وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
مچھلی کی پیداوار
प्रविष्टि तिथि:
21 JUL 2026 3:03PM by PIB Delhi
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت، حکومت ہند کے تحت محکمۂ ماہی پروری مالی سال 2020-21 سے ملک میں ماہی پروری اور آبی زراعت کے شعبے کی ہمہ جہت ترقی کے لیے پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران اس منصوبے نے ملک میں مچھلی کی پیداوار بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس عرصے میں مچھلی کی پیداوار 2019-20 کے 141.64 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 197.75 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔
(ب):پی ایم ایم ایس وائی کے تحت خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے مستفید ہونے والی خواتین کو مستفیدین پر مبنی سرگرمیوں میں منصوبے کی لاگت کا 60 فیصد مالی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ چھ مالی برسوں(2020-21 سے 2025-26) کے دوران مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 1 لاکھ 47 ہزار 654 خواتین مستفیدین کے لیے 4,178.30 کروڑ روپے مالیت کے ماہی پروری سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
(ج) اور (د):ماہی پروری اور آبی زراعت کے لیے کولڈ چین اور مارکیٹنگ سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی ترقی، محکمۂ ماہی پروری کی مرکزی اسکیموں کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اپریل 2026 تک حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے پردھان منتری متسیا سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور ماہی پروری و آبی زراعت بنیادی ڈھانچہ ترقیاتی فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت ملک میں کولڈ چین اور مارکیٹنگ کی سہولیات کی ترقی کے لیے 2,797 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔
منظور شدہ اہم سرگرمیوں میں شامل ہیں: 775 کولڈ اسٹوریج اور آئس پلانٹس ، مچھلی کی نقل و حمل کی سہولیات کے لیے 28,489 یونٹس، جن میں برف کے ڈبوں سے لیس 13,718 موٹر سائیکلیں، برف کے ڈبوں سے لیس 8,527 سائیکلیں، 4,257 آٹو رکشے، 1,577 انسولیٹڈ ٹرک اور 410 ریفریجریٹڈ ٹرک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 1,394 زندہ مچھلی فروخت کرنے والے یونٹس، 6,018 فش کیوسک، 117 خوردہ مچھلی بازار اور تمام ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 24 تھوک مچھلی بازار بھی شامل ہیں۔
یہ معلومات ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ (للن سنگھ) نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
***
(ش ح۔ش آ ۔م ذ)
U.No: 256
(रिलीज़ आईडी: 2287242)
आगंतुक पटल : 7