سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

برقی طور پر دوبارہ چارج ہونے والی زنک-ایئر بیٹریاں تیارکرنے کے لیے متعدد نئی ٹیکنالوجیز تیار

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 2:50PM by PIB Delhi

برقی طور پر دوبارہ چارج ہونے والی زنک-ایئر بیٹریوں کے لیے سائنس دانوں نے ایک نیا نینو فلوئیڈ الیکٹرولائٹ تیار کیا ہے، جو کیتھوڈ کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے زیادہ مؤثر، محفوظ، کم لاگت اور ماحول دوست جدیدسلسلے کی بیٹریوں کی تیاری کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے۔

یہ الیکٹرولائٹ تین ماہ سے زائد عرصے تک مستحکم رہتا ہے اور اسے براہِ راست زنک-ایئر بیٹریوں کی صنعت میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ گرڈ سطح پر توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کے لیے بھی موزوں ہے اور ہندوستان میں برقی نقل و حمل کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

روایتی طور پر زنک میں زنک میں خوردگی کو روکنے کے لیے مہنگے کورروژن انہیبیٹرز استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن یہ آکسیجن کے کیمیائی ردِعمل کی رفتار کو بھی سست کر دیتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل ساسٹرا (ایس اے ایس ٹی آراے)ڈیمڈ یونیورسٹی، تھنجاوور کے سائنس دانوں نے نکالا۔ انہوں نے معیاری الیکٹرولائٹ میں کم مقدار میں سلیکا اور زنک آکسائیڈ کے کم قیمت نینو ذرات شامل کر کے ’’نینو فلوئیڈ الیکٹرولائٹ‘‘ تیار کیا۔ محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے نینو اینڈ ایڈوانسڈ میٹیریلز ڈویژن کے تعاون سے انجام دیے گئے اس تحقیقی کام نے ہائیڈروجن کے غیر ضروری ردِعمل کو دبانے، زنگ لگنے کے عمل کو روکنے اور ساتھ ہی کیتھوڈ پر آکسیجن کے ردِعمل کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کی، یوں کم لاگت کے ایک ہی حل کے ذریعے بیٹری کے دونوں الیکٹروڈز سے متعلق مسائل پر قابو پا لیا گیا۔

یہ ٹیکنالوجی، جسے ہندوستانی پیٹنٹ (آئی این 570691) کے تحت تحفظ حاصل ہے، اب عملی استعمال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

دنیا بھر میں صاف اور پائیدار توانائی ذخیرہ کرنے کی دوڑ کے درمیان آبی بنیاد پر تیار کی جانے والی بیٹریاں، لیتھیم-آئن بیٹریوں کے محفوظ، کم لاگت اور ماحول دوست متبادل کے طور پر تیزی سے توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ان میں برقی طور پر دوبارہ چارج ہونے والی زنک۔ایئر بیٹری (زی اے بی) اپنی بلند نظریاتی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، کم لاگت اور پانی پر مبنی کیمیائی ساخت کی وجہ سے نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔

ساسٹرا(ایس اے ایس ٹی آراے) ڈیمڈ یونیورسٹی میں ڈاکٹر ایس دیوراج کی قیادت میں تحقیقی ٹیم نے اس ماحول دوست ٹیکنالوجی کی راہ میں حائل دو بڑے مسائل کے حل کے لیے کام شروع کیا۔ ان میں ایک مسئلہ زنک اینوڈ پر غیر ضروری ہائیڈروجن گیس کا اخراج تھا، جس سے توانائی ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ زنک میں خوردگی بھی پیدا ہوتی تھی، جبکہ دوسرا مسئلہ ایئر کیتھوڈ پر آکسیجن کے ردِعمل کی سست رفتار تھا، جسے مؤثر بنانے کے لیے عموماً مہنگے پلاٹینم یا روتھینیم پر مبنی کیٹالسٹ استعمال کرنا پڑتے تھے۔

شکل: کیتھوڈ پر آکسیجن کے ردِعمل کی رفتار بہتر بنانے، اور اینوڈ پر ہائیڈروجن کے اخراج کے ردِعمل اور زنک کی خوردگی کو کم کرنے کے لیے اختیار کی گئی مختلف حکمتِ عملیوں کا خاکہ۔

سائنس دانوں نے نینو فلوئیڈ الیکٹرولائٹ کی تیاری کے ذریعے غیر ضروری ہائیڈروجن کے اخراج اور زنک کی خوردگی کو بیک وقت کم کرنے کے علاوہ، زمین میں وافر مقدار میں پائے جانے والے عناصر پر مبنی دوہری کارکردگی کے حامل کیٹالسٹ بھی تیار کیے، جو آکسیجن کے اخراج اور آکسیجن کی کمی، دونوں کیمیاوی عمل کو مؤثر انداز میں انجام دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے فضلے سے حاصل شدہ مواد کو بھی الیکٹروڈ کے مؤثر متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر تحقیق کی۔

تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ α-مینگنیز ڈائی آکسائیڈ(ایم این او )اپنی منفرد سرنگ نما ساخت کی بدولت بہترین کیٹالسٹ ثابت ہوا۔ اس میں تانبے  کی معمولی مقدار شامل کرنے سے اس کی کارکردگی تجارتی معیار سے بھی بہتر ہو گئی اور صرف 2 فیصد وزن کے برابر کاپر شامل کرنے پر اس نے پلاٹینم اور روتھینیم پر مبنی معیاری کیٹالسٹ سے بھی بہتر نتائج دیے۔

تحقیقی ٹیم نے استعمال شدہ گھریلو واٹر فلٹرز سے حاصل شدہ ایکٹیویٹڈ کاربن کو دوبارہ استعمال کرتے ہوئے ہائیڈروتھرمل طریقے سے مینگنیز ڈائی آکسائیڈ /سی نینو کمپوزٹ تیار کیے، جن سے نہ صرف اعلیٰ کارکردگی کے حامل دوہری الیکٹروکیٹالسٹ تیار ہوئے بلکہ سپر کیپیسیٹرز کے لیے مؤثر الیکٹروڈ بھی تیار کیے گئے۔ اس عمل کے لیے پیٹنٹ کی درخواست (درخواست نمبر: 202441032753) بھی دائر کی جا چکی ہے۔

اسی طرح کووڈ وبا کے بعد استعمال شدہ سرجیکل فیس ماسک کو کیمیائی عمل کے ذریعے دوبارہ کارآمد بنا کر ایکٹیویٹڈ کاربن میں تبدیل کیا گیا، جس کا ریکارڈ سطحی رقبہ ہے اور آکسیجن کی کمی کے ردِعمل میں اس کی کارکردگی پلاٹینم کے ہم پلہ پائی گئی۔

سائنس دانوں کے تیار کردہ یہ طریقے صرف زنک-ایئر بیٹریوں تک محدود نہیں بلکہ دیگر شعبوں میں بھی استعمال کی وسیع صلاحیت رکھتے ہیں۔ فضلے سے حاصل شدہ کاربن کو زنک-ایئر بیٹریوں کے علاوہ متعدد دیگر مقاصد کے لیے بھی ڈھالا جا سکتا ہے، جبکہ فضلے کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی یہ تکنیک تقریباً ہر قسم کے کاربن پر مبنی فضلے پر لاگو کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح نینو فلوئیڈ الیکٹرولائٹ کا تصور دیگر آبی بیٹری نظاموں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جو محفوظ، کم لاگت اور ماحول دوست جدید سلسلے کی بیٹریوں کی تیاری کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ توسیع حکمتِ عملی ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر ایس دیوراج سے (devaraj@scbt.sastra.edu)پررابطہ کیا جا سکتا ہے۔

******

 

(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)

UR. No-507


(रिलीज़ आईडी: 2288892) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil