بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ہندوستان، پنامہ چارٹ نئی میری ٹائم پارٹنرشپ لاجسٹک، ڈجیٹل انوویشن اور گلوبل کنکٹی وٹی پر مرکوز
• ہندوستان اور پنامہ نے بحری سلامتی، لاجسٹکس، مہارت سازی اور ڈجیٹل تبدیلی کو دوطرفہ تعاون کے اہم ستون قرار دیا۔
• لاطینی امریکہ کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک دروازے کے طور پر پنامہ کے ساتھ ہندوستان نے جہاز رانی، بندرگاہوں اور بحری بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مزید گہرے تعاون کی خواہش کا اظہار کیا
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 8:38PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں (ایم او پی ایس ڈبلیو) سربانند سونووال نے پنامہ کے وزیر خارجہ خاویر مارٹینیز آچا واسکیز سے دوطرفہ مذاکرات کیے۔ دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور پنامہ کے درمیان بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا اور لاجسٹکس، جہاز رانی، بحری سلامتی، مہارت سازی اور ڈجیٹل تبدیلی کو توسیع یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کے بنیادی ستون قرار دیا۔
اس موقع پر سربانند سونووال نے کہا-" ہندوستان اور پنامہ فطری بحری شراکت دار ہیں۔ پنامہ کی اسٹریٹجک لاجسٹکس صلاحیتوں اور بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی بحری استعداد کو یکجا کر کے ہم مضبوط سپلائی چینز قائم کر سکتے ہیں، عالمی روابط کو فروغ دے سکتے ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور پائیدار ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمارا مشترکہ ویژن اس شراکت داری کو لاطینی امریکہ اور کیریبین کے ساتھ بھارت کے تعلقات کا ایک اہم ستون بنانا ہے۔"
مذاکرات میں ہندوستان اور پنامہ کے درمیان انیسویں صدی سے قائم دیرینہ بحری تعلقات کی توثیق کی گئی اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں بھارتی تارکین وطن کے اہم کردار کو سراہا گیا۔ ہندوستان کے عالمی سطح پر بندرگاہی شعبے میں ابھرتے ہوئے قائدانہ کردار اور پنامہ کے دنیا کے اہم بحری لاجسٹکس مراکز میں شمار ہونے کے تناظر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قریبی تعاون اور بہترین تجربات کے تبادلہ سے تجارت، روابط اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس موقع پر پنامہ کے وزیر خارجہ خاویر مارٹینیز آچا واسکیز نے دونوں ممالک کے درمیان بحری تعاون کے لیے چار ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی-بحری سلامتی،بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف شپنگ اور پنامہ میری ٹائم اتھارٹی کے درمیان تکنیکی تعاون۔بحری تعلیم اور مہارت سازی اورمصنوعی ذہانت (اے آئی) ، اسمارٹ پورٹ لاجسٹکس اور میری ٹائم سنگل ونڈو سسٹمز سمیت ڈجیٹل بحری تبدیلی کے شعبے میں مستقبل پر مبنی تعاون۔
سربانند سونووال نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت بندرگاہوں، جہاز رانی، اندرون ملک آبی گزرگاہوں، لاجسٹکس، جہاز سازی، کروز سیاحت اور ماحول دوست بحری اقدامات میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنامہ ، وسطی امریکہ، لاطینی امریکہ اور کیریبین تک بھارت کا فطری دروازہ ہے، اس لیے دونوں ممالک کے درمیان جہاز رانی کے روابط کو بہتر بنانے، لاجسٹکس شراکت داری کو وسعت دینے اور ادارہ جاتی تعاون کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تجارت کی غیر استعمال شدہ صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
سربانند سونووال نے مزید کہا-"وزیراعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں بھارت کا بحری شعبہ عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے، جدید لاجسٹکس، ماحول دوست جہاز رانی اور ڈجیٹل اختراع کی بدولت ایک انقلابی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ ہمارا مقصد صرف بندرگاہیں تعمیر کرنا نہیں بلکہ ایسی شراکت داریاں قائم کرنا ہے جو معیشتوں کو آپس میں جوڑیں اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دیں۔ پنامہ اپنی اسٹریٹجک بحری صلاحیتوں کے باعث اس سفر میں ایک فطری شراکت دار ہے، اور مل کر ہم ایک زیادہ مضبوط، مؤثر اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ عالمی بحری نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔"
سونووال نے بحری نقل و حمل اور بندرگاہوں کی ترقی سے متعلق دوطرفہ معاہدے پر مذاکرات کو تیز کرنے، ماحول دوست جہازوں کی ری سائیکلنگ میں تعاون بڑھانے، سمندری کارکنوں کی فلاح و بہبود اور مہارت سازی کو مضبوط بنانے، نیز بندرگاہوں کی جدیدکاری، گودام سازی، ڈجیٹل اختراع اور بحری بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے پنامہ کے وزیر برائے بحری امور کو انڈیا میری ٹائم ویک- 2026 میں شرکت کی دعوت دی، جو نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ دونوں ممالک نے ادارہ جاتی شراکت داری کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ان مذاکرات کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔


*****
UR-425
م ش ح-ظ الف-ع د
(रिलीज़ आईडी: 2288188)
आगंतुक पटल : 6