زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
قومی مشن برائے قدرتی کھیتی کے تحت قدرتی کھیتی کے فروغ کی پیش رفت
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 5:59PM by PIB Delhi
مرکزی کابینہ نے 25 نومبر 2024 کو قدرتی کھیتی سے متعلق قومی مشن(این ایم این ایف)کو ایک مرکزی معاونت یافتہ اسکیم کے طور پر منظوری دی، جس پر ملک بھر میں قدرتی کھیتی کو فروغ دینے کے لیے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ قدرتی کھیتی ایک کیمیکل سے پاک زرعی نظام ہے، جس میں مویشیوں پر مبنی مربوط قدرتی کاشتکاری اور ہندوستانی روایتی علم پر مبنی متنوع فصلی نظام شامل ہیں۔ یہ طریق کاشت زمین کی زرخیزی بہتر بناتا ہے، ماحولیاتی نظام کی بحالی میں مدد دیتا ہے، کسانوں کی پیداواری لاگت کم کرتا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔
قدرتی کھیتی زمین، پانی، مائیکرو بایوم، پودوں، جانوروں، آب و ہوا اور انسانی ضروریات کے درمیان موجود باہمی تعلق کو تسلیم کرتی ہے۔ اس مشن کے تحت سال 2024-25 اور 2025-26 کے دوران ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں قدرتی کھیتی سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد، قدرتی کھیتی کے تحت لائی گئی زمین کا رقبہ اور تشکیل دیے گئے کلسٹرز کی تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
اس مشن کے تحت 527 کرشی وگیان کیندرز (کے وی کیز) ، 76 زرعی یونیورسٹیاں (اے یو ایس) اور 194 مقامی قدرتی کھیتی کے ادارے (این این ایف آئی ایس) کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ کلسٹر کی سطح پر اس اسکیم کے مؤثر نفاذ میں تعاون فراہم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ 18 مراکز برائے قدرتی کھیتی (سی او این ایف ایس) قائم کیے گئے ہیں، جہاں سائنس دانوں ،کے وی کیز اور زرعی یونیورسٹیوں سے وابستہ ریاست، ضلع اور بلاک سطح کے عمل درآمد کرنے والے سرکاری افسران اور فارمر ماسٹر ٹرینرز )ایف ایم ٹی ایس کو تربیت دی جاتی ہے۔
کلسٹر کی سطح پر کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پی ایس)تعینات کیے جاتے ہیں، جو کسانوں کو قدرتی کھیتی کے طریقوں پر عملی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اب تک اس مشن کے تحت 33,257 کرشی سکھیوں(کے ایس) اور کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پی ایس) کو کرشی وگیان کیندرز، زرعی یونیورسٹیوں اور مقامی قدرتی کھیتی کے اداروں میں تربیت دی جا چکی ہے۔
ضمیمہ-1
قومی مشن برائے قدرتی کھیتی (این ایم این ایف) کے تحت ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تشکیل دئیے گئے کلسٹرز، رجسٹرڈ کسانوں کی تعداد اور قدرتی کھیتی کے تحت لائے گئے رقبے (ہیکٹر میں) کی تفصیلات (2024-25 اور 2025-26)
|
نمبر شمار
|
ریاست/ مرکز کے زیر کنٹرول علاقے
|
کلسٹرز بنائے گئے
|
اندراج شدہ کسانوں کی تعداد
|
رقبہ ہیکٹر میں
|
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
2
|
250
|
100
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
5002
|
650163
|
425912.564
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
108
|
2982
|
705.316
|
|
4
|
آسام
|
32
|
3721
|
2584.596
|
|
5
|
بہار
|
450
|
50065
|
21155.308
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
467
|
57590
|
25605.416
|
|
7
|
دہلی
|
6
|
375
|
150
|
|
8
|
گوا
|
13
|
1623
|
630.888
|
|
9
|
گجرات
|
1033
|
117108
|
48740.94
|
|
10
|
ہریانہ
|
194
|
11288
|
9307.212
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
531
|
62003
|
22002.316
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
160
|
19791
|
6905.048
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
182
|
11562
|
4586.88
|
|
14
|
کرناٹک
|
991
|
124332
|
54456.8
|
|
15
|
کیرالہ
|
114
|
16700
|
6210.112
|
|
16
|
لداخ
|
4
|
621
|
175.616
|
|
17
|
مدھیہ پردیش
|
1805
|
167661
|
90902.256
|
|
18
|
مہاراشٹر
|
1711
|
143707
|
40514.96
|
|
19
|
منی پور
|
88
|
9077
|
3564.632
|
|
20
|
میگھالیہ
|
84
|
7017
|
2273.396
|
|
21
|
میزورم
|
176
|
13503
|
8396.04
|
|
22
|
ناگالینڈ
|
107
|
7998
|
3473.12
|
|
23
|
اوڈیشہ
|
442
|
60422
|
24058.648
|
|
24
|
پڈوچیری
|
6
|
772
|
256.252
|
|
25
|
پنجاب
|
68
|
5295
|
1831.28
|
|
26
|
راجستھان
|
2380
|
212346
|
91165.58
|
|
27
|
تمل ناڈو
|
60
|
6072
|
2708.912
|
|
28
|
تلنگانہ
|
506
|
61205
|
35819.928
|
|
29
|
تری پورہ
|
111
|
13643
|
5188.988
|
|
30
|
اتر پردیش
|
1857
|
230733
|
83166.9
|
|
31
|
اتراکھنڈ
|
203
|
23032
|
9566.548
|
| |
مجموعی
|
18893
|
2092657
|
1032116.452
|
یہ معلومات زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب رام ناتھ ٹھاکر نے ایوان بالا- راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
******
UR- 555
ش ح۔ ظ الف – ر ض
(रिलीज़ आईडी: 2289116)
आगंतुक पटल : 6