الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے حکومت کے سخت اقدامات، سوشل میڈیا پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کے خلاف کریک ڈاؤن
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت
غیر قانونی مواد کو تیزی سے ہٹانے کی نئی مدت اور سخت جانچ پڑتال کے اقدامات سے انٹرنیٹ صارفین، خصوصاً بچوں، کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 3:30PM by PIB Delhi
حکومت ہند کی پالیسیاں خواتین اور بچوں سمیت تمام انٹرنیٹ صارفین کے لیے ایک کھلا، محفوظ، قابلِ اعتماد اور جوابدہ ڈجیٹل ماحول فراہم کرنے پر مرکوز ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ- 2000 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اینڈ ڈجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز- 2021 کے تحت ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر غیر قانونی اور نقصان دہ مواد سے نمٹنے کے لیے سخت قانونی فریم ورک نافذ کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد (سی ایس اے ایم)
حکومت ہند نے ان خبروں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد(سی ایس اے ایم) سے منسلک اشتہارات کی تشہیر کا الزام لگایا گیا ہے اور متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم (انٹرمیڈیری) سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔
اسی طرح نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے بھی متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس جاری کیا ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ- 2000
آئی ٹی ایکٹ کے تحت متعدد سائبر جرائم کے لیے سزا کا التزام کیا گیا ہے، جن میں شامل ہیں-شناخت کی چوری دفعہ 66(سی)،جعل سازی یا کسی اور کی شناخت اختیار کرنا دفعہ 66(ڈی)،رازداری کی خلاف ورزی دفعہ 66(ای) اور فحش یا جنسی طور پر واضح مواد کی اشاعت یا ترسیل (دفعات 67، 67 اے اور 67 (بی) کا التزام ہے۔اس قانون (دفعات 78 اور 80)کے تحت پولیس کو ایسے جرائم کی تفتیش کے اختیارات بھی حاصل ہیں۔
آئی ٹی رولز- 2021 کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داریاں
آئی ٹی رولز کے مطابق تمام انٹرمیڈیریز (سوشل میڈیا پلیٹ فارمز وغیرہ) پر لازم ہے کہ وہ مناسب احتیاط (ڈی ڈی) برتیں اور صارفین کو آگاہ کریں کہ وہ ایسا کوئی مواد پوسٹ، اپ لوڈ، شائع، منتقل، ترمیم یا شیئر نہ کریں جوبچوں کے لیے نقصان دہ ہو،فحش یا عریاں ہو،کسی کی نجی زندگی میں مداخلت کرتا ہو،جنس کی بنیاد پر توہین یا ہراسانی پر مبنی ہو،یا کسی نافذ العمل قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو۔
شکایت موصول ہونے کے دو گھنٹے کے اندر کارروائی-اگر کسی فرد یا اس کی جانب سے کوئی شکایت موصول ہوتی ہے کہ کسی مواد میں:مکمل یا جزوی برہنگی،جسم کے نجی حصوں کی نمائش،یا مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تصاویر شامل ہیں تو متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو دو گھنٹے کے اندر تمام ممکنہ اور مناسب اقدامات کرتے ہوئے اس مواد کو ہٹانا یا اس تک رسائی بند کرنا ہوگی۔
آئی ٹی رولز میں حالیہ ترامیم
حالیہ ترامیم کے مطابق، اگر کسی مجاز عدالت یا مناسب حکومت/اس کی مجاز ایجنسی کی جانب سے حکم یا وجوہات پر مبنی اطلاع موصول ہو تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر انٹرمیڈیریز کو تین گھنٹے کے اندر غیر قانونی مواد ہٹانا ہوگا یا اس تک رسائی روکنی ہوگی۔
اگر معاملہ کسی ایسے جرم سے متعلق ہو جو موجودہ قوانین، مثلاً :بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس )- 2023،بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا بی این ایس ایس- 2023،یا بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ ایکٹ(پوکسو) 2012کے تحت قابلِ سزا ہو اور قانون کے مطابق رپورٹ کرنا لازمی ہو، تو انٹرمیڈیریز متعلقہ حکام کو اس جرم کی اطلاع دینے کے پابند ہوں گے۔
مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے تیار کردہ مواد کے نقصانات سے نمٹنے کے اقدامات
حکومت نے آئی ٹی رولز- 2021 میں مزید ترامیم کرکے مصنوعی طور پر تیار کردہ معلومات (ایس جی آئی) سے پیدا ہونے والے خطرات، خصوصاً ڈیپ فیکس اور اے آئی سے تیار کردہ مواد کے خلاف بھی ضابطہ جاتی فریم ورک کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
ان ترامیم کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- انٹرمیڈیریز (سوشل میڈیا پلیٹ فارمز) پر لازم ہوگا کہ وہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ جائز مواد پر واضح لیبل اور قابل سراغ میٹا ڈیٹا (ٹی ایم) فراہم کریں، تاکہ صارفین آسانی سے مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد کی شناخت کر سکیں اور دھوکہ دہی یا غلط استعمال سے بچا جا سکے۔
- یہ ترامیم صارفین کی جوابدہی اور پلیٹ فارمز کی مناسب احتیاط (ڈی ڈی) مزید مضبوط بناتی ہیں۔ اس کے تحت صارفین کو اے آئی سے تیار کردہ غیر قانونی مواد کے قانونی نتائج سے آگاہ کرنا لازمی ہوگا، جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تعمیل کی مزید سخت ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔
- ان رہنما اصولوں میں واضح طور پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد (ایس ایس ای ایم) ، بغیر رضامندی کی نجی یا قابل اعتراض تصاویر (این سی آئی آئی) کسی کی نقالی یا شناخت کی جعل سازی اور دیگر نقصان دہ اے آئی سے تیار کردہ مواد کو شامل کیا گیا ہے۔ پلیٹ فارمز کو ایسے مواد کی روک تھام اور اس کی نشاندہی ہوتے ہی فوری کارروائی کرنا لازمی ہوگا۔
- قوانین وضوابط پر عمل درآمد کی مدت کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ اگر کسی مجاز عدالت یا مناسب حکومت کی جانب سے وجوہات پر مبنی اطلاع موصول ہو تو غیر قانونی مواد ہٹانے کی مدت 36 گھنٹوں سے کم کر کے صرف 3 گھنٹے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح شکایات کے ازالے کی مدت 72گھنٹوں سے کم کر کے 36 گھنٹے کر دی گئی ہے، جبکہ حساس معاملات (جیسے برہنگی، شناخت کی جعل سازی وغیرہ) میں کارروائی کی مدت 24 گھنٹوں سے کم کر کے صرف 2 گھنٹے مقرر کی گئی ہے۔
- انٹرمیڈیریز پر لازم ہوگا کہ وہ مناسب اور مؤثر تکنیکی اقدامات، مثلاً خودکار (آٹو کیٹیڈ) ٹولز یا دیگر موزوں نظام استعمال کریں تاکہ کوئی بھی صارف ایسا مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد (ایس جی آئی) تخلیق، ترمیم، شائع، منتقل یا شیئر نہ کر سکے جو کسی نافذ العمل قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو۔
اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (ایس ایس ایم آئیز)کی اضافی ذمہ داریاں
آئی ٹی رولز کے مطابق اہم سوشل میڈیا انٹرمیڈیریز- ایس ایس ایم آئیز لازم ہے کہ وہ مناسب تکنیکی اقدامات، خودکار ٹولز یا دیگر مؤثر طریق کار استعمال کریں تاکہ پیشگی طور پر ایسے مواد کی نشاندہی کی جا سکے جس میں عصمت دری کی تصویر کشی یا نقل ہو،بچوں کے جنسی استحصال یا جنسی زیادتی سے متعلق مواد موجود ہو، خواہ وہ واضح ہو یا بالواسطہ،یا ایسا مواد ہو جو پہلے ہٹائے جا چکے مواد سے مکمل طور پر یکساں ہو۔
میسجنگ پلیٹ فارمز کے لیے خصوصی شرائط
جو اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بنیادی طور پر میسجنگ سروس فراہم کرتے ہیں، انہیں ضرورت پڑنے پر کسی پیغام کے پہلے ارسال کرنے والے (فرسٹ اوریجنیٹر-ایف او) کی شناخت ممکن بنانی ہوگی، تاکہ درج ذیل نوعیت کے جرائم کی روک تھام، تفتیش، مقدمہ چلانے یا سزا دینے میں مدد مل سکے: ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف جرائم،ریاست کی سلامتی سے متعلق جرائم،غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والے جرائم،امنِ عامہ سے متعلق جرائم،مذکورہ جرائم پر اکسانا،یا عصمت دری، جنسی طور پر واضح مواد یا بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق ایسے جرائم جن کی سزا کم از کم پانچ سال قید ہو۔
قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی صورت میں
اگر کوئی انٹرمیڈیری آئی ٹی رولز کے تحت عائد قانونی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کرتا تو اسے انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 79 کے تحت حاصل قانونی تحفظ (ایس ایچ) حاصل نہیں رہے گا۔ اس کے بعد اس پلیٹ فارم کے خلاف نافذ العمل قوانین کے مطابق قانونی کارروائی یا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔
مشاورتی ہدایات(ایڈوائزری)اور معیاری عملی طریق کار (ایس او پی)
حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سمیت تمام انٹرمیڈیریز کو متعدد مشاورتی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ- 2000 اور آئی ٹی رولز- 2021 کے تحت مقرر کردہ مناسب احتیاط (ڈی ڈی) کی قانونی ذمہ داریوں پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ جاری کردہ ہدایات اور معیاری عملی طریق کار (ایس او پی)کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- 29 دسمبر 2025 کو جاری کردہ ایک مشاورتی ہدایت میں حکومت نے انٹرمیڈیریز کو یاد دلایا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر فحش، عریاں، بے ہودہ، غیر اخلاقی، جنسی مواد اور دیگر غیر قانونی مواد کی میزبانی، اشاعت، ترسیل، شیئرنگ یا اپ لوڈنگ کو روکنے کے لیے آئی ٹی ایکٹ اور آئی ٹی رولز کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں۔
اس ہدایت میں پلیٹ فارمز کو یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنے اندرونی تعمیل کے نظام (سی ایف) ، مواد کی نگرانی ( سی ایم) اور صارفین کے خلاف کارروائی کے طریق کار (یو ای ایم) کا فوری جائزہ لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئی ٹی ایکٹ اور آئی ٹی رولز کی مسلسل اور سختی سے پابندی کی جائے۔
- 16 مارچ 2026 کو ایک اور مشاورتی ہدایت جاری کی گئی، جس میں انٹرمیڈیریز کو مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے ذریعے تیار کردہ توہین آمیز، ہتک آمیز، قابلِ اعتراض، تضحیک آمیز اور گمراہ کن مواد کی تیاری، میزبانی، اشاعت، ترسیل، شیئرنگ یا اپ لوڈنگ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا گیا۔
- 11 نومبر 2025 کو بغیر رضامندی کے نجی یا قابلِ اعتراض تصاویر (این سی آئی آئی) کے آن لائن پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک معیاری عملی طریق کار (ایس او پی) جاری کیا گیا۔
اس ایس او پی میں متاثرین، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (انٹرمیڈیریز) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تفصیلی رہنما اصول فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ بغیر رضامندی کے شیئر کی گئی نجی یا مصنوعی طور پر تبدیل شدہ (Morphed) تصاویر کے آن لائن پھیلاؤ کے خلاف فوری، مؤثر اور یکساں کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ معلومات الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیرمملکت جناب جتن پرساد نے 22جولائی 2026 کو ایوان زیریں -لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے پیش کی۔
*****
352 UR-
م ش ح-ظ الف
(रिलीज़ आईडी: 2287826)
आगंतुक पटल : 7