بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بحری شعبے میں روزگار کے مواقع

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 4:51PM by PIB Delhi

بحری شعبے میں روزگار کے مواقع کو مستحکم بنانے کے لیے حکومت نے افرادی قوت کی صلاحیت سازی کے حوالے سے ایک جامع اور کثیر جہتی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ چونکہ بحری جہازوں پر عملی تربیت  توثیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے لازمی شرط ہے، اس لیے تربیتی صلاحیت میں اضافہ، صنعت کی شراکت داری کو فروغ دینے اور جہازوں پر مزید تربیتی مواقع پیدا کرنے کے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات سے ہندوستانی بحری تربیت یافتگان کے لئے ملازمت حاصل کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور بحری افرادی قوت کی طویل مدتی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔ اسی سلسلے میں انڈمان و نکوبار انتظامیہ کے مسافر بردار جہاز ایم وی سوراج دیپ پر، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا (ایس سی آئی) کے اشتراک سے، 96 تربیتی نشستیں قائم کی گئی ہیں، جن سے کثیرمقاصد (جی پی) ریٹنگ اور میری ٹائم کیٹرنگ سرٹیفکیٹ کورس (سی سی ایم سی) کے امیدوار مستفید ہوں گے۔

اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے مال برداری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے حکومت نے قومی آبی گزرگاہ ایکٹ، 2016 کے تحت ملک میں مجموعی طور پر 111 قومی آبی گزرگاہوں (جن میں پہلے سے موجود 5 اور نئی 106 شامل ہیں) کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے میری ٹائم انڈیا وژن 2030 اور میری ٹائم امرت کال وژن 2047 کے تحت ان قومی آبی گزرگاہوں کی ترقی کے لیے عملی منصوبے بھی تیار کیے ہیں۔ اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے ذریعے مال برداری کو فروغ دینے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور پالیسی سے متعلق اقدامات کی تفصیلات ضمیمہ-1 میں دی گئی ہیں۔ان اقدامات کے نتیجے میں قومی آبی گزرگاہوں پر مال برداری کا حجم مالی سال 2013-14 کے 1.8 کروڑ ٹن سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 21.8 کروڑ ٹن تک پہنچ گیا۔ سال 2014 سے 2026 تک اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے مال برداری کی سال وار تفصیلات اور فعال سمندری ملاحوں (سی فیئررز) کا ریکارڈ ضمیمہ-2 میں پیش کیا گیا ہے۔

ضمیمہ-1

قومی آبی گزرگاہوں پر اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے فروغ اور اسے جدید بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے بنیادی ڈھانچے اور پالیسی سے متعلق اقدامات

بنیادی ڈھانچے سے متعلق اقدامات:

مختلف قومی آبی گزرگاہوں (این ڈبلیو) پر جہازرانی کے لیے 35 یا 45 میٹر چوڑا آبی راستہ اور کم از کم دستیاب گہرائی (ایل اے ڈی) 2.0، 2.2، 2.5 یا 3.0 میٹر برقرار رکھنے کے لیے دریا کی تربیت، ڈریجنگ، آبی راستوں کی نشاندہی اور باقاعدہ ہائیڈروگرافک سروے جیسے کام انجام دیے جا رہے ہیں۔

قومی آبی گزرگاہ-1 (دریائے گنگا) پر پہلے سے موجود 5 مستقل ٹرمینلز کے علاوہ 66 کمیونٹی جیٹیاں، 20 تیرتے ہوئے ٹرمینلز، 3 کثیر موڈل ٹرمینلز (ایم ایم ٹیز)، ایک انٹر موڈل ٹرمینل (آئی ایم ٹی) اور 4 رو۔پیکس ٹرمینلز تعمیر کیے گئے ہیں۔

قومی آبی گزرگاہ-2 (دریائے برہم پترا) پر 13 تیرتے ہوئے ٹرمینلز فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ پانڈو اور جوگی گھوپا میں کثیر موڈل ٹرمینلز (ایم ایم ٹیز) اور بوگی بیل و دھوبری میں ٹرمینلز قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جوگی گھوپا، پانڈو، بشوناتھ گھاٹ اور نیامتی میں کروز جہازوں کے لیے 4 مخصوص جیٹیز تعمیر کی گئی ہیں، جبکہ آسام کے سادیا، لائیکا اور اوریئم گھاٹ میں کروز اور مسافر بردار جیٹیاں بھی قائم کی گئی ہیں۔

قومی آبی گزرگاہ-16 (دریائے باراک) پر بدرپور اور کریم گنج کے دو موجودہ ٹرمینلز کو جدیدکاری کی گئی ہے، جبکہ تریپورہ میں دریائے گومتی پر واقع سونامورا ٹرمینل کو آئی بی پی روٹ کے تحت تعمیر کیا گیا ہے۔

قومی آبی گزرگاہ-3 (کیرالہ میں مغربی ساحلی نہر) پر گوداموں سمیت 9 مستقل اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے ٹرمینلز اور 2 آر او-آراو/آر او-پیکس ٹرمینلز تعمیر کیے گئے ہیں۔

قومی آبی گزرگاہ-68 (دریائے منڈوی) پر گوا حکومت کو 4 تیرتی ہوئی کنکریٹ جیٹیز فراہم کی گئیں، جنہیں نصب بھی کر دیا گیا ہے۔

قومی آبی گزرگاہ-4 (دریائے کرشنا) پر آندھرا پردیش میں 4 سیاحتی جیٹیاں فعال کی جا چکی ہیں۔ اسی طرح قومی آبی گزرگاہ-110 (دریائے جمنا) پر اتر پردیش کے متھرا–ورنداون حصے میں 8 تیرتی ہوئی جیٹیز، قومی آبی گزرگاہ-73 (دریائے نرمدا) پر 2 جیٹیز اور بہار میں قومی آبی گزرگاہ-37 (دریائے گنڈک) پر بھی 2 جیٹیز قائم کی گئی ہیں۔

قومی آبی گزرگاہ-1 پر فرکا میں ایک نیا نیویگیشن لاک اور دو کوئیک پونٹون اوپننگ میکانزم (کیو پی او ایم) تعمیر کیے گئے ہیں، تاکہ جہازوں کی آمد و رفت زیادہ تیز، آسان اور بلا رکاوٹ ہو سکے۔

پالیسی سے متعلق اقدامات:

حکومت نے مال بردار اداروں کو اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے استعمال کی ترغیب دینے کے لیے 35 فیصد مالی ترغیبی اسکیم کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ قومی آبی  گزرگاہ-1، قومی آبی  گزرگاہ -2 اور قومی آبی  گزرگاہ -16 پر، انڈو۔بنگلہ دیش پروٹوکول راستے کے ذریعے ان لینڈ اینڈ کوسٹل شپنگ لمیٹڈ (آئی سی ایس ایل) کے ذریعہ باقاعدہ مال برداری خدمات کے لیے بھی یہ ترغیب فراہم کی جائے گی۔ توقع ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے تقریباً 800 ملین ٹن۔کلومیٹر مال برداری آبی راستوں کی طرف منتقل ہوگی، جو قومی آبی گزرگاہوں پر موجودہ 4,700 ملین ٹن۔کلومیٹر مال برداری کا تقریباً 17 فیصد ہے۔ یہ اسکیم تین برس کے لیے 95.42 کروڑ روپے کی لاگت سے نافذ کی جا رہی ہے اور اس کی کامیابی کی بنیاد پر اسے وسعت دی جا سکتی ہے یا اس میں ضروری تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔

یکم فروری 2025 کو پیش کیے گئے مرکزی بجٹ میں ہندوستانی جہاز رانی ایکٹ، 2021 کے تحت رجسٹرڈ اندرونِ ملک آبی جہازوں تک ٹن پر مبنی ٹیکس اسکیم کی توسیع کا اعلان کیا گیا۔ اس سے قومی آبی گزرگاہوں، دریاؤں اور نہروں میں چلنے والے جہازوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس اقدام سے شعبے کی مسابقت میں اضافہ ہوگا اور مزید مال بردار ادارے اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کو اختیار کرنے کی جانب راغب ہوں گے۔ ٹن پر مبنی ٹیکس نظام کے تحت جہاز رانی کمپنیوں پر ٹیکس ان کے حقیقی منافع کی بجائے جہاز کی گنجائش  کی بنیاد پر عائد کیا جاتا ہے، جس سے جہاز مالکان کو نسبتاً کم، مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے اور ان پر مالی بوجھ کم ہوتا ہے۔

قومی آبی گزرگاہیں (جیٹیز/ٹرمینلز کی تعمیر) ضوابط، 2025 کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے۔ ان ضوابط کے تحت نجی کمپنیوں کو اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری اور اس کے انتظام و انصرام کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ واضح ضابطہ جاتی نظام کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور اس شعبے کی ترقی میں تیزی آئے۔

جلیان اور ناوک: اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے شعبے میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے، سڑک ٹرانسپورٹ کے واہن اور سارتھی نظام کی طرز پر جہازوں اور عملے کی رجسٹریشن کے لیے ایک مرکزی ڈیٹا بیس اور آن لائن پورٹل تیار کیا گیا ہے۔ اس سے ملک بھر میں جہازوں اور عملے کی ڈیجیٹل رجسٹریشن ممکن ہوگی، ان کی درست تعداد کا ریکارڈ دستیاب ہوگا اور مستقبل کی منصوبہ سازی میں سہولت ملے گی۔

مال برداری کے عمل کو یکجاکرنا: آبی گزرگاہوں کے کنارے صنعتی سرگرمیوں کی کمی کے باعث مختلف ذرائع نقل و حمل کے درمیان مربوط رابطے (کثیر موڈیلٹی) میں دشواری پیش آتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وارانسی میں کثیر موڈل لاجسٹکس پارک (ایم ایم ایل پی) اور صاحب گنج میں مضبوط کلسٹر کم لاجسٹکس پارک کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کی ترقی کی ذمہ داری وزارتِ سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہوں کے تحت سرکاری ادارے این ایچ ایل ایم ایل کو سونپی گئی ہے، جبکہ تین کثیر موڈل ٹرمینلز (ایم ایم ٹیز) کو ریل نیٹ ورک سے جوڑنے کا کام انڈین پورٹ اینڈ ریل کمپنی لمیٹڈ (وزارتِ بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے تحت سرکاری ادارہ) کے سپرد کیا گیا ہے۔

انڈو۔بنگلہ دیش پروٹوکول روٹ (آئی بی پی): مائیا اور سلطان گنج کے درمیان پروٹوکول روٹس نمبر 5 اور 6 کو کامیاب آزمائشی سفر کے بعد حال ہی میں فعال کر دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی جانب سے باضابطہ منظوری موصول ہوتے ہی ان راستوں پر باقاعدہ مال برداری کا آغاز کر دیا جائے گا۔

سرکاری اداروں کے ذریعے کارگو کی منتقلی: مال برداری کو سڑک یا ریل سے آبی راستوں کی طرف منتقل کرنے کے لیے 140 سے زائد سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یوز) سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ وہ اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے ذریعے اپنے سامان کے مال برداری کی منصوبہ بندی کریں۔ ان اداروں سے موجودہ مال برداری کی صورتحال اور آبی راستوں کی جانب منتقلی کے منصوبے کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ اسی مقصد کے لیے وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس، وزارتِ تعاون، وزارتِ کیمیکل و کھاد، وزارتِ خوراک و عوامی نظام تقسیم، وزارتِ بھاری صنعت، وزارتِ فولاد اور وزارتِ کوئلہ سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت سرکاری اداروں کو زیادہ سے زیادہ اندرونِ ملک آبی نقل و حمل کے وسائل استعمال کرنے اور میری ٹائم انڈیا وژن (ایم آئی وی) کے اہداف کے مطابق اپنے کارگو کا ایک مخصوص حصہ اس نظام کے لیے مختص کرنے کی ہدایت دیں۔

ضمیمہ-2

قومی آبی گزرگاہوں پر مال برداری کے اعداد و شمار (مالی سال 2013-14 سے 2025-26 تک)) ملین میٹرک ٹن میں(

National Waterways (N W)

201

3-14

201

4-15

201

5-1

6

201

6-17

201

7-1

8

201

8-19

201

9-20

202

0-21

2021

-22

202

2-23

202

3-24

202

4-2

5

202

5-2

6

NW-1 (Ganga-Bhagirathi-Hooghly River System (H

aldia-Allahabad))

 

3.35

 

5.05

 

6.4

8

 

4.89

 

5.4

8

 

6.79

 

9.11

 

9.21

10

.93

1

3.17

1

2.82

 

16.

38

 

84.

78

NW-2 (Brahmaputra River (Dhubri-Sadiya))

 

2.48

 

0.51

 

0.6

0

 

0.61

 

0.5

6

 

0.49

 

0.39

 

0.31

0

.43

 

0.63

 

0.59

 

0.9

0

 

1.2

9

NW-3 (West Coast Canal

)

 

1.07

 

0.96

 

1.0

6

 

1.03

 

0.4

3

 

0.42

 

0.55

 

0.73

1

.70

 

3.23

 

3.29

 

3.4

9

 

4.0

4

NW-4 (Krishna Godavari River Systems)

 

 

 

 

 

 

0.45

 

0.08

 

6.83

11

.23

 

8.42

 

4.30

 

10.

40

 

5.7

1

NW-5 (East Coast Canal And Matai River/Brahman i-Kharsua-Dhamra Rivers

/Mahanadi Delta Rivers)

 

 

 

 

 

-

 

-

 

 

-

 

 

0

.01

 

 

0.40

 

 

0.64

 

0.3

8

 

0.6

6

NW-8 (Alappuzha-Chang anassery Canal)

 

 

 

 

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

0.03

 

0.04

 

0.0

4

 

0.0

4

NW-9 (Alappuzha-Kottay am Athirampuzha Canal)

 

 

 

 

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

0.02

 

0.02

 

0.0

3

 

0.0

3

 

 

NW-14 (Baitarni River)

 

 

 

 

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

0.00

 

-

 

0.0

3

NW-16 (Barak River)

 

 

 

 

 

-

 

-

 

0.00

 

0.00

0

.01

 

0.01

 

0.00

 

0.1

8

 

0.2

7

NW-23 (Budha Balanga)

 

 

 

 

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

0.03

 

0.02

 

0.0

2

 

0.0

2

NW-27 (Cumberjua River

)

 

 

 

 

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

-

 

0.3

6

 

NW-85 (Revadanda Cree k-Kundalika River System

)

 

 

-

 

 

 

 

1.72

 

1.59

 

1.08

0

.70

 

0.50

 

0.99

 

0.8

2

 

0.2

6

NW-91 (Shastri River - Ja igad Creek System)

 

 

-

 

 

 

 

3.53

 

0.12

 

9.23

22

.45

3

3.87

3

7.05

 

32.

64

 

34.

41

TOTAL Maharashtra Wa terways

1

0.18

22.5

4

2

8.8

5

33

.29

2

5.9

6

28

.34

24

.39

28

.21

43.

61

63

.15

68

.66

6

3.4

1

6

6.0

2

Goa Waterways

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

-

 

NW-68 (Mandovi River)

 

 

-

 

 

 

 

1.65

 

1.58

 

4.00

2

.62

 

2.54

 

2.42

 

2.8

4

 

5.1

3

NW-111 (Zuari River)

 

 

-

 

 

 

 

2.10

 

1.36

 

4.46

1

.96

 

0.39

 

1.10

 

1.3

2

 

1.5

7

TOTAL Goa Waterways

 

1.00

 

0.10

 

4.5

4

15

.65

1

1.0

9

3

.76

2

.93

 

8.46

4.

58

2

.93

3

.52

 

4.1

6

 

6.7

0

Gujarat Waterways

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

-

 

NW-73 (Narmada River)

 

 

-

 

 

 

 

0.04

 

0.10

 

0.08

0

.05

 

0.04

 

0.06

 

0.0

6

 

0.0

6

NW-100 (Tapi River)

 

 

-

 

 

 

2

8.78

3

0.92

2

5.63

29

.32

2

7.62

3

1.46

 

33.

31

 

34.

75

TOTAL Gujarat Waterw ays

 

 

-

 

 

1

1.5

2

28

.82

31

.02

25

.71

29.

37

27

.66

31

.51

3

3.3

6

3

4.8

1

Grand Total Million Ton nes

1

8.07

29

.16

4

1.5

3

55

.47

5

5.0

3

72

.30

73

.64

83

.61

108.

79

126

.15

133

.03

14

5.8

4

2

18.

24

Year on Year Traffic Gr

owth(%)

-

61.3

4

42.

43

33.5

7

-0.7

9

31.3

8

1.85

13.5

4

30.1

3

15.9

5

5.45

9.6

3

49.

64

 

سال 2025 تک فعال سمندری ملاحوں (سی فیئررز) کی تعداد

Year

Distinct Count

2014

117090

2015

126945

2016

143940

2017

154349

2018

208799

2019

234886

2020

224478

2021

205787

2022

250186 

2023

285454

2024

307901

2025

323429

یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

******

(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)

UR. No-538


(रिलीज़ आईडी: 2289109) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Tamil