ریلوے کی وزارت
ریل ون ایپ نے 4.55 کروڑ ڈاؤن لوڈز اور اوسطاً روزانہ 9.65 لاکھ ٹکٹ بکنگ کے ساتھ مسافروں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی
ہندوستانی ریلوے نے دھوکہ دہی کے خلاف اقدامات مزید سخت کیے؛ جنوری 2024 سے مشتبہ موبائل نمبروں، ای میل ڈومینز اور آئی پی ایڈریسز کی بنیاد پر 6.68 کروڑ سے زائد صارف اکاؤنٹس غیر فعال کیے گئے
سال 2025-26 اور 2026-27 (30 جون 2026 تک) کے دوران نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر مشتبہ ٹکٹ بکنگ سے متعلق 530 شکایات درج کی گئیں، جبکہ 13,343 مشتبہ ای میل ڈومین کو بلاک کر دیا گیا
جون 2025 سے جون 2026 کے دوران ہندوستانی ریلوے میں بک کیے گئے 65.08 کروڑ ریزرو ٹکٹوں میں سے 89 فیصد آن لائن جبکہ 11 فیصد کاؤنٹروں کے ذریعے بک کیے گئے
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 4:28PM by PIB Delhi
مسافروں کے مجموعی سفری تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ہندوستانی ریلوے نے یکم جولائی 2025 کو ریل ون ایپ کا آغاز کیا۔ یہ ایپ اینڈرائیڈ پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔اس ایپ کے ذریعے مسافر اپنے موبائل فون پر ریزرو اور غیر ریزرو دونوں طرح کے ٹکٹ بک کر سکتے ہیں۔ ریل ون ایپ میں ہندوستانی ریلوے کی تمام عوامی خدمات، جیسے ریزرو ٹکٹ بکنگ، غیر ریزرو ٹکٹ بکنگ، پلیٹ فارم ٹکٹ، ٹرین سے متعلق معلومات، پی این آر انکوائری، ریل مدد اور دیگر سہولیات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔ اس طرح مسافروں کو مسافر ریزرویشن نظام کی سہولت ان کے ہاتھوں میں فراہم کر دی گئی ہے۔اب تک اس ایپ کو 4.55 کروڑ سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ روزانہ اوسطاً 9.65 لاکھ ٹکٹ اس ایپ کے ذریعے بک کیے جا رہے ہیں، جن میں تقریباً 2.75 لاکھ ریزرو اور 6.89 لاکھ غیر ریزرو ٹکٹ شامل ہیں۔ اس ایپ کی بدولت مسافر نہایت آسانی اور سہولت کے ساتھ ریزرو اور غیر ریزرو دونوں اقسام کے ٹکٹ بک کر سکتے ہیں۔
ریل مددہندوستانی ریلوے کا شکایات کے ازالے کا نظام ہے، جو مسافروں کو شکایات کے اندراج، مدد حاصل کرنے اور معلومات طلب کرنے کے لیے ایک مربوط پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ ریل مدد کے ذریعے مسافر ہیلپ لائن نمبر 139، ریل مدد ویب پورٹل، موبائل ایپ اور ایس ایم ایس سمیت مختلف ذرائع سے اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں یا مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ریل مدد میں شکایات کو خودکار طور پر متعلقہ حکام کو بھیجنے اور بروقت کارروائی نہ ہونے کی صورت میں انہیں خودکار انداز میں اعلیٰ سطح پر منتقل کرنے کا نظام موجود ہے، تاکہ شکایات کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جا سکے۔ مسافروں کی سہولت کے لیے شکایات اور مدد کی درخواستوں کو ٹرین اور اسٹیشن سے متعلق 30 سے زائد زمروں میں درج کیا جاتا ہے، تاکہ سفر کو زیادہ محفوظ، آسان اور ہموار بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ مالی سال 2025-26 کے دوران ریل مدد نے 6,94,368 معاملات میں مسافروں کو مدد فراہم کی، جن میں سے 89.49 فیصد معاملات پر مسافروں نے بہترین یا اطمینان بخش فیڈ بیک دیا۔ یہ پلیٹ فارم مسافروں کو اپنی شکایات کے ازالے سے متعلق اپنی رائے اور فیڈ بیک درج کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے، جس سے ہندوستانی ریلوے کو خدمات کے معیار کی نگرانی کرنے اور مسافروں کے اطمینان میں مزید بہتری لانے میں مدد ملتی ہے۔گزشتہ تین سالوں کے دوران نمٹائی گئی شکایات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
سال
|
کل شکایات میں سے نمٹائی گئی شکایات کا فیصد
|
|
2023-2024
|
99.98فیصد
|
|
2024-2025
|
99.99فیصد
|
|
2025-2026
|
99.98فیصد
|
ہندوستانی ریلوے کا ریزرویشن ٹکٹ بکنگ نظام ایک مضبوط اور انتہائی محفوظ نظام ہے، جو صنعت کے معیاری اور جدید ترین سائبر سکیورٹی اقدامات سے لیس ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے تتکال ٹکٹوں کی بکنگ میں دھوکہ دہی پر قابو پانے، سائبر حملوں سے نظام کو محفوظ رکھنے اور ہیکنگ ٹولز کے ذریعے فارم خودکار طور پر بھرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ہندوستانی ریلوے نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
1۔ تتکال ٹکٹوں کی بکنگ کے لیے آدھار تصدیق: آن لائن تتکال ٹکٹ صرف آدھار سے تصدیق شدہ مسافروں کو بک کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس اقدام سے جعلی یا غیر مجاز ایجنٹوں کے زیرِ استعمال متعدد صارف اکاؤنٹس کی تخلیق اور ان کے استعمال کو روکنے میں مدد ملتی ہے، کیونکہ ہر صارف کی منفرد شناخت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار اکاؤنٹس کےضرب اور خودکار نظام کے غلط استعمال کو مؤثر طور پر روکنے میں معاون ہے، جس سے تتکال ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم یقینی بنتی ہے۔ اس اقدام سے آن لائن تتکال بکنگ کے نظام میں شفافیت بھی بڑھی ہے۔ تتکال بکنگ میں غلط استعمال کی روک تھام اور شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے منتخب ٹرینوں میں آن لائن تتکال ٹکٹ بکنگ کے دوران آدھار پر مبنی ون ٹائم پاس ورڈ (اوٹی پی) کی تصدیق کا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے۔
2۔ ایپلی کیشن سطح کے سکیورٹی اقدامات: اسکرپٹنگ، بروٹ فورس حملوں اور ڈی ڈی اوی ایس ( ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس) حملوں سے تحفظ کے لیے ایپلی کیشن کی سطح پر مختلف مراحل میں متعدد سکیورٹی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اوڈبلیواے ایس پی (اوپن ویب ایپلی کیشن سکیورٹی پروجیکٹ) کے تحت ایپلی کیشن میں موجود ممکنہ سکیورٹی کمزوریوں سے نمٹنے کے لیے بھی متعدد حفاظتی اقدامات اختیار کیے گئے ہیں۔
3۔ نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر کی سطح پر سکیورٹی اقدامات: ناکامیوں اور خدمات میں تعطل کو کم سے کم رکھنے کے لیے پوراآئی سی ٹی ( انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی)بنیادی ڈھانچہ ہائی ایویلیبلٹی موڈ پر تعینات کیا گیا ہے۔
اس نظام کو صنعت کے معیاری، جدید ترین اور ڈیٹا سینٹر کے درجے کے نیٹ ورک اور حفاظتی آلات کے ذریعے محفوظ بنایا گیا ہے، جن میں نیٹ ورک فائر والز، نیٹ ورک اِنٹروژن پریوینشن سسٹم، ایپلی کیشن ڈیلیوری کنٹرولرز اور ویب ایپلی کیشن فائر والز شامل ہیں۔
یہ نظام بڑے پیمانے پر ہونے والےڈی ڈی او ایس( ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس ) حملوں سے بھی محفوظ ہے۔ اس مقصد کے لیے انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان (آئی ایس پی) کی سطح پر حفاظتی انتظامات، متعدد آئی ایس پی کے ذریعے ڈی ڈی او ایس حملوں کی شناخت اور ان کے تدارک کی خدمات فراہم کی گئی ہیں، جن کی مجموعی حفاظتی صلاحیت تقریباً 30 جی بی پی ایس ہے۔
مزید بہتر سکیورٹی، صارفین کے بہتر تجربے، ویب ٹریفک کے مؤثر نظم، وسائل کے بہتر استعمال اور سائبر خطرات کے تدارک کے لیے انٹرپرائز سطح کے کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک(سی ڈی این )، اینٹی بوٹ، محفوظ ڈی این ایس اور ویب ایپلی کیشن فائر وال (ڈبلیو اے ایف) کی خدمات بھی نافذ کی گئی ہیں۔
جامع سائبر خطرات سے متعلق معلومات اور نگرانی کے لیے خصوصی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، جو ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کی نگرانی، ڈیجیٹل رسک پروٹیکشن اور سائبر واقعات کے بروقت اور مؤثر جواب دینے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کا کام انجام دے رہی ہیں۔
4۔ فزیکل سیکیورٹی کنٹرولز: یہ نظام نئی دہلی کے چانکیہ پوری میں واقع ایک مخصوص ڈیٹا سینٹر میں قائم ہے، جہاں سی سی ٹی وی نگرانی اور محدود جسمانی رسائی کے ذریعے سکیورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ ڈیٹا سینٹر آئی ایس او 27001 (انفارمیشن سکیورٹی مینجمنٹ سسٹم) سے تصدیق شدہ ہے۔
5۔ سکیورٹی آڈٹ اور نگرانی: یہ نظام سیکورٹی کے واقعات اور واقعات کی چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے سی ای آر ٹی-ان ٹی ایس اے پی (تھریٹ اینڈ سیٹیوشنل اویئرنیس پروجیکٹس) کے ساتھ مربوط ہے ۔
نظام کے سکیورٹی لاگ کی مسلسل نگرانی ادارے میں موجود سکیورٹی ٹیم کی جانب سے کی جاتی ہے، تاکہ سکیورٹی سے متعلق کسی بھی واقعے یا سائبر خطرے کی بروقت نشاندہی اور اس کا مؤثر تدارک کیا جا سکے۔
6۔ انتظامی اقدامات: غیر مجاز رسائی کی روک تھام اور حقیقی صارفین کے لیے ٹکٹ بکنگ کے عمل کو آسان اور بلا رکاوٹ بنانے کے لیے دھوکہ دہی کے خلاف متعدد انتظامی اقدامات اختیار کیے گئے ہیں۔
صارف اکاؤنٹس کی سخت جانچ پڑتال اور دوبارہ تصدیق کا عمل انجام دیا گیا ہے۔ یکم جنوری 2024 سے 30 جون 2026 کے دوران 6.68 کروڑ سے زائد صارف اکاؤنٹس غیر فعال کیے گئے، جبکہ 6.22 کروڑ سے زیادہ صارف اکاؤنٹس کو دوبارہ تصدیق کے اختیار کے ساتھ عارضی طور پر معطل کیا گیا۔آئی آر سی ٹی سی نے آدھار کو لنک نہ کرنے کی بنیاد پر کسی بھی صارف اکاؤنٹ کو غیر فعال نہیں کیا ہے۔ آئی آر سی ٹی سی مشتبہ صارف شناختوں(یوزر آئی ڈی )کی نشاندہی کے لیے غیر معمولی یا مشتبہ موبائل نمبروں، ای میل ڈومینز، آئی پی ایڈریسز اور دیگر وسیع پیمانوں کو بنیاد بناتا ہے۔
ریزرویشن سسٹم کے باقاعدہ سیکورٹی آڈٹ سی ای آر ٹی-ان پینل میں شامل انفارمیشن سیکورٹی آڈٹ ایجنسیوں کے ذریعے کیے جاتے ہیں ۔ مزید برآں ، سائبر حملوں کا پتہ لگانے اور انہیں روکنے کے لیے سی ای آر ٹی-ان اور نیشنل کریٹیکل انفارمیشن انفراسٹرکچر پروٹیکشن سینٹر (این سی آئی آئی پی سی) کے ذریعے ٹکٹنگ سسٹم سے متعلق انٹرنیٹ ٹریفک کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے ۔
مالی سال 2025-26 اور 2026-27 (30 جون 2026 تک) کے دوران مشتبہ ٹکٹ بکنگ سے متعلق نیشنل سائبر کرائم پورٹل پر 530 شکایات درج کی گئی ہیں۔
مالی سال 2025-26 اور 2026-27 (30 جون 2026 تک) کے دوران 13,343 مشتبہ ای میل ڈومینز کو بلاک کر دیا گیا ہے۔
صرف آدھار سے تصدیق شدہ صارفین کو ہی تتکال ٹکٹوں اور اے آر پی (ایڈوانس ریزرویشن پیریڈ) کے تحت ٹکٹوں کی بکنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔
7۔ منظم اقدامات (کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک اور اینٹی بوٹ)بی اوٹی):
نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے ہندوستانی ریلوے نے کنٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک (سی ڈی این ) نافذ کیا ہے، تاکہ جامد مواد کو علیحدہ طور پر فراہم کیا جا سکے اور این جی ای ٹی (نیکسٹ جنریشن ای۔ٹکٹنگ) ویب سائٹ کے سرورز پر براہ راست ٹریفک کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ اینٹی بوٹ ٹیکنالوجی بھی نافذ کی گئی ہے، جو بدنیتی پر مبنی اور مشتبہ خودکار سرگرمیوں کی مؤثر روک تھام میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اوسطاً 64 فیصد مشتبہ اور نقصان دہ کوششوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
یہ نظام نقصان دہ ٹریفک کو کم کرنے، جامد مواد کی مؤثر فراہمی اور نظام پر بوجھ گھٹانے میں مدد دیتا ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی اور تصدیق شدہ صارفین کو زیادہ بہتر، تیز رفتار اور سہل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
گزشتہ پانچ سالوں، یعنی 2021 سے 2025 اور 2026 میں جون تک، ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف )نے 22,676 ٹکٹ دلالوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے خلاف ریلوے ایکٹ، 1989 کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
گزشتہ چھ ماہ کے دوران ای۔ٹکٹنگ نظام تک جعلی رسائی کی کوششوں کو ناکام بنانے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
June 2026
|
Out of 19.12 billion requests, 12.61 billion were bots. (65.95%)
|
|
May 2026
|
Out of 20.07 billion requests, 12.08 billion were bots. (60.18%)
|
|
April 2026
|
Out of 17.33 billion requests, 10.64 billion were bots. (61.39%)
|
|
March 2026
|
Out of 12.44 billion requests, 05.71 billion were bots. (45.90%)
|
|
February 2026
|
Out of 11.01 billion requests, 05.01 billion were bots. (45.50%)
|
|
January 2026
|
Out of 12.35 billion requests, 07.26 billion were bots. (58.78%)
|
گزشتہ چھ ماہ کے اوسط اعداد و شمار کے مطابق نظام کو موصول ہونے والی 15.38 ارب درخواستوں میں سے 8.88 ارب درخواستیں بوٹس کی جانب سے تھیں، جو مجموعی درخواستوں کا 57.74 فیصد بنتی ہیں۔
آن لائن ٹکٹ بکنگ میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جانے کے بعد گزشتہ ایک سال (جون 2025 سے جون 2026) کے دوران آن لائن اور کاؤنٹر کے ذریعے ٹکٹوں کی فروخت کا تقابلی ڈیٹا درج ذیل ہے:
|
Online ticketing
|
57.90 Cr.
|
89%
|
|
Counter booking
|
07.18 Cr.
|
11%
|
|
Total
|
65.08 Cr.
|
100%
|
یہ معلومات ریلوے ، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں ۔
***
(ش ح۔ش آ)
UN No: 378
(रिलीज़ आईडी: 2287887)
आगंतुक पटल : 12