وزارت دفاع
ہندوستانی بحریہ نے ماہے کلاس آبدوز شکن کم گہرے پانی کے جنگی جہاز کی دوسری قسط 'آئی این ایس مالون' کو کمیشن کیا
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 5:21PM by PIB Delhi
آئی این ایس مالون جو مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے ماہے کلاس اینٹی سب میرین وارفیئر شالو واٹر کرافٹ (اے ایس ڈبلیو –ایس ڈبلیوسی) کا دوسرا جہاز ہے کو 22جولائی 2026 کو کاروار میں ہندوستانی بحریہ میں شامل خدمت کر لیا گیا۔اس موقع کی صدارت فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کی۔ اس موقع پر وائس ایڈمرل سنجے واتسائن، فلیگ آفیسر کمانڈنگ اِن چیف، ویسٹرن نیول کمانڈ بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ بحریہ کے اعلیٰ افسران، کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل) کوچی کے نمائندے، سابق فوجی اہلکار اور دیگر معزز مہمان بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
اس جہاز کا نام مہاراشٹر کے تاریخی ساحلی شہر مالون کے نام پر رکھا گیا ہےجو چھترپتی شیواجی مہاراج کی شاندار بحری وراثت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ جہاز اپنے پیش رو جہاز کی وراثت کو بھی آگے بڑھاتا ہے، جو ہندوستانی بحریہ کا ایک ساحلی مائن سویپر (ایم ایس) جہاز تھا اور 2003تک خدمات انجام دیتا رہا۔
آئی این ایس مالون، کوچی کے کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ (سی ایس ایل)میں مقامی طور پر تیار کیے جانے والے اے ایس ڈبلیو-ایس ڈبلیو سی 8جہازوں میں سے دوسرا ہے، جبکہ ہندوستانی بحریہ میں شامل کیے جانے والے ایس ڈبلیو-ایس ڈبلیو سی 16 جہازوں میں سے چھٹا ہے۔
اس جہاز میں 80فیصد سے زیادہ مقامی مواد استعمال کیا گیا ہے، جو حکومتِ ہند کے آتم نربھر بھارت کے ویژن اور بحری جہاز سازی، ڈیزائن، آلات، نظامی انضمام اور دفاعی شعبے میں بڑھتی خود انحصاری کی عکاسی کرتا ہے۔یہ جہاز درج ذیل صلاحیتوں سے لیس ہے :زیرِ آب نگرانی (یو ایس )،اینٹی سب میرین وارفیئر (اے ایس ڈبلیو)آپریشنز اورکم شدت والی بحری کارروائیاں(ایل آئی ایم او)مائن وارفیئر (ایم ڈبلیو) صلاحیت۔یہ جہاز ساحلی دفاع، سمندری حدود کی سکیورٹی اور میر ی ٹائم ڈومین اویئرنیس (ایم ڈی اے) کو مزید مضبوط کرے گا۔
آئی این ایس مالون کے کریسٹ پر 'باگھ نکھا'شیر کا پنجہ/ دکھایا گیا ہے، جو بہادری، جنگی حکمت عملی، پھرتی اور جرات کی علامت ہے۔ یہ جہاز کے اس نظریے کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ تیزی سے حملہ کرے اور خاموشی سے دشمن کو نشانہ بنائے۔ باگھ نکھا کے گرد موجود لہریں وسیع سمندر اور ہندوستانی بحریہ کے اس عزم کی علامت ہیں کہ وہ ملک کے سمندروں اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمیشہ چوکس، تیار اور مضبوط رہے گی۔جہاز کا نعرہ، 'خاموش پنجے'، مہلکیت، چپکے سے اور دشمن پر تیزی سے حملہ کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس موقع پر فضائیہ کے سربراہ نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے دوران بلا رکاوٹ بحری تجارت کو یقینی بنانے کے لیے سمندری مواصلاتی راستوں (ایس ایل سی) کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے ہندوستانی بحریہ کی شاندار ترقی اور آتم نربھر بھارت کے عزم کو سراہا، خصوصاً اس جنگی جہاز میں 80 فیصد سے زائد مقامی مواد کے استعمال کو نمایاں کیا۔انہوں نے بھارتی بحریہ کے اس طریق کار کی تعریف کی جس میں افسران کو براہِ راست جہاز سازی کے عمل میں شامل کیا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایسے طریقے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مستقبل کے تنازعات میں کامیابی کے لیے تینوں افواج (بری ، بحری اور فضائیہ)کے درمیان مکمل تعاون اور مشترکہ کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔آئی این ایس مالون کی شمولیت سے بھارتی بحریہ کی اینٹی سب میرین وارفیئر صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔یہ جہاز بڑے جنگی بحری جہازوں، آبدوزوں اور فضائی وسائل کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آئی این ایس مالون کی شمولیت سے بھارتی بحریہ جنگ کے لیے تیار،قابلِ اعتماد،متحد اور مربوط اورمستقبل کے لیے تیاررہنے کے قابل ہوگی، تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور ہندوستان کے بحری مفادات کا ہر وقت اور ہر مقام پر تحفظ کیا جا سکے۔

01H7.jpeg)
DJ56.jpeg)

***
399UR-
م ش ح-ظ الف
(रिलीज़ आईडी: 2288060)
आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English