صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کےتدارک کے لیے قومی سطح پر تیاری میں  اضافے کے تئیں اٹھائے گئے اقدامات

ملک بھر میں تشخیصی صلاحیت کو مستحکم کرنے کے لیے آئی سی ایم آر کے تحت ملک گیر وی آر ڈی ایل نیٹ ورک کو 163 لیبارٹریوں تک توسیع دی گئی ہے ، جن میں 11 علاقائی وی آر ڈی ایل ، 27 ریاستی وی آر ڈی ایل اور 125 میڈیکل کالج وی آر ڈی ایل شامل ہیں

متعدی امراض کی تحقیق اور تشخیصی لیباریٹریز اور چار علاقائی نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ ہب قائم کیے گئے ہیں تاکہ مقامی طورپر تشخیص ، پیتھوجینز کی جینومک خصوصیت ، معیاری ڈیٹا جنریشن کے ذریعے بروقت رپورٹنگ کو بڑھایا جا سکے

عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کے دوران مرکزی اور ریاستی صحت حکام کے درمیان رابطہ کاری کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور مختلف مشقوں اور موک ڈرلز کے ذریعے اس کی جانچ بھی کی گئی ہے

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 1:59PM by PIB Delhi

مرکزی وزارت صحت مختلف قومی پروگراموں اور اداروں بشمول وائرل ریسرچ اینڈ ڈائیگنوسٹک لیباریٹریز (وی آر ڈی ایل) نیٹ ورک ، جینومک نگرانی کے اقدامات اور عوامی صحت کی اہمیت کے حامل پیتھوجینز کا جلد پتہ لگانے کے لیے آلودہ  پانی کی نگرانی کے ذریعے ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں کا پتہ لگانے اور ان کےتدارک کے لیے اپنی تیاریوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے اور انہیں مستحکم  کرتی ہے ۔  تیاری کو مختلف مشقوں ، موک ڈرلز اور تیزی سے کارروائی کرنے والے  طریقہ ٔ کار میں شمولیت کے ذریعے مزید مستحکم کیا جاتا ہے ۔

 

بیماریوں سے روک تھام کے قومی مرکز کی وزارت این سی ڈی سی کے ذریعے امراض پر نگرانی کے مربوط پروگرام (آئی ڈی ایس پی) کو نافذ کر رہی ہے جس میں وبا پھیلنے والی متعدی بیماریوں کی نگرانی اور ان کاتدارک کرنا لازمی ہے ۔طبی تحقیق کی بھارتی کونسل (سی ایم آر) کے تحت ملک گیر وی آر ڈی ایل نیٹ ورک کو 163 لیباریٹریوں تک توسیع دی گئی ہے ، جس میں 11 علاقائی وی آر ڈی ایل ، 27 ریاستی وی آر ڈی ایل اور 125 میڈیکل کالج وی آر ڈی ایل شامل ہیں ، تاکہ ملک بھر میں تشخیصی صلاحیت کو مستحکم کیا جا سکے ۔  اس کے علاوہ ، متعدی امراض کی تحقیق اور تشخیصی لیباریٹریز اور چار علاقائی نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ ہب قائم کیے گئے ہیں تاکہ صحت عامہ کی نگرانی اور وباء کےتدارکی عمل میں مدد کے لیے  مقامی طور پر شخیص ، پیتھوجینز کی جینومک خصوصیت ، معیاری ڈیٹا جنریشن اور بروقت رپورٹنگ میں اضافہ کیا جاسکے۔

صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کے دوران مرکزی اور ریاستی صحت کے حکام کے درمیان تال میل کو امراض پر نگرانی کے مربوط پروگرام (آئی ڈی ایس پی) /انٹیگریٹڈ ہیلتھ انفارمیشن پلیٹ فارم (آئی ایچ آئی پی) کے تحت بروقت بیماری کی نگرانی اور رپورٹنگ کے ذریعے مضبوط کیا گیا ہے ۔  وباء پھیلنے کے دوران ، وزارت ضرورت کے مطابق قومی مشترکہ وباء  کی روک تھام سے متعلق ٹیم کے تحت باہمی تعاون سے وباء کی تحقیقات ، خطرے کی تشخیص ، لیباریٹری کی تصدیق  اور کثیر شعبہ جاتی ماہرین کی تعیناتی کے ذریعے تکنیکی مدد فراہم کرتی ہے ۔  صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال کے دوران مرکزی اور ریاستی صحت کے حکام کے درمیان ہم آہنگی کے طریقہ ٔکار کا بھی مختلف مشقوں اور موک ڈرلس کے ذریعے تجربہ کیا گیا ہے ۔

مستقبل کی صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک جامع نقطہ نظر کے ایک حصے کے طور پر ، پردھان منتری-آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم) کو کسی بھی نئی اور ابھرتی ہوئی بیماریوں کی شناخت اور ان کے انتظام کے لیے بنیادی ، ثانوی اورمزید بہتر صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات/نظاموں اور اداروں کی صلاحیت کو بڑھانے کے ارادے سے شروع کیا گیا ہے ۔

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ بات بتائی ۔

 

********

 

 

ش ح۔ش ب۔ ج ا

U-319


(रिलीज़ आईडी: 2287558) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil