جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تیس جون 2026 تک بھارت کی نصب شدہ ونڈ پاور کی صلاحیت 57,443 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے

प्रविष्टि तिथि: 22 JUL 2026 4:32PM by PIB Delhi

حکومت نے ملک میں قابل تجدید توانائی، بالخصوص ونڈ انرجی کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیلات ضمیمہ۔I میں دی گئی ہیں۔

تیس جون 2026 تک ملک میں ونڈ انرجی (ہوا سے بجلی پیدا کرنے) کے منصوبوں کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 57,443 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ ونڈ انرجی منصوبوں کی ریاست وار نصب شدہ صلاحیت کی تفصیلات ضمیمہ۔II میں دی گئی ہیں۔

مزید یہ کہ مالی سال 2025-26 کے دوران ونڈ انرجی منصوبوں سے بجلی کی پیداوار 106 ارب یونٹ رہی۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ونڈ انرجی منصوبوں سے بجلی کی ریاست وار پیداوار کی تفصیلات ضمیمہ۔III میں دی گئی ہیں۔

ونڈ انرجی منصوبوں سے بجلی کی پیداوار میں گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ تین مالی برسوں کے دوران ونڈ پاور سے بجلی کی پیداوار اور سالانہ ونڈ انرجی صلاحیت میں اضافے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

S. No.

Year

Wind Capacity Addition (MW)

Wind Power Generation (in billion units)

1

2023-24

3253

83

2

2024-25

4151

83

3

2025-26

6057

106

جی ڈبلیو ای سی کی رپورٹ 2026 کے مطابق، 31 دسمبر 2025 تک ونڈ انرجی کی تنصیب کے لحاظ سے بھارت عالمی سطح پر چوتھے نمبر پر ہے۔

ضمیمہ-I

حکومت نے ملک میں قابلِ تجدید توانائی، بالخصوص ونڈ انرجی (ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی توانائی) کے فروغ کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

قابلِ تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل کے لیے گرین انرجی کوریڈور اسکیم کے تحت نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے اور نئے سب اسٹیشنوں کی صلاحیت میں اضافے کے لیے مالی معاونت فراہم کی گئی ہے۔

بین ریاستی ترسیلی نظام (آئی ایس ٹی ایس) کے چارجز میں 30 جون 2025 تک شروع کیے گئے اور اس کے بعد شروع ہونے والے شمسی اور ونڈ پاور منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی بین ریاستی فروخت کے لیے رعایت دی گئی ہے، جس میں مرحلہ وار آئی ایس ٹی ایس چارجز کا نظام شامل ہے۔

قابل تجدید توانائی کے تیز رفتار فروغ کے لیے درکار ترسیلی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی غرض سے سال 2030 تک کا ٹرانسمیشن پلان تیار کیا گیا ہے۔

خودکار راستے (آٹومیٹک روٹ) کے تحت 100 فیصد تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی اجازت دی گئی ہے۔

آر ای کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے قابل تجدید توانائی خریداری کی ذمہ داری(آر پی او) کے بعد قابل تجدید توانائی استعمال کی ذمہ داری(آر سی او) کا ہدفی خاکہ سال 2029-30 تک مقرر کیا گیا ہے۔

انرجی کنزرویشن ایکٹ 2001 کے تحت تمام نامزد صارفین پر لاگو ہونے والی آر سی او  کی عدم تعمیل کی صورت میں جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ آر سی او میں تقسیم شدہ قابلِ تجدید توانائی ذرائع سے مخصوص مقدار میں توانائی کے استعمال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

گرڈ سے منسلک شمسی، ونڈ، ونڈ-سولر ہائبرڈ اور مستقل و قابلِ ترسیل قابلِ تجدید توانائی (ایف ڈی آر ای) منصوبوں سے بجلی کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی کے عمل سے متعلق نظرثانی شدہ معیاری بولی رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔

آف شور ونڈ انرجی منصوبوں کے لیے وائبلٹی گیپ فنڈنگ (وی جی ایف ) اسکیم شروع کی گئی ہے۔

بجلی (صارفین کے حقوق) ضابطہ، 2020 جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت 500 کلوواٹ تک یا منظور شدہ برقی لوڈ (جو بھی کم ہو) تک نیٹ میٹرنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

’’ونڈ پاور منصوبوں کے لیے قومی ری پاورنگ اور لائف ایکسٹینشن پالیسی، 2023‘‘ جاری کی گئی ہے۔

آف شور ونڈ انرجی منصوبوں کی ترقی کے لیے سمندری علاقوں کے لیزکے اجرا کو منظم کرنے کی غرض سے وزارت خارجہ کی 19 دسمبر 2023 کی اطلاع کے ذریعے ’’آف شور ونڈ انرجی لیز رولز، 2023‘‘ کو نوٹیفائی کیا گیا ہے۔

پروٹوٹائپ ونڈ ٹربائن ماڈلز کی تنصیب کے لیے نظرثانی شدہ رہنما خطوط 12 جون 2025 کو جاری کیے گئے۔

ونڈ ٹربائنز اور ونڈ ٹربائن کے اجزا کے لیے منظور شدہ ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست کا طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔

’’بجلی (تاخیر سے ادائیگی سرچارج اور متعلقہ امور) ضابطہ (ایل پی ایس کے قواعد) کو نوٹیفائی کیا گیا ہے۔

’’بجلی (گرین انرجی اوپن ایکسس کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ) ضابطہ، 2022‘‘ کو 6 جون 2022 کو نوٹیفائی کیا گیا، جس کا مقصد سبھی کے لیے سستی، قابلِ اعتماد اور پائیدار سبز توانائی تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔

گرین انرجی اوپن ایکسس کی سہولت ایسے تمام صارفین کو فراہم کی گئی ہے جن کی معاہدہ شدہ مانگ 100 کلوواٹ یا اس سے زیادہ ہے، یا ایک ہی ڈسٹری بیوشن لائسنس یافتہ ادارے کے بجلی ڈویژن میں واقع ایک یا متعدد کنکشنوں کے مجموعی طور پر 100 کلوواٹ یا اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں یہ سہولت حاصل کی جا سکتی ہے۔

گرین ٹرم اَہیڈ مارکیٹ (جی ٹی اے ایم) کا آغاز کیا گیا ہے، تاکہ ایکسچینجز کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی فروخت کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

حکومت نے احکامات جاری کیے ہیں کہ بجلی کی ترسیل لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) یا پیشگی ادائیگی کے بدلے کی جائے گی، تاکہ ڈسٹری بیوشن لائسنس یافتہ اداروں کی جانب سے قابلِ تجدید توانائی پیدا کرنے والوں کو بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ضمیمہ-II

ونڈ انرجی منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت کی ریاست وار تفصیلات

30 جون 2026 تک

State

Wind installed capacity as on 30.06.2026 (in MW)

Gujarat

16086

Tamil Nadu

12273

Karnataka

8896

Maharashtra

6318

Rajasthan

5516

Andhra Pradesh

4461

Madhya Pradesh

3686

Telangana

128

Kerala

71

Others

4

Total

57443

ضمیمہ III

مالی سال 2025-26 کے دوران ونڈ انرجی پروجیکٹوں سے بجلی کی پیداوار کی ریاست وار تفصیلات

State

Wind power generation during FY 2025-26 (in MUs)

Gujarat

33706

Tamil Nadu

24200

Karnataka

18804

Maharashtra

8610

Rajasthan

7345

Andhra Pradesh

8902

Madhya Pradesh

4706

Telangana

292

Kerala

130

Total

106699

یہ معلومات نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے مرکزی وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں ۔

***

)ش ح۔ش آ۔)

UN No: 381


(रिलीज़ आईडी: 2287968) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Kannada