صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی خاندانی صحت سروے6-پر تازہ ترین پیش رفت


این ایف ایچ ایس۔6 میں ملک بھر میں زچگی اور بچوں کی صحت سے متعلق اشاریوں میں نمایاں بہتری کا اظہار

این ایف ایچ ایس-6میں بالغ افراد میں طرزِ زندگی سے متعلق بیماریوں میں اضافے کو اجاگر کیا گیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 3:55PM by PIB Delhi

حکومت نے حالیہ قومی خاندانی صحت سروے(این ایف ایچ ایس) کے اہم نتائج کا جامع تجزیہ کیا ہے۔

اہم نتائج درج ذیل ہیں]این ایف ایچ ایس-5(21-2019) تااین ایف ایچ ایس-6(24-2023)[

  • ادارہ جاتی زچگی کی شرح 88.6 فیصد سے بڑھ کر 90.6 فیصد ہو گئی ہے۔
  • قبل از زچگی نگہداشت (اے این سی) کی کوریج 92.6 فیصد سے بڑھ کر 95.9 فیصد ہو گئی ہے، جبکہ کم از کم چاراے این سی وزٹس حاصل کرنے والی ماؤں کی شرح 58.5 فیصد سے بڑھ کر 65.2 فیصد ہو گئی ہے۔
  • تربیت یافتہ صحت کارکنوں کی نگرانی میں ہونے والی پیدائشوں کی شرح 89.4 فیصد سے بڑھ کر 91.3 فیصد ہو ئی ہے۔
  • مانع حمل طریقوں کے استعمال کی شرح 66.7 فیصد سے بڑھ کر 69.1 فیصد ہو گئی ہے۔
  • اسی دوران، غیر مکمل ضرورت (Unmet Need) کی مجموعی شرح، یعنی ایسے افراد کا تناسب جو حمل کو روکنا یا مؤخر کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی مانع حمل طریقے کا استعمال نہیں کر رہے، 9.4 فیصد سے کم ہو کر 8.5 فیصد ہو گئی ہے، جو مانع حمل طریقوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی براہِ راست عکاسی کرتی ہے۔
  • مجموعی شرح پیدائش(ٹی ایف آر) این ایف ایچ ایس-5 اور این ایف ایچ ایس-6دونوں میں 2 پر مستحکم رہی ہے، جو متبادل سطح 2.1 سے کم ہے اور مسلسل کم زرخیزی کی نشاندہی کرتی ہے۔
  • 12 سے 23 ماہ کی عمر کے بچوں میں مکمل حفاظتی ٹیکہ کاری کی کوریج 83.8 فیصد سے بڑھ کر 87.1 فیصد ہو گئی ہے (ویکسینیشن کارڈ کی معلومات کی بنیاد پر)۔
  • خسرہ پر مشتمل ویکسین (Measles-containing Vaccine) کی دوسری خوراک کی کوریج میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 58.6 فیصد سے بڑھ کر 71.8 فیصد ہو گئی ہے۔
  • سب سے نمایاں بہتری روٹا وائرس ویکسین میں دیکھی گئی ہے، جس کی کوریج این ایف ایچ ایس-5 اوراین ایف ایچ ایس-6 کے درمیان 36.4 فیصد سے بڑھ کر 85.4 فیصد ہو گئی، یعنی اس میں دوگنے سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
  • پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قد کا کم رہ جانا (Stunting) 35.5 فیصد سے کم ہو کر 29.3 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ شدید کمزوری (Severe Wasting) 7.7 فیصد سے کم ہو کر 5.2 فیصد ہو گئی ہے۔
  • این ایف ایچ ایس-6 میں موٹاپے میں اضافے کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جو دائمی غیر متعدی بیماریوں(این سی ڈی ایز کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔ 15 سے 49 سال کی عمر کی 30.7 فیصد خواتین اور 27.3 فیصد مرد زیادہ وزن یا موٹاپے کا شکار پائے گئے ہیں۔
  • بلڈ شوگر کی سطح زیادہ یا بہت زیادہ((>140 mg/dl  بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے دوا لینے والے افرادمیں 15 سال سے زیادہ عمر کی آبادی میں خواتین کے لیے اضافہ 13.5 فیصد سے بڑھ کر 17.8 فیصد اور مردوں کے لیے 15.6 فیصد سے بڑھ کر 20.9 فیصد ہو گیا ہے۔
  • 15 سال سے زیادہ عمر کے بالغ افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے۔ خواتین میں یہ شرح 21.3 فیصد سے کم ہو کر 19.4 فیصد اور مردوں میں 24.0 فیصد سے کم ہو کر 22.1 فیصد ہو گئی ہے۔

دیگر عوامی صحت کے اشاریوں کی تفصیلات درج ذیل رپورٹ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں:

https://www.nfhsiips.in/nfhsuser/assets/National%20Family%20Health%20Survey%20(NFHS-6)%202023-2024%20Fact%20Sheets.pdf

یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود، جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

                                                                                                           

 *****

ش ح۔ م ع ن

U.No. 525

 


(रिलीज़ आईडी: 2289041) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil