وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
حکومت بنیادی ڈھانچے ، ڈیجیٹل اصلاحات اورمویشیوں کے علاج اورصحت سے متعلق خدمات کے ذریعے ڈیری اور مویشی پروری کے شعبے کومزید مستحکم کررہی ہے
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 4:19PM by PIB Delhi
ماہی گیری ، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ نے لوک سبھا کو بتایا کہ حکومت بنیادی ڈھانچے کو ترقی دے کر ،ویٹرنری ہیلتھ کیئر کو بہتر بنا کر ، ڈیجیٹل وسیلے سے مویشیوں سے متعلق انتظامات کو فروغ دے کر اور ڈیری کسانوں کی مدد کر کے ہندوستان کے ڈیری اور مویشیوں کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے کئی اقدامات نافذ کر رہی ہے ۔
1. دودھ کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی کوئی تجویز نہیں
دودھ کی قیمتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں جناب راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ دودھ کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) متعارف کرانے کی کوئی تجویز نہیں ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ دودھ کی قیمتوں کا تعین ڈیری کوآپریٹیو اور نجی ڈیریوں کے ذریعے بازار کے حالات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔
وزیر موصوف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ حکومت دودھ کی خریداری بڑھانے ، پروسیسنگ کی صلاحیت کو بڑھانے ، گاؤں کی سطح کی ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں کو فروغ دینے ، دودھ کے معیار کی جانچ کی سہولیات کو بہتر بنانے اور ملک بھر میں ڈیری کا جدید بنیادی ڈھانچہ تعمیرکرنے کے مقصد سے مختلف اسکیموں کے ذریعے ڈیری کسانوں کی مدد کرنا جاری رکھے ہوئے ہے ۔
2. اے ایچ آئی ڈی ایف مویشیوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور کسانوں کی آمدنی کو فروغ دے رہا ہے
مویشی پروری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جناب راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ یہ اسکیم ڈیری پروسیسنگ ، میٹ پروسیسنگ ،مویشیوں کی غذاتیارکرنے کے مراکز اور بہتر معیاری بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے ۔
وزیر موصوف نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ وسیع تر شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی حکومتوں ، کامن سروس سینٹرز اور صنعتی انجمنوں کے ذریعے باقاعدگی سے بیداری پروگرام ، متعلقہ فریقوں کے ساتھ میٹنگز ، تربیتی اجلاس اور ہرایک تک رسائی کی سرگرمیوں کا انعقاد کرتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے ایچ آئی ڈی ایف کے تحت بنایا گیا بنیادی ڈھانچہ بازار تک رسائی کو بہتر بنا رہا ہے اور مویشی پالنے والوں کو اپنی پیداوار کے لیے بہتر آمدنی حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے ۔
3. نیشنل ڈیجیٹل لائیو اسٹاک مشن ڈیجیٹل وسیلےنیز محفوظ طریقے سے جانوروں کی شناخت کو یقینی بنانا
نیشنل ڈیجیٹل لائیو اسٹاک مشن (این ڈی ایل ایم) کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں جناب راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ ہر رجسٹرڈ جانور کو ایک منفرد 12 ہندسوں کا ٹیگ آئی ڈی تفویض کیا جاتا ہے ، جس سے اس جانور کی پوری زندگی میں ٹیکہ کاری ، افزائش نسل ، علاج اور دیگر ویٹرنری خدمات کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیارکرنا ممکن ہوتا ہے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ یہ پورٹل مویشیوں کے ڈیٹا کے سرکاری درجے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ای ای ایس-256 انکرپشن اور ٹرانسپورٹ لیئر سیکورٹی (ٹی ایل ایس) کا استعمال کرتا ہے ۔ انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ موبائل ویٹرنری یونٹ ابھی تک پورٹل کے ساتھ مربوط نہیں ہوئے ہیں اور بینکنگ اے پی آئی انضمام کے لیے ابھی تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے ۔
4. پورے ملک میں دودھ کی پیداوار میں اضافے کے اقدامات کا فروغ
ڈیری کی ترقی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ حکومت دودھ کی پیداوار بڑھانے ، کسانوں کی آمدنی کو بہتر بنانے اور دیہی روزگار پیدا کرنے کے لیے کئی اہم پروگرام نافذ کر رہی ہے ۔
وزیر موصوف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ نیشنل لائیو اسٹاک مشن (این ایل ایم) لائیو اسٹاک ہیلتھ اینڈ ڈیزیز کنٹرول پروگرام (ایل ایچ ڈی سی پی) اور مویشی پروری انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (اے ایچ آئی ڈی ایف) جیسی اسکیمیں صنعت کاری ، بہتر افزائش نسل ، بیماریوں پر قابو پانے ، مویشیوں کے علاج اورصحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور کفایتی ویٹرنری ادویات کی دستیابی میں مدد کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مہاراشٹر میں 4,700.13 کروڑ روپے کے 113 اے ایچ آئی ڈی ایف پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے ، جس میں 123.46 کروڑ روپے کی سود کی رعایت جاری کی گئی ہے ۔
********
ش ح۔ش ب۔ ج ا
U-314
(रिलीज़ आईडी: 2287545)
आगंतुक पटल : 4