شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جیوترادتیہ ایم سِندھیا نے میگھالیہ کے لکاڈونگ ہلدی کے لیے مشن ”گولڈن سپائس“ کا اِفتتاح کیا


وزیرِ اعظم نریندر مودی کے آتمِ نربھر شمال مشرق کے وژن کا اظہار مشن گولڈن اسپائس میں ہوا ہے — جی آئی ٹیگ شدہ لکاڈونگ ہلدی کو عالمی سطح پر مسابقتی لگژری مصالحے کے برانڈ میں تبدیل کرنا

میگھالیہ میں دنیا کے معیاری اعلیٰ کرکیومین نامیاتی ہلدی کا بنیادی ذریعہ بننے کی صلاحیت موجود ہے

وزیر موصوف نے جی آئی ٹیگ شدہ لکاڈونگ ہلدی کو عالمی پریمیم صلاحیت کے ساتھ ایک پرچم بردار ”برانڈ نارتھ ایسٹ“ پراڈکٹ کے طور پر نمایاں کیا

प्रविष्टि तिथि: 21 JUL 2026 5:35PM by PIB Delhi

مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی (ایم ڈی او این ای آر) کے مرکزی وزیر، جناب جیوترادتیہ ایم سِندھیا نے میگھالیہ کے محترم وزیرِ اعلیٰ، جناب کونراڈ کے سنگما کے ساتھ مل کر آج ”مشن گولڈن سپائس – انٹیگریٹیڈ لکاڈونگ ٹرمرک ویلیو چین انہانسمنٹ پروجیکٹ“ کا اِفتتاح کیا، جو ریاست میگھالیہ میں ہلدی کی کاشت اور ویلیو چین کی ترقی کے لیے 175.45 کروڑ روپے کا یکجائی پر مبنی اقدام ہے۔ اس مشن کو پانچ سالہ مرحلہ وار روڈ میپ (2025–2030) کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جسے دو مراحل میں نافذ کیا جائے گا — ویلیو چین کو مضبوط بنانا (پہلا مرحلہ) اس کے بعد توسیع و پیمانہ بندی (دوسرا مرحلہ) — تاکہ میگھالیہ کی منفرد فروخت کی تجویز (یو ایس پی)، جی آئی ٹیگ شدہ لکاڈونگ ہلدی کو فروغ دیا جا سکے۔

ایم ڈی او این ای آر اور شمال مشرقی کونسل (این ای سی) کے زیرِ انچارج، یہ مشن زراعت و کسانوں کی بہبود، فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز اور تجارت کی وزارتوں کے ساتھ ساتھ اپیڈا، سپائسز بورڈ، نیشنل ٹرمرک بورڈ، آئی سی اے آر، میٹی، نابارڈ، ایس ایف اے سی اور میگھالیہ سرکار کے اس کیموں اور مداخلتوں کے ساتھ یکجائی پر استوار ہے تاکہ ریاست میں مربوط ٹرمرک ویلیو چین ایکو سسٹم قائم کیا جا سکے۔

ایم ڈی او این ای آر کی سکریٹری، محترمہ نِویدتا شکلا ورما نے اپنے تعارفی کلمات میں مشن کے نفاذی فریم ورک کی وضاحت کی اور میگھالیہ کی لکاڈونگ ہلدی کی مکمل معاشی صلاحیت کو کھولنے کے لیے مشن موڈ کے نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے اس بات کی نشان دہی کی کہ اس کے غیر معمولی طور پر اعلیٰ کرکیومین مواد (7–10%)، مخصوص خوشبو اور مضبوط نیوٹریسیوٹیکل صلاحیت کے باوجود، چھوٹے کاشتکاروں کی آمدنی ناکافی پروسیسنگ سہولیات، ناکافی بنیادی ڈھانچے، کم زور مارکیٹ روابط اور اعلیٰ قدر کے اضافے کی کمی کی وجہ سے محدود رہتی ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ پروسیس شدہ اور برآمدی معیار کی مصنوعات گھریلو اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں نمایاں طور پر زیادہ قیمتوں کا حکم دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سکریٹری نے مزید وضاحت کی کہ مشن اس شعبے میں بڑے ساختی خلا کو منظم طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جن میں فصل کے بعد کے نقصانات، مربوط کولڈ چین بنیادی ڈھانچے کی کمی، تجارتی پیمانے پر پروسیسنگ سہولیات کا فقدان، کم زور برانڈنگ، اور منظم جی آئی مونیٹائزیشن اور خریدار لنکیج سسٹمز کی کمی شامل ہیں۔

اِفتتاحی پروگرام کے حصے کے طور پر، گولڈن سپائس مشن پر ایک مختصر فلم دکھائی گئی، جس کے بعد میگھالیہ کے ترقی پسند ہلدی کاشتکاروں کے ساتھ گفت و شنید اور سرمایہ کاروں اور صنعت کے نمائندوں کے تاثرات پیش کیے گئے۔

ایم ڈی او این ای آر کے مرکزی وزیر، جناب جیوترادتیہ ایم سِندھیا نے کہا کہ یہ اِفتتاح وزیرِ اعظم مودی کے ”اشٹ لکشمی“ — بھارت کے آٹھ شمال مشرقی ریاستوں — کے وژن کا حصہ تھا، جن کے بارے میں انھوں نے کہا کہ گذشتہ بارہ برسوں میں وہ بھارت کے ترقیاتی پیراڈائم کے کنارے سے مرکز میں آ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزارت نے تمام 8 شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مل کر ہر ریاست کے لیے ایک منفرد فروخت کی تجویز (یو ایس پی) متعین کی ہے، اور ہر یو ایس پی کو ”اوپر سے نیچے کے بجائے نیچے سے اوپر“ فروغ دیا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ لکاڈونگ ہلدی کا کرکیومین مواد دنیا کے اوسط سے تقریبا چار گنا زیادہ ہے، اور ہلدی کی پیداوار اور پروسیسنگ میں خواتین کے غیر معمولی کردار کو نمایاں کیا۔

وزیرِ اعظم کے حال ہی میں جی 7 سمٹ میں میگھالیہ کی لکاڈونگ ہلدی کو پیش کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب سِندھیا نے کہا کہ اس مصالحے نے دنیا کے رہ نماؤں میں زبردست دل چسپی پیدا کی ہے، اور مشن کے اسٹیک ہولڈروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فصل کے معیار، اصالت، پیمانے اور پائیداری کو یقینی بنائیں تاکہ یہ عالمی سطح پر بلند پرواز کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ مشن کا مقصد کاشتکاروں کی معاوضے کو تقریباًً دوگنا کرنا ہے — آج 30–40 روپے فی کلو سے بڑھا کر 2030 تک تقریباًً 80 روپے فی کلو تک — جب کہ کاشت کے تحت رقبے کو تقریباًً 2,500 ہیکٹر سے بڑھا کر تقریباًً 7,500 ہیکٹر تک لے جانا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ لکاڈونگ ہلدی کو میگھالیہ کے یو ایس پی کے طور پر فروغ دینا ریاست کے تقابلی اور مسابقتی فائدے کو ظاہر کرتا ہے اور اس کی روایت اور زرعی موسمی حالات میں جڑا ہوا ہے۔

میگھالیہ کے وزیرِ اعلیٰ، جناب کونراڈ کے سنگما نے کہا کہ مشن نے ریاستی سرکار، اہلکاران اور کاشتکاروں کے ذریعے برسوں کی ادارہ جاتی بنیادوں پر تعمیر کیا ہے، اور یہ مرکزی سرکار کے ”مشن موڈ“ کے نقطہ نظر کا غماز ہے جس میں ہر شمال مشرقی ریاست سے ایک منفرد مصنوعہ کی شناخت کرنا اور اس کے گرد ایک مکمل، قابلِ نقل نمونہ تعمیر کرنا شامل ہے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ میگھالیہ سے باہر لکاڈونگ ہلدی کے پودے اگانے کی کوششوں سے مسلسل کرکیومین مواد میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ”میگھالیہ کی مٹی میں کچھ جادوئی ہے“ جو خطے کی ہلدی کو منفرد بناتی ہے۔ انھوں نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا شمال مشرق پر مسلسل توجہ دینے کے لیے شکریہ ادا کیا اور ریاستی سرکار کے عزم کی تصدیق کی کہ وہ مرکزی سرکار کے ساتھ مل کر دیگر میگھالیہ مصنوعات جیسے انناس، ادرک، کٹھل، شہد اور مشرومز کے لیے اس نمونے کو نقل کرے گی۔

میگھالیہ سرکار کے زراعت و کسانوں کی بہبود کے وزیر، جناب ٹموتھی ڈی شیرا نے کہا کہ لکاڈونگ ہلدی ”صرف ایک فصل سے کہیں زیادہ ہے“ — یہ ریاست کے مقامی علم، ثقافت اور زرعی ورثے کی علامت ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ برسوں سے، کاشتکاروں نے پیداوار کو زیادہ تر خام اور نیم پروسیس شدہ حالت میں فروخت کیا ہے، جس سے دیہی آمدنی محدود رہی ہے، اور کہا کہ مشن گولڈن سپائس کو اسے تبدیل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں کاشت کو وسعت دینا، شمال مشرق کی سب سے بڑی مربوط نامیاتی ہلدی پروسیسنگ اور کرکیومین نکالنے کی سہولت قائم کرنا، اور خواتین — ویلیو چین کی ”حقیقی محافظ“ — کو مشن کے کسان اداروں اور کاروباری اداروں کے مرکز میں رکھنا شامل ہے۔

اِفتتاح کے دوران، مشرقی اور مغربی جینتیا ہلز کے کاشتکاروں کے ساتھ گفت و شنید کی گئی۔ انھوں نے واضح کیا کہ لکاڈونگ ہلدی صرف ایک اور مصالحہ نہیں بلکہ ایک پریمیم نامیاتی مصنوعہ ہے، اور مشن گولڈن سپائس نہ صرف ہلدی اگانے میں مدد کرے گا بلکہ کاشتکاروں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔

اِفتتاحی تقریب میں ڈاکٹر ایمینوئل کمار، صنعتی نمائندہ اور قدرتی مصنوعات کے ماہر، زراعت و کسانوں کی بہبود کی وزارت، شمال مشرقی کونسل (این ای سی)، اپیڈا اور میگھالیہ سرکار کے سینئر اہلکاران، کسان پروڈیوسر تنظیم کے رہ نماؤں، صنعتی شراکت داروں اور ہزاروں ہلدی کاشتکاروں نے شرکت کی جو جینتیا ہلز سے ورچوئل طور پر اِفتتاح میں شامل ہوئے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 283


(रिलीज़ आईडी: 2287377) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी