ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹیکسٹائل کے شعبے کی تجارتی تیاری اور عالمی برآمدی مسابقت

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 2:48PM by PIB Delhi

آج راجیہ سبھا میں ٹیکسٹائل کے وزیرِ مملکت جناب پبیترا مارگریٹا نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ہندوستان سے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دستکاری کی مصنوعات کی مجموعی برآمدات 3,25,339 کروڑ روپے رہیں، جو مالی سال 2024-25 کی 3,19,573.2 کروڑ روپے کی برآمدات کے مقابلے میں 1.8 فیصد زیادہ ہیں۔ اس عرصے میں 100 سے زائد ممالک کو کی جانے والی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کی عالمی مسابقت اور برآمدی تیاری کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت نے متعدد اسکیمیں نافذ کی ہیں اور مختلف اقدامات کیے ہیں۔ ان میں وزیر اعظم میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجنز اینڈ اپیرل پارکس (پی ایم مترا) اسکیم (جس کے تحت مہاراشٹر کے امراوتی میں بھی ایک پارک قائم کیا جا رہا ہے)، ٹیکسٹائل کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) اسکیم، قومی ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن، ٹیکسٹائل شعبے میں صلاحیت سازی کے لیے ’’سامرتھ‘‘اسکیم، اور ایکسپورٹ پروموشن مشن کے تحت مارکیٹ تک رسائی میں معاونت اور سود میں رعایت  سمیت مختلف اقدامات کا آغاز شامل ہے۔اس کے علاوہ، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کو فروغ دینے اور عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حالیہ عرصے میں بھی متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں برآمد شدہ مصنوعات پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی واپسی(آر او ڈی ٹی ای پی) اسکیم میں 30 ستمبر 2026 تک توسیع، کسٹمز ٹیرف ہیڈنگ 5201 کے تحت آنے والی کپاس کی درآمد پر یکم جون سے 31 اکتوبر 2026 تک کسٹم ڈیوٹی سے عارضی استثنا، مصنوعی ریشوں (ایم ایم ایف) کی ویلیو چین میں استعمال ہونے والے اہم خام مال، بشمول پیوریفائیڈ ٹیرفتھالک ایسڈ(پی اے ٹی) اور مونو ایتھلین گلائکول(ایم ای جی) ، پر کسٹم ڈیوٹی میں عارضی چھوٹ، ایم ایم ایف ویلیو چین میں انورٹڈ ڈیوٹی ڈھانچے کی اصلاح کے لیے جی ایس ٹی کی شرحوں کو معقول بنانا اور مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور اس کے باعث خلیجی اور ملحقہ خطوں میں سمندری نقل و حمل پر پڑنے والے مسلسل اثرات سے متاثرہ برآمد کنندگان کی معاونت کے لیے برآمداتی عمل میں سہولت کے لئے ’’ریزیلینس اینڈ لاجسٹکس کی مدد‘‘  (آر ای ایل آئی ای ایف)اقدام کا آغاز شامل ہے۔

ریاستی اور مرکزی ٹیکسوں و محصولات کی واپسی کی اسکیم مارچ 2019 سے نافذ ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملبوسات اور تیار شدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات پر عائد ریاستی اور مرکزی سطح کے بالواسطہ ٹیکسوں اور محصولات کی واپس ادائیگی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، تاکہ ان شعبوں کی عالمی مسابقت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔برآمد کنندگان کے لیے پالیسی میں تسلسل، پیش بینی اور استحکام کو یقینی بنانے کے مقصد سے اس اسکیم کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے 30 ستمبر 2026 تک نافذ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے برآمدات کے فروغ اور نئی منڈیوں تک رسائی کی ایک جامع حکمتِ عملی بھی اختیار کی ہے، جس کے تحت 40 ترجیحی ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ اس وقت 16 آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) نافذ ہیں، جن میں بھارت-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ بھارت نے نیوزی لینڈ کے ساتھ بھی ایک آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں سے ہندوستان کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرنے اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کا اہم موقع ملے گا۔

ٹیکسٹائل کے شعبے کی مسابقت اور برآمدی تیاری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے وزارتِ ٹیکسٹائل نے چھ ٹیکسٹائل کی برآمدمیں سہولت کے مراکز (ٹی ای ایف سیز) قائم کیے ہیں، جن میں مہاراشٹر کے اچل کرنجی میں قائم مرکز بھی شامل ہے۔ اسی مقصد کے تحت نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ’’انڈیا امیرسیو ایکسپیرینس پروگرام‘‘ کا آغاز کیا گیا، تاکہ بین الاقوامی ڈیزائن اور فیشن اداروں کے سامنے ہندوستان کے ٹیکسٹائل، دستکاری، ثقافت اور ڈیزائن کے نظام کو مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔وزارتِ ٹیکسٹائل نے جون 2026 میں ٹیکسٹائل سمٹ کا کامیاب انعقاد بھی کیا، جس میں ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، صنعت اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد ٹیکسٹائل شعبے کی ترقی اور اضلاع کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے باہمی تعاون اور تبادلۂ خیال کو فروغ دینا تھا۔مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کے 500 سے زائد اضلاع سے ٹیکسٹائل اور دستکاری کی مصنوعات برآمد کی گئیں۔ بہتر منصوبہ بندی اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے 100 چیمپئن اور 100 خواہشمند ٹیکسٹائل اضلاع پر مشتمل ضلعی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔عالمی سطح کے وسیع پیمانے پر ٹیکسٹائل سے متعلق تقریب’’بھارت ٹیکس‘‘کا تیسرا ایڈیشن 14 سے 17 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس میں ہندوستان کی مکمل ٹیکسٹائل ویلیو چین کو پیش کیاگیا ، عالمی تجارتی شراکت داریوں کو فروغ دیا گیا اور ہندوستان کو ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے عالمی وسیلے اور مینوفیکچرنگ کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر پیش کیا گیا۔

مجموعی طور پر ان اقدامات نے برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے، سپلائی چین کو زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانے، ای-کامرس کے ذریعے بھی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور ہندوستانی برآمد کنندگان، خصوصاً بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، بشمول مہاراشٹر، کی عالمی مسابقت میں اضافہ کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

******

 

(ش ح ۔ ش ب ۔ م ا)

UR. No-505


(रिलीज़ आईडी: 2288847) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil