خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
پوشن ٹریکر ڈیجیٹل ایپ مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت حقیقی وقت میں نگرانی کا اہم ذریعہ
مستحقین کو ٹیک ہوم راشن کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے 'پوشن ٹریکر' میں نامزد ماڈیول بھی متعارف
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 1:57PM by PIB Delhi
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت تمام آنگن واڑی مراکز، آنگن واڑی کارکنان اور مستحقین کی مختلف طے شدہ اشاریوں پر حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں نگرانی اور ریکارڈ رکھنے کے لیے 'پوشن ٹریکر' نامی ڈیجیٹل ایپ متعارف کرائی ہے، جو ایک مؤثر انتظامی اور نگرانی کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہے۔
وزارت کے مطابق پوشن ٹریکر ایپ کی بدولت مختلف پیمانوں پر اسکیم کے نفاذ کا مسلسل جائزہ لینا اور ضرورت کے مطابق بروقت اصلاحی اقدامات کرنا ممکن ہوا ہے۔
اس ایپ کے ذریعے آنگن واڑی خدمات سے متعلق معلومات تقریباً حقیقی وقت میں حاصل کی جا رہی ہیں، جن میں آنگن واڑی مراکز کا کھلنا، بچوں کی روزانہ حاضری، ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کی سرگرمیاں، بچوں کی نشوونما کی نگرانی، گرم پکا ہوا کھانا اور ٹیک ہوم راشن کی فراہمی، نیز بچوں کے قد و وزن کی پیمائش جیسی اہم خدمات شامل ہیں۔
مزید برآں، مستحقین کو ٹیک ہوم راشن کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے، اس مقصد کے لیے پوشن ٹریکر میں نامزد ماڈیول بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر نامزد شخص بھی راشن وصول کر سکے اور مستحقین کو مسلسل غذائی امداد ملتی رہے۔
یہ مشن ایک جامع اور سب کے لیے یکساں دستیاب اسکیم ہے، جس میں کسی بھی مستحق فرد کے اندراج یا خدمات حاصل کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہر وہ مستحق شخص جو فیشل ریکگنیشن سسٹم کے لیے ای-کے وائی سی کا عمل مکمل کرنے پر آمادہ ہو، وہ اس اسکیم کے تمام فوائد حاصل کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔
آدھار پر مبنی اس ٹریکنگ نظام کی بدولت مستحقین کی درست شناخت ممکن ہوئی ہے، فوائد کی تقسیم میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر قابو پایا گیا ہے اور فرضی یا غیر حقیقی اندراجات کا خاتمہ ہوا ہے۔ پوشن ٹریکر ڈیش بورڈ کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ مستحقین میں سے 99.88 فیصد کی آدھار کے ذریعے تصدیق ہو چکی ہے۔
خدمات کی آخری مرحلے تک مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے پوشن ٹریکر ایپ میں فیشل ریکگنیشن سسٹم تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ٹیک ہوم راشن تقسیم کیا جاتا ہے، تاکہ یہ سہولت صرف اسی مستحق شخص کو ملے جو پوشن ٹریکر میں رجسٹرڈ ہو۔
اسی مقصد کے تحت پوشن ٹریکر میں نامزد ماڈیول بھی متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ مستحقین کو ٹیک ہوم راشن کی فراہمی کسی بھی صورت میں متاثر نہ ہو۔
اگر کسی وجہ سے رجسٹرڈ مستحق خاتون خود آنگن واڑی مرکز جا کر فیشل ریکگنیشن سسٹم کے ذریعے اپنا راشن حاصل نہ کر سکے، تو وہ اپنی جانب سے کسی ایک شخص کو نامزد کر سکتی ہے، جو اس کی طرف سے راشن وصول کرے گا۔
نامزد شخص کو صرف ایک مرتبہ ای-کے وائی مکمل کرنا ہوگا، تاہم ہر بار راشن وصول کرتے وقت اس کے چہرے کی دوبارہ تصدیق کی جائے گی۔ اس کے باوجود، اگر اصل مستحق بعد میں خود راشن وصول کرنا چاہے تو وہ پہلے کی طرح یہ سہولت حاصل کر سکتا ہے۔
اس نئے نظام سے مستحقین کی زندگی مزید آسان ہوئی ہے اور انہیں سرکاری غذائی امداد بروقت اور بلا رکاوٹ فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو آنگن واڑی کارکنان لیڈی سپروائزرز اور بلاک کوآرڈینیٹروں کے لیے اسمارٹ فون خریدنے کی غرض سے فنڈ فراہم کرتی ہے، تاکہ پوشن ٹریکر ایپ کے ذریعے مستحقین کا اندراج، ڈیٹا کا اندراج، ان کی نگرانی اور خدمات کی مؤثر مانیٹرنگ کی جا سکے۔
اسی طرح مستحقین کے قد اور وزن کی پیمائش کے لیے گروتھ مانیٹرنگ ڈیوائسز جیسے انفنٹومیٹر، اسٹیڈیومیٹر، شیر خوار بچوں کا وزن کرنے والی مشین، اور ماں و بچے کے لیے وزن کرنے والی مشین کی خریداری کے لیے بھی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو فنڈ فراہم کیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت شراکتی مالیاتی نظام کے تحت ہر اسمارٹ فون کے لیے 10 ہزار روپے کے علاوہ جی ایس ٹی اور چار گروتھ مانیٹرنگ آلات کے ایک سیٹ کے لیے 8 ہزار روپے فراہم کرتی ہے۔
پوشن ٹریکر کے ذریعے حاصل ہونے والے نظام پر مبنی تجزیاتی اعداد و شمار کی مدد سے نتائج پر مبنی جائزہ اور مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، تاکہ غذائیت کی نگرانی، ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم ، مستحقین کی تصدیق اور خدمات کی فراہمی پر ڈیجیٹل نظام کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
ڈیجیٹل تعلیم کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نوچیتنا (ابتدائی بچپن کی نشوونما کا قومی فریم ورک) اور آدھارشِلا (ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کا قومی نصاب) کے مطابق تیار کردہ تعلیمی مواد کو پوشن ٹریکر میں ویڈیوز، سرگرمیوں کے ماڈیول اور گھر پر سیکھنے کے مواد کی صورت میں شامل کیا گیا ہے۔
فی الحال اس ایپ میں 249 تعلیمی ویڈیوز، 190 آڈیو پیغامات اور 130 سے زیادہ سرگرمیوں پر مبنی تعلیمی وسائل موجود ہیں۔ صفر سے تین سال تک کے بچوں کے لیے نوچیتنا فریم ورک کے مطابق 14 ویڈیوز کے ذریعے 140 گھریلو سرگرمیاں تیار کی گئی ہیں، تاکہ گھر پر منظم رہنمائی، بچوں کی ابتدائی ذہنی و جسمانی نشوونما اور والدین کی مؤثر شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں آنگن واڑی مراکز میں ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم کے معیار، یکسانیت اور مؤثریت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ پوشن ٹریکر میں موجود مستحقین کے لیے مخصوص انٹرفیس والدین تک ابتدائی تعلیم، بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور بہتر نگہداشت سے متعلق معلومات اور رہنمائی بھی پہنچاتا ہے، جس سے والدین میں بیداری اور کمیونٹی کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے۔
نیتی آیوگ کے ڈیولپمنٹ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن آفس نے سال 2025 میں مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کا نتائج پر مبنی جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق ادارہ جاتی جائزوں اور گھریلو سروے سے یہ بات سامنے آئی کہ پوشن ٹریکر کے ذریعے ڈیجیٹل نظام نے غذائیت کی نگرانی، ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم، مستحقین کی تصدیق اور خدمات کی فراہمی کی کارکردگی میں کئی پہلوؤں سے مثبت اثر ڈالا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پوشن ٹریکر نے سپلیمنٹری نیوٹریشن پروگرام کے تحت کاغذی نظام سے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامی نظام کی جانب ایک اہم تبدیلی کی ہے۔ وزارتِ خواتین و اطفال کی ترقی کی جانب سے متعارف کرایا گیا پوشن ٹریکر آج آنگن واڑی مراکز میں مستحقین، غذائی ذخیرے اور خدمات کی ڈیجیٹل نگرانی کا بنیادی ذریعہ بن چکا ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
****
ش ح۔ ش ت۔ ج
uno-501
(रिलीज़ आईडी: 2288859)
आगंतुक पटल : 12