زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزارت زراعت کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں کھاد، بیج، مانسون اور ایل نینو کی صورت حال کا جائزہ


پورے ملک میں جنوب مغربی مانسون کا اثر، خریف فصلوں کی بوائی کے لیے حالات سازگار

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان کی حساس اضلاع میں زرعی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی ہدایت

جناب شیوراج سنگھ چوہان کی کسانوں کو کھاد کی بروقت دستیابی اور تقسیم کے نظام میں کسی بھی قلت کے مسلے کا فوری ازالہ یقینی بنانے کی ہدایت

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 6:33PM by PIB Delhi

زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی صدارت میں آج نئی دہلی میں ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ کا انعقاد ہوا، جس میں خریف فصلوں کی بوائی کی پیش رفت، ایل نینو کے ممکنہ اثرات، مانسون کی موجودہ صورت حال، کم بارش والے حساس اضلاع کی صورتحال، کھاد اور بیج کی دستیابی، آبی ذخائر میں پانی کی موجودہ سطح اور دیگر متعلقہ امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے افسران کو ہدایت دی کہ کم بارش والے علاقوں پر خصوصی نظر رکھی جائے اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جائے۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ 17 جولائی 2026 تک ملک میں خریف فصلوں کی مجموعی بوائی کا رقبہ 658.19 لاکھ ہیکٹیئر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی زیرِ کاشت رقبے میں کمی آئی ہے، تاہم کئی ریاستوں میں دھان، دالوں اور دیگر خریف فصلوں کی بوائی میں حوصلہ افزا پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہدایت دی کہ دالوں، تیل دار اجناس اور کپاس سے متعلق مشن ریاستی حکومتوں کے ساتھ ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد کریں اور زمینی سطح سے موصول ہونے والی معلومات اور آراء کی بنیاد پر فوری کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔

 میٹنگ میں ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کی پیش گوئیوں، ایل نینو کی ممکنہ صورتحال اور بارش کے نقطۂ نظر سے ملک کے 270 حساس اضلاع کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران مانسون اور بارش کی صورتحال پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی۔ میٹنگ میں مختلف ریاستوں میں بارش کی کیفیت، کم اور زیادہ بارش والے علاقوں، فصلوں کی بوائی کی پیش رفت اور این ڈی وی آئی (نارملائزڈ ڈفرینس ویجیٹیشن انڈیکس) جیسے اشاریوں کی بنیاد پر فصلوں کی موجودہ حالت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مانسون کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے خریف سیزن کے دوران زرعی سرگرمیوں کے لیے سازگار حالات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

میٹنگ میں بتایا گیا کہ 9 جولائی 2026 تک جنوب مغربی مانسون راجستھان، ہریانہ اور پنجاب کے باقی ماندہ علاقوں سمیت پورے ملک میں پھیل چکا تھا۔ عام طور پر مانسون 8 جولائی تک پورے ملک کا احاطہ کر لیتا ہے، تاہم اس سال یہ عمل معمول سے صرف ایک دن بعد مکمل ہوا۔ ملک بھر میں مانسون کے پھیلاؤ کے بعد بیشتر ریاستوں میں خریف فصلوں کی بوائی کے لیے سازگار حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

یکم جون سے 15 جولائی 2026 کے دوران ملک میں اوسط بارش معمول سے 23 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔ اس مدت میں ملک بھر میں 227 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ معمول کے مطابق 294.2 ملی میٹر بارش ہونی چاہیے تھی۔

سب سے زیادہ بارش کی کمی مشرقی اور شمال مشرقی ہندوستان میں دیکھی گئی، جہاں معمول کے 540.2 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف 348 ملی میٹر بارش ہوئی، یعنی 36 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح جنوبی جزیرہ نما ہندوستان میں 26 فیصد، شمال مغربی ہندوستان میں 19 فیصد اور وسطی ہندوستان میں 13 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر بارش کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ریاستی حکومتوں کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے مناسب زرعی انتظامات اور ہنگامی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہدایت دی کہ بارش کی صورتحال پر مسلسل نگرانی برقرار رکھی جائے اور ضرورت کے مطابق ریاستوں کے اشتراک سے مناسب زرعی انتظامات اور متبادل اقدامات کو بروقت نافذ کیا جائے۔

 میٹنگ میں کھاد، خصوصاً یوریا کی دستیابی اور تقسیم کے نظام کے ساتھ ساتھ بیجوں کی دستیابی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ خریف 2026 کے لیے کھاد اور بیج کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے ان کی فراہمی کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہدایت دی کہ کرشی وگیان کیندروں (کے وی کیز) اور ریاستی حکومتوں کے ذریعے زمینی سطح کی حقیقی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسانوں کو ان کی ضرورت کے مطابق بروقت کھاد دستیاب ہو اور اگر تقسیم کے نظام میں کسی بھی قسم کی کمی یا رکاوٹ ہو تو اسے فوری طور پر دور کیا جائے۔

جائزہ میٹنگ کے اختتام پر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے وزارت زراعت کے دونوں محکموں کو ہدایت دی کہ خریف سیزن کے دوران ریاستی حکومتوں کے ساتھ تال میل، سائنسی مشوروں، موسم پر مبنی زرعی انتظامات اور کسانوں تک مختلف سرکاری اسکیموں کے مؤثر نفاذ کے ذریعے زرعی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے مفادات کے تحفظ اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 307 )


(रिलीज़ आईडी: 2287444) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Gujarati