سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
جنوری 2021 اور جون 2026 کے درمیان 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خطرناک طریقے گٹر اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کی وجہ سے 332 صفائی ملازمین کی موت کی اطلاع موصول ہوئی ہے
حکومت نے ہاتھ سے فضلہ اٹھانے کی روایت کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا: سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کے وزیرِ مملکت جناب رام داس اٹھاولے کا لوک سبھا میں تحریری جواب
خطرناک طریقے سے ہاتھ سے صفائی کروانے کے معاملے میں گذشتہ پانچ برسوں کے دوران متعلقہ ایجنسیوں اور اہلکاروں کے خلاف 193 ایف آئی آر درج کی گئیں
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 7:08PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے "ہاتھ سے فضلہ اٹھانے کے کام پر پابندی اور ان کارکنان کی بازآبادکاری کے ایکٹ، 2013" کے سخت نفاذ، متاثرہ افراد کی بازآبادکاری اور صفائی کے مشینی نظام کے فروغ کے ذریعے ہاتھ سے فضلہ اٹھانے کے عمل کے مکمل خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ ایکٹ، جو 6 دسمبر 2013 کو نافذ ہوا تھا، کسی بھی شخص کو ہاتھ سے فضلہ اٹھانے کے کام پر رکھنے یا اس میں شامل کرنے سے منع کرتا ہے اور خلاف ورزیوں پر سخت تعزیری دفعات کا نظم کرتا ہے۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کے وزیرِ مملکت جناب رام داس اٹھاولے نے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر ڈی روی کمار کو ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

ایوان کو مطلع کیا گیا کہ ایم ایس ایکٹ 2013 کی دفعہ 8 کے تحت، کوئی بھی شخص یا ایجنسی جو کسی کو ہاتھ سے فضلہ اٹھانے کے کام پر رکھنے یا اس میں شامل کرنے کی قصوروار پائی جاتی ہے، اسے دو سال تک کی قید، ایک لاکھ روپے تک کا جرمانہ، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں، جو اس غیر انسانی عمل کے خلاف حکومت کے 'زیرو ٹالرینس' رویے کو تقویت دیتا ہے۔
تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ نیشنل کمیشن فار صفائی کرمچاریز (این سی ایس کے) سے موصولہ معلومات کے مطابق، یکم جنوری 2021 سے 30 جون 2026 تک کی مدت کے دوران 18 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک صفائی کے کام کے دوران 332 صفائی ملازمین اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔
تحریری جواب کے مطابق، قانون کی دفعات کے تحت خطرناک طریقے سے ہاتھ سے صفائی کروانے کے ذمہ دار اہلکاروں اور ایجنسیوں کے خلاف متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے پچھلے پانچ سالوں کے دوران 193 فرسٹ انفارمیشن رپورٹس درج کی گئی ہیں۔
ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے ایوان کو مطلع کیا گیا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سیور کی مشینی صفائی کے نفاذ کے حوالے سے کوئی الگ سے تشخیصی جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔
ایوان کو یہ بھی مطلع کیا گیا کہ تمام اضلاع میں کیے گئے حالیہ سروے کے دوران ہاتھ سے فضلہ اٹھانے کے عمل کا کوئی بھی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے، جو اس فرسودہ عمل کو ختم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے کی جانے والی مسلسل قانونی، انتظامی اور بحالی کی کوششوں کے مثبت اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
حکومت قانون کے سخت نفاذ، صفائی کی مشینی ٹیکنالوجیز کے فروغ اور جامع بحالی کے اقدامات کے ذریعے صفائی ملازمین کے تحفظ، وقار اور فلاح و بہبود کے اقدامات کو مسلسل مضبوط بنا رہی ہے، جو ہاتھ سے فضلہ اٹھانے کے عمل سے مبرا بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے اس کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
**********
(ش ح –اب ن)
U.No:297
(रिलीज़ आईडी: 2287460)
आगंतुक पटल : 7