خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دو لاکھ آنگن واڑی مراکز کو 'سکشم آنگن واڑی' میں ترقی دینے کی منظوری


بہتر غذائیت اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کی فراہمی پر زور

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 2:00PM by PIB Delhi

ملک میں غذائی قلت (کُوپوشن) کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آنگن واڑی خدمات، پوشن ابھیان اور کشور لڑکیوں کی اسکیم کو یکجا کر کے مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 (مشن پوشن 2.0) کے تحت شامل کیا گیا ہے۔

یہ ایک مرکزی معاونت یافتہ مشن ہے، جس کے مختلف پروگراموں پر عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ پر عائد ہے۔ یہ مشن ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، بشمول غذائی قلت سے زیادہ متاثرہ اضلاع، میں نافذ کیا جا رہا ہے۔

اس مشن کے تحت چھ سال سے کم عمر کے بچے، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں اور 14 سے 18 سال عمر کی نوعمر لڑکیاں (خصوصاً خواہش مند اضلاع اور شمال مشرقی ریاستوں میں) مستحقین کے طور پر شامل ہیں۔

اس مشن کے تحت دو لاکھ آنگن واڑی مراکز  کو 'سکشم آنگن واڑی' میں تبدیل کرنے کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ بچوں اور خواتین کو بہتر غذائیت فراہم کی جا سکے اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

ان مراکز میں بہتر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں ایل ای ڈی اسکرینیں، پانی صاف کرنے کا نظام، پوشن واٹیکا، ابتدائی بچپن کی تعلیم کا تدریسی مواد اور بلڈنگ ایز لرننگ ایڈ  کے تحت  دیواروں پرتعلیمی پینٹنگز شامل ہیں، تاکہ بچوں کے لیے سیکھنے کا ماحول مزید دلچسپ اور مؤثر بنایا جا سکے۔

مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت غذائیت، نگرانی اور عوامی بیداری پر خصوصی توجہ اس مشن کے تحت 6 ماہ سے 6 سال تک کے بچوں، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور نوعمر لڑکیوں کو قومی غذائی تحفظ قانون 2013 کے شیڈول-II میں درج غذائی معیارات کے مطابق اضافی غذائیت فراہم کی جاتی ہے۔

ان غذائی معیارات پر جنوری 2023 میں نظرثانی کی گئی تھی۔ پہلے کے معیارات زیادہ تر صرف کیلوریز پر مبنی تھے، جبکہ نظرثانی شدہ معیارات میں متوازن غذا، غذائی تنوع، معیار اور مناسب مقدار کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ مستحقین کو زیادہ جامع اور بہتر غذائیت فراہم کی جا سکے۔

اس کے علاوہ شدید غذائی قلت  کے شکار بچوں کو خصوصی طور پر ٹیک ہوم راشن  بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

یہ اسکیم 'پوشن ٹریکر' نامی ڈیجیٹل ایپ کے ذریعے مسلسل مانیٹر کی جاتی ہے، جو معلوماتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک انتظامی نظام ہے۔ اس ایپ کے ذریعے آنگن واڑی مراکز، آنگن واڑی کارکنان اور مستحقین سے متعلق تمام سرگرمیوں کا تقریباً حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں اندراج اور جائزہ لیا جاتا ہے۔

ریاست وار مستحقین اور غذائی حالت میں آنے والی بہتری کی تفصیلات پوشن ٹریکر کے درج ذیل لنک پر دیکھی جا سکتی ہیں:

[https://www.poshantracker.in/statistics](https://www.poshantracker.in/statistics)

خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے مشترکہ طور پر بچوں میں غذائی قلت کے علاج اور انتظام سے متعلق رہنما اصول (Protocol for Management of Malnutrition in Children) بھی جاری کیے ہیں، جن کا مقصد شدید غذائی قلت کا بروقت علاج، اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات میں کمی لانا ہے۔

اس پروٹوکول کے تحت کمیونٹی کی سطح پر شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی بروقت شناخت اور جانچ کی جاتی ہے۔ جن بچوں کو طبی پیچیدگیاں لاحق نہ ہوں، ان کا علاج گھر پر مقامی، متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے ذریعے کیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر طبی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

اس مشن کا ایک اہم حصہ عوامی بیداری اور کمیونٹی کی شمولیت بھی ہے، کیونکہ بہتر غذائی عادات اپنانے کے لیے طرزِ عمل میں مثبت تبدیلی ضروری ہے۔

اسی مقصد سے ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے ہر سال ستمبر میں 'پوشن ماہ' اور مارچ۔اپریل میں 'پوشن پکھواڑا' کے دوران جن آندولن کے تحت بیداری مہم، تربیتی پروگرام اور مختلف آگاہی سرگرمیوں کا انعقاد کرتے ہیں۔

غذائی عادات میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کمیونٹی بیسڈ ایونٹس  کو ایک مؤثر حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کیا گیا ہے، اور تمام آنگن واڑی کارکنان کے لیے ہر ماہ کم از کم دو کمیونٹی پروگرام منعقد کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نیتی آیوگ نے سال 2020 میں پوشن ابھیان کا ایک آزادانہ (تھرڈ پارٹی) جائزہ اور اس کے اثرات کا مطالعہ کیا تھا، جس میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ یہ پروگرام ملک میں غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور اپنی ضرورت کے مطابق ہے۔

بعد ازاں، نیتی آیوگ نے 2025 میں مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کا بھی نتائج پر مبنی جائزہ  کرایا۔

 

اس جائزے میں ادارہ جاتی مطالعات اور گھریلو سروے سے حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ مشن پوشن 2.0 حکومت ہند کی غذائی قلت کے خاتمے اور بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کو فروغ دینے کی تازہ ترین اور جامع کوشش ہے۔ یہ مشن سابقہ پروگراموں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف اسکیموں کو ایک مربوط اور زیادہ مضبوط نظام کے تحت نافذ کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خرد غذائی اجزاء  کے حوالے سے بھی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ 6 سے 59 ماہ عمر کے بچوں میں خون کی کمی (انیمیا) کی شرح میں 8.5 فیصد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جو آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹس، غذائیت سے بھرپور (فورٹیفائیڈ) خوراک، سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام  اور دیگر متعلقہ اقدامات کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔

یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی  وزیرمملکت  محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔

ش ح۔ ش ت۔ ج

uno -503


(रिलीज़ आईडी: 2289022) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Tamil , English , हिन्दी , Telugu