروڑ سے زیادہ دیہی گھرانوں کو ایس ایچ جیز میں شامل کیا جا چکا ہے۔

پورے ہندوستان میں دیہی صنعت کاری کو بڑھانا

ایس وی ای پی نے ایک جامع نقطۂ نظر اپنایا ہے، جس میں خواتین، پسماندہ برادریوں اور محدود تعلیمی حصول رکھنے والے افراد کی مدد پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اپنے آغاز سے لے کر 15 جون 2026 تک، اس پروگرام نے 4.32 لاکھ سے زیادہ دیہی کاروباری اداروں کی مدد کی ہے۔ آسام، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش میں اس پروگرام کے تحت تعاون یافتہ کاروباری اداروں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایس ایچ جی ممبر سے دیہی کاروباری رہنما تک

جہاں پور، مہاراشٹر کی محترمہ بھاگیہ شری لونڈے نے 2014 میں ایک ایس ایچ جی میں شامل ہو کر اپنا سفر شروع کیا۔ ایس ایچ جی اور ولیج آرگنائزیشن (وی او) کی سرگرمیوں میں شرکت نے ان کی قیادت اور کاروباری صلاحیتوں کو مضبوط کیا۔ انہوں نے چھوٹے پیمانے پر مسالہ، پاپڑ اور اچار تیار کر کے اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا۔ ایس وی ای پی کے تحت 45,000 روپے کے کمیونٹی انٹرپرائز فنڈ قرض نے انہیں مقامی طور پر حاصل کردہ خام مال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیداوار بڑھانے کے قابل بنایا۔ ان کی کاروباری کوششوں کو مہالکشمی سرس 2019-20 میں پذیرائی ملی، جہاں انہوں نے دس دن کے اندر 5 لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کی۔

سیکھنے اور آگے بڑھنے کی ان کی خواہش نے انہیں اپنے کاروباری علم اور مہارتوں کو بہتر بنانے کے قابل بنایا۔ انہوں نے اپنے کاروبار کا انتظام کرتے ہوئے ایک اوپن یونیورسٹی کے ذریعے دسویں جماعت کی تعلیم مکمل کی۔ این آر ایل ایم اور کرشی وگیان کیندر کے تحت حاصل کی گئی تربیت نے ان کی کاروباری  سمجھ بوجھ یا فہم   اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ نتیجتاً، ان کے کاروبار نے روزانہ بڑی مقدار میں پیداوار  شروع کرد ی ، باقاعدہ آمدنی پیدا کی، اور دیہی خواتین کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ ان کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ صنعت کاری، مسلسل سیکھنے اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے خواہش مند خواتین کو کامیاب کاروباری رہنماؤں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ایس وی ای پی کی مسلسل توسیع کی حمایت کے لیے حکومت نے فروری 2026 تک مجموعی طور پر 942.09 کروڑ روپے کا مرکزی حصہ جاری کیا ہے۔ یہ 2016 میں پروگرام کے آغاز سے جنوری 2018 تک جاری کیے گئے مجموعی 112.39 کروڑ روپے کے مقابلے میں تقریباً 738 فیصد زیادہ ہے۔

دیہی کاروباری اداروں کی پرورش اور توسیع کے لیے روڈ میپ

ایس وی ای پی کو ریاستی دیہی روزی روٹی مشنوں (اسٹیٹ رورل لائیولی ہُڈ مشن) (ایس آر ایل ایم) کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے، جس کے تحت فی بلاک 6.50 کروڑ روپے کی فراہمی اور فی انٹرپرائز 27,083 روپے کی اوسط سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

بلاک سطح پر، بلاک ریسورس سینٹر-انٹرپرائز پروموشن (بی آر سی-ای پی) پروگرام کے نفاذ کو مربوط کرتے ہیں۔ تربیت یافتہ کمیونٹی ریسورس پرسنز-انٹرپرائز پروموشن (سی آر پی-ای پی) بلاک ریسورس سینٹرز کو انٹرپرائز پروموشن کے سلسلے میں  تکنیکی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ بینک اہل کاروباریوں کو مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جیز) اور ان کی فیڈریشنز ممکنہ کاروباریوں کی شناخت میں مدد کرتی ہیں۔ کمیونٹی ادارے انٹرپرائزز)  کاروبار( کے قیام میں مدد کرتے ہیں اور ضروری معاونت فراہم کرتے ہیں۔  وہ کمیونٹی انٹرپرائز فنڈ (سی ای ایف) کے ذریعے قرضوں کا انتظام بھی کرتے ہیں۔ کمیونٹی ادارے کاروباری اداروں کی کارکردگی اور ترقی کی باقاعدگی سے نگرانی بھی کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹولز کاروباری منصوبہ بندی، قرض کی تشخیص اور انٹرپرائز ٹریکنگ میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ یہ مربوط طریقۂ کار مؤثر نفاذ اور کاروباری ترقی کو یقینی بناتا ہے۔

سی آر پی-ای پی کا انتخاب ایس آر ایل ایم اور پروجیکٹ پر عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے جانچ، تربیت اور تصدیق کے مشترکہ عمل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ بنیادی کاروباری اور ریاضیاتی مہارت رکھنے والے مقامی باشندوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کم از کم 90 فیصد سی آر پی-ای پی، ایس ایچ جی گھرانوں سے منتخب کیے جاتے ہیں، جن میں کم از کم 60 فیصد کیڈر خواتین پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر سی آر پی-ای پی 50 کاروباری اداروں کو رہنمائی، تربیت اور قرض کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

ایس ایچ جی ممبر سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سی آر پی-ای پی تک

اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی محترمہ پونم نے سماجی اور مالی رکاوٹوں پر قابو پا کر ایک کامیاب سی آر پی-ای پی بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ سیلف ہیلپ گروپ میں شامل ہونے کے بعد، انہیں ایس وی ای پی سے متعارف کرایا گیا اور انہوں نے 54 روزہ سی آر پی-ای پی تربیتی پروگرام مکمل کیا۔ اس تربیت نے انہیں انٹرپرائز کے فروغ اور ذریعۂ معاش کی ترقی کے لیے ضروری مہارتیں سکھائیں۔اپنی تربیت مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے کاروباری منصوبہ بندی میں مدد، قرض تک رسائی میں سہولت، بازار سے روابط قائم کرنے اور مسلسل رہنمائی فراہم کر کے تقریباً 40 کاروباری اداروں کی مدد کرنا شروع کی۔ پونم اپنی مالی خود مختاری کا سہرا ایس وی ای پی کو دیتی ہیں اور اس موقع کی قدر کرتی ہیں، جس نے انہیں دوسروں کو اپنے کاروبار قائم کرنے اور بڑھانے میں مدد دینے کے قابل بنایا۔ ان کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح کمیونٹی پر مبنی ادارے اور انٹرپرینیورشپ سپورٹ دیہی معاش کو مضبوط کر سکتے ہیں اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنا سکتے ہیں۔

کاروباری افراد کی شناخت کمیونٹی اداروں کے ذریعے ضرورت، غربت کی حیثیت اور کاروباری صلاحیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ کمیونٹی پر مبنی تنظیموں کے ذریعے فراہم کردہ حتمی قرض کی منظوری کے بعد، انٹرپرائز کی عملداری کے جائزے کی بنیاد پر مستفیدین کو تربیت، رہنمائی اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ پروگرام میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ کم از کم 60 فیصد مستفیدین خواتین ہوں، جبکہ معذور افراد اور ایس سی/ایس ٹی/اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

ایس وی ای پی کی نگرانی سہ ماہی جائزوں اور وقتاً فوقتاً کیے جانے والے جائزوں کے ذریعے ریاستی اور مرکزی سطح پر کی جاتی ہے۔ مزید برآں، انٹرپرائز کی کارکردگی، فنڈ کے استعمال اور پروگرام کی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے ایک مرکزی ایم آئی ایس نظام بھی موجود ہے۔

دیہی ذریعۂ معاش   اور صنعت کاری پر ایس وی ای پی کا اثر

کوالٹی کونسل آف انڈیا (کیو سی آئی) نے دیہی ترقی کی وزارت کے لیے ایس وی ای پی کا درمیانی مدت کا جائزہ لیا، جس کے تحت 2019 میں بڑے پیمانے پر فیلڈ جائزے کیے گئے۔ اس جائزے میں دیہی کاروباری اداروں، ذریعۂ معاشاور سماجی شمولیت پر پروگرام کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج آمدنی پیدا کرنے، کاروباری ترقی اور کمزور برادریوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے مثبت اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں:

  • ایس وی ای پی کی حمایت یافتہ کاروباری اداروں میں سے 99 فیصد منافع بخش تھے۔
  • ایس وی ای پی کے کاروباری اداروں نے کل گھریلو آمدنی میں 57 فیصد حصہ ڈالا۔
  • اوسط ماہانہ کاروباری آمدنی تقریباً 39,000 روپے تھی۔
  • مینوفیکچرنگ انٹرپرائزز نے سب سے زیادہ اوسط ماہانہ آمدنی، یعنی 47,800 روپے، ریکارڈ کی۔
  • 96 فیصد کاروباری افراد نے بچت میں اضافے کی اطلاع دی۔
  • 75 فیصد کاروباری اداروں کی ملکیت یا ان کا انتظام خواتین کے پاس تھا۔

ایس وی ای پی نے کاروباریوں کو اپنی ابتدائی توقعات سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے میں مدد دی۔ مالی معاونت تک بہتر رسائی نے کاروباریوں کو کاروباری ادارے قائم کرنے اور انہیں وسعت دینے کے قابل بنایا۔ مسلسل رہنمائی نے انٹرپرائز مینجمنٹ اور پائیداری کو مضبوط کیا۔

مزید برآں، ایس وی ای پی نے خواتین اور پسماندہ طبقات کو پہلی نسل کے کاروباری بننے کی ترغیب دی۔ مستفیدین نے اعتماد اور ذریعۂ معاش کے تحفظ میں بہتری کی اطلاع دی۔ بہت سے گھرانوں نے تعلیم، غذائیت، صحت اور صفائی ستھرائی کے شعبوں میں بہتر نتائج کا تجربہ کیا۔ کاروباری افراد نے کاروباری انتظام اور مالیاتی مہارتیں حاصل کیں۔ بچت میں اضافہ اور دوبارہ سرمایہ کاری نے طویل مدتی کاروباری ترقی کی حمایت کی۔ اس پروگرام نے اپنی برادریوں میں مستفیدین کی سماجی حیثیت کو بھی بہتر بنایا۔

فلاح و بہبود سے انٹرپرائز کی قیادت والی ترقی تک

ایس وی ای پی نے یہ ثابت کیا ہے کہ مضبوط کمیونٹی اداروں کی حمایت حاصل ہونے پر دیہی صنعت کاری جامع اقتصادی ترقی کے ایک طاقتور محرک کے طور پر کام کر سکتی ہے۔ خواتین، ایس سی/ایس ٹی برادریوں اور پہلی نسل کے کاروباریوں کو بااختیار بنا کر، اس پروگرام نے مقامی امنگوں کو پائیدار کاروباری اداروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آمدنی میں اضافہ، بچت میں بہتری اور گھریلو فلاح و بہبود کو فروغ ملا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس پروگرام نے یہ ثابت کیا ہے کہ کاروباری صلاحیت ہر گاؤں میں موجود ہے اور مناسب ماحولیاتی نظام فراہم ہونے پر فروغ پا سکتی ہے۔ جیسے جیسے ہندوستان ایک عالمی اسٹارٹ اپ مرکز بننے کی طرف بڑھ رہا ہے، ایس وی ای پی جیسے پروگرام ایک متحرک دیہی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہ روزگار پیدا کر رہے ہیں، مقامی معیشتوں کو مضبوط بنا رہے ہیں، اور لاکھوں دیہی خاندانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ بالآخر، یہ ایک خود کفیل اور ترقی یافتہ ہندوستان کے وژن کی تکمیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

حوالہ جات

دیہی ترقی کی وزارت

https://svep.nrlm.gov.in/landing

https://svep.nrlm.gov.in/pdf/Final_Mid_Term_Report.pdf

https://nrlm.gov.in/dashboardForOuter.do?methodName=dashboard

https://lakhpatididi.gov.in/wp-content/uploads/2024/02/SVEP_updated_Master_Circular.pdf

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/13/AU2824.pdf?source=pqals

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1651525&reg=48&lang=2

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU3940_Wamd8p.pdf?source=pqals

وزارتِ تجارت

https://www.ibef.org/blogs/svep-start-up-village-entrepreneurship-programme

حکومتِ ناگالینڈ

https://nsrlm.nagaland.gov.in/wp-content/uploads/2020/07/guidelines-CRP-EP.pdf

پی آئی بی بیک گراؤنڈر

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2195990&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2267960&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/FeaturesDeatils.aspx?NoteId=156719&ModuleId=2&reg=3&lang=1

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے کلک کریں۔

***

UR-573

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2289352) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil