مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے گنٹور میں جدید ’’جن سیوا کنیکٹ‘‘ ڈاک خانوں کا افتتاح کیا
5,785 کروڑ روپے کے ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبے، مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی خدمات اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے انڈیا پوسٹ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا
مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں آندھرا پردیش پوسٹل سرکل نے ملک بھر میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 6:24PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات و دیہی ترقیات، ڈاکٹر چندر شیکھر پیمّاسانی نے آج گنٹور میں "جن سیوا کنیکٹ" اقدام کے تحت کوتھاپیٹہ اور چندرامولی نگر کے جدید ذیلی ڈاکخانے کا افتتاح کیا۔ یہ جدید طرز کے ڈاک خانے عوامی خدمات کے اگلے سلسلے کے مراکز کے طور پر تیار کیے گئے ہیں، جہاں جدید سہولیات کو آندھرا پردیش کی بھرپور ثقافتی وراثت کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ ان مراکز میں ڈاک، بینکاری، ڈیجیٹل اور لاجسٹکس سے متعلق مربوط خدمات ایک ہی چھت کے نیچے فراہم کی جائیں گی۔


اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہا کہ انڈیا پوسٹ اب محض خطوط پہنچانے والا محکمہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا قومی ادارہ بن چکا ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے، معاشرے کو بااختیار بنانے اور بھارت کی ڈیجیٹل و اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر مواصلات جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا کی رہنمائی میں محکمہ ڈاک اپنی 170 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی اور جامع تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کے نتیجے میں اسے عالمی معیار کے لاجسٹکس، ای کامرس اور مالیاتی خدمات کے مضبوط نیٹ ورک کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔

وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہا کہ حکومت نے آئی ٹی 2.0 اور اعلی ترین پوسٹل ٹیکنالوجی (اے پی ٹی) 2.0 کے تحت 5,785 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈاک کے شعبے میں ملک کے سب سے بڑے تکنیکی جدیدکاری پروگراموں میں سے ایک شروع کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ پر مبنی پلیٹ فارم اور حقیقی وقت (ریئل ٹائم) کے ڈیٹا کو ملک بھر کے 1.65 لاکھ سے زائد ڈاک خانوں کے نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے، جن میں تقریباً 90 فیصد دیہی علاقوں میں واقع ہیں۔ اس تبدیلی سے خدمات کی فراہمی تیز، پارسل اور ڈاک کی بروقت ٹریکنگ ممکن، انتظامی کارکردگی بہتر اور صارفین کو زیادہ آسان اور مؤثر خدمات فراہم ہو رہی ہیں۔
ڈاکٹر چندر شیکھر نے مزید کہا کہ انڈیا پوسٹ نے کارپوریٹ طرزِ حکمرانی کو بھی اپنایا ہے۔ اس مقصد کے لیے چیف ٹیکنالوجی آفیسر (سی ٹی او)، چیف مارکیٹنگ آفیسر (سی ایم او) اور نائب چیف ٹیکنالوجی آفیسر (نائب سی ٹی او) جیسے اہم عہدے قائم کیے گئے ہیں۔ واضح کاروباری اہداف، ماہانہ کارکردگی کا جائزہ، جوابدہی کے مؤثر نظام اور صارفین کو اولین ترجیح دینے کی پالیسی کے ذریعے محکمہ ڈاک کو زیادہ فعال، مسابقتی اور شہریوں و کاروباری اداروں کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

لاجسٹکس کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ انڈیا پوسٹ نے نئی قیمتوں کا نظام، بڑی تعداد میں بکنگ پر رعایت، "اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں" کی سہولت، خصوصی پیکجنگ، جیو ٹیگ شدہ ترسیل، ایس ایم ایس کے ذریعے ٹریکنگ، او ٹی پی کی بنیاد پر ترسیل کی تصدیق اور 24 سے 48 گھنٹوں میں ڈیلیوری کے معیارات متعارف کرائے ہیں۔گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس، او این ڈی سی، ایمیزون، فلپ کارٹ، پتنجلی اور بین الاقوامی لاجسٹکس کمپنیوں جیسے ڈی ایچ ایل کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے ملک کے ای کامرس نظام کو فروغ مل رہا ہے اور لاجسٹکس کے شعبے میں انڈیا پوسٹ کی پوزیشن مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاک خانے تیزی سے جامع عوامی خدمات کے مراکز میں تبدیل ہو رہے ہیں، جہاں یو پی آئی ادائیگیاں، آدھار کا اندراج اور اپ ڈیٹ، پاسپورٹ سیوا، انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک کی گھر بیٹھے بینکاری، پوسٹل لائف انشورنس، دیہی پوسٹل لائف انشورنس اور حکومت کی مختلف بچت اسکیموں کی سہولتیں ایک ہی جگہ فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس وقت انڈیا پوسٹ سکنیا سمردھی یوجنا کے 3.8 کروڑ سے زیادہ کھاتوں کا انتظام کر رہا ہے، جبکہ ڈاک سے متعلق 60 فیصد سے زیادہ لین دین اب ڈیجیٹل طریقے سے انجام پا رہا ہے، جو محکمہ ڈاک کی کم نقدی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی جانب کامیاب پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
**وزیر مملکت نے گرامین ڈاک سیوک اور ڈاکیوں کو اس تبدیلی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جی ڈی ایس سمیلن، منظم تربیتی پروگرام، فروخت سے متعلق رہنمائی، ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ، شکایات کی نگرانی، حوصلہ افزائی کے نظام اور کارکردگی سے منسلک جوابدہی کے ذریعے انڈیا پوسٹ اپنے صفِ اول کے عملے کو بااختیار بنا رہا ہے، تاکہ وہ دیہی بھارت میں مالی شمولیت اور ڈیجیٹل حکمرانی کے قابلِ اعتماد نمائندے بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی ایس ملازمین خاندانوں کو بچت، انشورنس اور مالی منصوبہ بندی سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری خدمات تک عوام کی رسائی بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہا کہ ان اصلاحات کے نہایت حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں انڈیا پوسٹ نے اپنی تاریخ کی پہلی سہ ماہی کی سب سے زیادہ آمدنی، یعنی 4,009 کروڑ روپے، حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔ صفر لین دین والے کھاتوں کی تعداد میں 90 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے، جبکہ مؤثر صلاحیت کا تناسب 41 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہو گیا ہے، جو انتظامی کارکردگی میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر مملکت نے آندھرا پردیش پوسٹل سرکل کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں اس نے ملک کے بہترین پوسٹل سرکل کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ آندھرا پردیش پوسٹل سرکل نے اپنی سہ ماہی کاروباری ہدف کا 102 فیصد حاصل کرتے ہوئے 233.7 کروڑ روپے کی آمدنی درج کی، میل آپریشنز میں قومی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی، پارسل کاروبار میں 140 فیصد شاندار اضافہ ریکارڈ کیا اور "جے ہو بھیما سنکلپ" انشورنس مہم کے تحت 50 کروڑ روپے سے زیادہ کا کاروبار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آندھرا پردیش حکومت کی اہم فلاحی اسکیموں، جن میں تلّیکی وندنم، دیپم، این ٹی آر ریتھو بھروسہ اور این ٹی آر نگر شامل ہیں، کے تقریباً 33 فیصد مستحقین کو ادائیگیاں ڈاک کے نیٹ ورک کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جو ملک کے دور دراز علاقوں تک انڈیا پوسٹ کی بے مثال رسائی کو ظاہر کرتا ہے۔

گنٹور میں کیے گئے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہا کہ ان دونوں ڈاک خانوں کو اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچر کی رہنمائی میں آندھرا پردیش کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنے کے مقصد سے نئے انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ کوتھاپیٹہ سب پوسٹ آفس کو 51.81 لاکھ روپے کی لاگت سے جدید بنایا گیا ہے، جہاں 1975 میں جاری کیے گئے کُچی پوڑی یادگاری ڈاک ٹکٹ سے متاثر سرخ رنگ کی منفرد آرائشی دیوار بنائی گئی ہے۔ اسی طرح چندرامولی نگر سب پوسٹ آفس کو 64.13 لاکھ روپے کی لاگت سے ازسرِنو تعمیر کیا گیا ہے، جس کا طرزِ تعمیر تیروملا کے مشہور آنند نیلایم مندر کے مینار سے متاثر ہے۔
وزیر مملکت نے "جن سیوا کنیکٹ" اقدام کو کامیابی سے نافذ کرنے پر آندھرا پردیش پوسٹل سرکل اور گنٹور ڈویژن کے افسران اور عملے کو مبارک باد دی۔ انہوں نے خاص طور پر ڈاکیوں اور گرامین ڈاک سیوک ملازمین کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں انڈیا پوسٹ کی کامیابی کے حقیقی معمار قرار دیا، جو موسم اور جغرافیائی مشکلات سے بے نیاز ہو کر ہر گھر تک ضروری خدمات پہنچا رہے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر چندر شیکھر نے کہا کہ "وکست بھارت" صرف حکومت کا ایک مشن نہیں، بلکہ پورے ملک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مرکزی حکومت اور آندھرا پردیش حکومت باہمی تعاون سے تیز رفتار، جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اور عوام دوست طرزِ حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ "جن سیوا کنیکٹ" اقدام کے تحت ہر ڈاک خانہ ایک قابلِ اعتماد عوامی ادارے کے طور پر ابھرے گا، جو طلبہ کی رہنمائی، کاروباری افراد کو بااختیار بنانے، خواتین کی خدمت، بزرگ شہریوں کی مدد اور مقامی برادریوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، اور اس طرح بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے وژن کی تکمیل کی جانب مزید ایک مضبوط قدم بڑھائے گا۔
***
(ش ح۔م ع۔ م ذ۔)
UR No.559
(रिलीज़ आईडी: 2289180)
आगंतुक पटल : 6