سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
تلنگانہ کی ترقی کا اگلا راہداری منصوبہ: این ایچ-63 اور این ایچ-563 کی توسیع نقل و حمل، تجارت اور سیاحت میں کیسے انقلاب لائے گی
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 4:02PM by PIB Delhi
ومولاواڑہ کے مشہور مذہبی شہر، دھرم پوری کے تاریخی علاقے، اور نظام آباد، جگتیال، کریم نگر اور منچیریال جیسے زرعی و صنعتی مراکز تک، شمالی تلنگانہ کی ترقی کی داستان اس کے مضبوط نقل و حمل کے نظام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور معاشی سرگرمیوں میں توسیع کے باعث قومی شاہراہ-63 (این ایچ-63) اور قومی شاہراہ-563 (این ایچ-563) کے اہم حصوں پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی چیلنج سے نمٹنے کے لیے گزشتہ ماہ مرکزی کابینہ نے این ایچ-63 کے آرمور–جگتیال–منچیریال حصے اور این ایچ-563 کے جگتیال–کریم نگر حصے کو چار رویہ (فور لین) بنانے کی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد ایک جدید شاہراہی نیٹ ورک قائم کرنا ہے، جو مذہبی زیارت گاہوں، صنعتی مراکز، لاجسٹکس مراکز اور زرعی منڈیوں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط اور مؤثر بنائے گا۔
یہ منصوبے مجموعی طور پر 190.76 کلومیٹر پر محیط ہیں اور تلنگانہ کے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ این ایچ-63 کے آرمور–جگتیال–منچیریال حصے کو چار رویہ بنانے کا کام ہائبرڈ اینویٹی ماڈل (ایچ اے ایم) کے تحت انجام دیا جائے گا، جبکہ این ایچ-563 کے جگتیال–کریم نگر حصے کو بلڈ-آپریٹ-ٹرانسفر (ٹول) ماڈل پر ترقی دی جائے گی۔ ان دونوں منصوبوں پر مجموعی طور پر 7,597.16 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی، جو علاقائی رابطے اور بنیادی ڈھانچے کی استعداد بڑھانے کے لیے حکومت کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ ان شاہراہی راہداریوں کی اپ گریڈیشن نہ صرف ٹریفک کی روانی کو بہتر بنائے گی بلکہ معاشی ترقی، سیاحت اور علاقائی خوشحالی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گی۔
مذہبی اور تاریخی سیاحتی راہداری کو مضبوطی
شاہراہیں سیاحتی تجربے کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، خصوصاً ان مقامات پر جہاں سال بھر لاکھوں زائرین اور سیاح آتے ہیں۔ این ایچ-63 اور این ایچ-563 کی توسیع سے تلنگانہ کے اہم مذہبی اور تاریخی مقامات، جیسے ومولاواڑہ مندر، کونڈاگٹو آنجنیہ سوامی مندر، دھرم پوری لکشمی نرسمہا سوامی مندر، کالیشورم مندر اور تاریخی ناگونور قلعہ تک رسائی نمایاں طور پر آسان ہو جائے گی۔
بہتر شاہراہی نیٹ ورک کے باعث زائرین اور سیاحوں کا سفر زیادہ تیز، محفوظ اور آرام دہ ہوگا۔ اس سے ایک ہی سفر کے دوران متعدد مذہبی مقامات کی زیارت کی حوصلہ افزائی ہوگی، جس سے مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد سے مقامی کاروبار، ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ خدمات اور دستکاروں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت مضبوط ہوگی۔
تلنگانہ کے معاشی ترقیاتی مراکز کو باہم جوڑنا
شمالی تلنگانہ حالیہ برسوں میں زراعت، غذائی اشیا کی پروسیسنگ، ماہی پروری اور مینوفیکچرنگ کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے، تاہم اس ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر نقل و حمل کا نظام ناگزیر ہے۔ اپ گریڈ شدہ شاہراہی راہداری سے ماہی پروری اور سمندری غذائی صنعت کے مراکز، سددی پیٹ اور وارنگل کے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs)، نیز نظام آباد اور سددی پیٹ کے میگا فوڈ پارکس تک بہتر رسائی ممکن ہوگی۔ کسانوں اور صنعتوں کے لیے بہتر سڑکوں کا مطلب خام مال اور تیار مصنوعات کی تیز تر ترسیل، لاجسٹکس اخراجات میں کمی اور منڈیوں تک بہتر رسائی ہے۔
یہ منصوبہ پی ایم گتی شکتی پروگرام کے مقاصد سے بھی ہم آہنگ ہے، کیونکہ یہ مختلف معاشی، سماجی اور لاجسٹکس مراکز کو ایک دوسرے سے جوڑ کر سپلائی چین کو زیادہ مربوط بنائے گا اور بنیادی ڈھانچے پر مبنی ترقی کے ذریعے علاقائی اقتصادی نمو کو مزید رفتار دے گا۔
کھیتوں سے مال برداری تک: خوشحالی کی راہداری
ان شاہراہوں سے منسلک اضلاع تلنگانہ کی زرعی معیشت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ زراعت یہاں کی مقامی معیشت کا بنیادی ستون ہے، اس لیے ان راہداریوں کے اطراف واقع اضلاع میں دھان، مکئی، کپاس، ہلدی اور باغبانی کی مختلف فصلیں بڑے پیمانے پر پیدا کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اس خطے کی خوشحالی کا انحصار ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد شاہراہی نظام پر ہے۔ این ایچ-63 کے آرمور–جگتیال–منچیریال حصے اور این ایچ-563 کے جگتیال–کریم نگر حصے کو چار رویہ بنانے کے بعد کسانوں کو صارفین کی منڈیوں، زرعی منڈیوں (منڈیوں)، گوداموں اور پروسیسنگ مراکز تک زیادہ تیز رسائی حاصل ہوگی، جبکہ غذائی اشیا کی پروسیسنگ اور سمندری غذائی مصنوعات کی برآمد سے وابستہ کاروباروں کو سامان کی بروقت اور قابلِ اعتماد ترسیل کا فائدہ ملے گا۔ اشیا کی تیز رفتار نقل و حمل سے ایندھن کی کھپت اور گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات میں بھی کمی آئے گی، جس سے مجموعی لاجسٹکس نظام زیادہ مؤثر بنے گا۔
یہ اپ گریڈ شدہ شاہراہی راہداری غذائی اشیا کی پروسیسنگ کی صنعتوں کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگی، کیونکہ خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کی بلا رکاوٹ نقل و حمل ممکن ہوگی۔ بہتر لاجسٹکس رابطے کے ذریعے کھیتوں، فوڈ پارکس، کولڈ اسٹوریج مراکز اور پروسیسنگ یونٹوں کے درمیان مضبوط ربط قائم ہوگا، جس سے زرعی پیداوار میں قدر افزائی (ویلیو ایڈیشن) کو فروغ ملے گا اور جلد خراب ہونے والی اجناس کے ضیاع میں کمی آئے گی۔
مزید مضبوط اسٹریٹجک شاہراہی نیٹ ورک کی تعمیر
اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت قومی شاہراہوں کے وسیع نیٹ ورک میں اس کا کلیدی کردار ہے۔ اپ گریڈ شدہ راہداری این ایچ-44، جو بھارت کی شمال سے جنوب تک سب سے طویل قومی شاہراہ ہے، سے بہتر رابطہ قائم کرے گی، جبکہ این ایچ-363 اور این ایچ-163 جی جیسی اہم شاہراہوں سے بھی منسلک ہوگی۔ یہ روابط بڑے شہری اور صنعتی مراکز کے درمیان نقل و حمل کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ راہداری ناگپور–حیدرآباد اور ناگپور–وجئے واڑہ جیسے اہم علاقائی سفری اور مال برداری راستوں کو بھی سہولت فراہم کرے گی۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد آرمور اور منچیریال کے درمیان سفر کا وقت تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ کم ہونے کی توقع ہے، جبکہ جگتیال اور کریم نگر کے درمیان سفر تقریباً 45 منٹ مختصر ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں شمالی تلنگانہ میں سفر زیادہ محفوظ، تیز رفتار اور قابلِ اعتماد ہوگا۔
فی الحال ان دونوں شاہراہی راہداریوں پر آمد و رفت کو گنجان آباد قصبوں اور تیزی سے پھیلتی شہری آبادیوں کی وجہ سے بار بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ٹریفک جام، رفتار میں کمی اور مسافروں کے ساتھ ساتھ مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت میں تاخیر ہوتی ہے۔ آرمور–جگتیال–منچیریال شاہراہ انکساپور، کورٹلا، جگتیال، دھرم پوری، لکشیٹی پیٹ اور منچیریال جیسے آباد علاقوں سے گزرتی ہے، جہاں بڑھتی ہوئی ٹریفک کے باعث اکثر رکاوٹیں اور سفر کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح جگتیال–کریم نگر شاہراہ جگتیال، پوتھارم، گنگادھارا اور کریم نگر جیسے بڑے آبادی مراکز سے گزرتی ہے، جہاں ٹریفک کا دباؤ ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں اور گاڑیوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر زیادہ گنجائش رکھنے والے، مؤثر اور جدید شاہراہی بنیادی ڈھانچے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
*****
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-193
(रिलीज़ आईडी: 2286731)
आगंतुक पटल : 13