بجلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پمپ کے ذریعے ذخیرہ یعنی پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹوں کی صورتحال

प्रविष्टि तिथि: 20 JUL 2026 3:45PM by PIB Delhi

اس وقت ملک میں 11 پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس (پی ایس پیز) زیر تعمیر ہیں، جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 15,870 میگا واٹ ہے۔ اس کے علاوہ 6 پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس، جن کی مجموعی صلاحیت 8,140 میگا واٹ ہے، کو مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) کی منظوری/تشخیص حاصل ہو چکی ہے اور ان پر جلد تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا۔

پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس کے لیے ماحولیاتی اور قانونی منظوریوں کے بروقت حصول کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے 18 مئی 2023 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے مخصوص شرائط کے تحت پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس کو بی-2 زمرے میں منظوری کے لیے شامل کیا ہے۔

اس کے بعد 14 اگست 2023 کو وزارت نے آف اسٹریم پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس کے لیے مخصوص ٹرمز آف ریفرنس (ٹی او آر) جاری کیے۔ ان کے مطابق آف اسٹریم کلوزڈ لوپ منصوبوں کے لیے ایک موسم (برسات کے علاوہ) کا بنیادی ڈیٹا جمع کرنا لازمی ہے، جبکہ آف اسٹریم اوپن لوپ منصوبوں کے لیے قبل از مانسون اور بعد از مانسون دو موسموں کا بنیادی ڈیٹا جمع کرنا ضروری ہوگا۔

وزارت نے 20 اگست 2024 کو جنگلاتی علاقوں میں سروے سے متعلق ضوابط، جو پہلے صرف کان کنی کے منصوبوں پر لاگو ہوتے تھے، انہیں آبی بجلی اور پمپڈ اسٹوریج منصوبوں سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں تک توسیع دے دی۔

اسی طرح 10 ستمبر 2025 کے ایک مکتوب کے ذریعے جنگلاتی علاقوں میں کان کنی، آبی بجلی اور پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کے سروے اور تحقیق کے لیے بورہولز (کھدائی کے مقامات) کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔

مرکزی بجلی اتھارٹی (سی ای اے) نے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹوں کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کی تیاری اور منظوری سے متعلق رہنما خطوط پر نظرثانی کی ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق ڈی پی آر کی منظوری کی مدت 90 دن سے کم کرکے 50 دن کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان منصوبوں کے لیے بین ریاستی معاملات سے متعلق منظوری کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔

حکومت ہند نے یکم اگست 2025 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے آبی بجلی گھروں کے قیام سے متعلق منصوبوں کے لیے 3,000 کروڑ روپے تک کے سرمایہ جاتی اخراجات کی حد مقرر کی ہے، جس پر سی ای اے کی منظوری درکار ہوگی۔ تاہم آف اسٹریم کلوزڈ لوپ پمپڈ اسٹوریج منصوبوں کو سرمایہ جاتی لاگت کی مقدار سے قطع نظر سی ای اے کی منظوری کی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، البتہ ایسے منصوبوں کے فروغ دہندگان تکنیکی رہنمائی کے لیے سی ای اے سے رجوع کر سکتے ہیں۔

پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس کم مانگ کے اوقات میں اضافی بجلی ذخیرہ کرتے ہیں اور زیادہ طلب کے وقت اسے بجلی کی شکل میں فراہم کرتے ہیں، جس سے قابل تجدید توانائی کو بجلی کے نظام میں مؤثر طریقے سے شامل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ منصوبے طویل مدت تک توانائی ذخیرہ کرنے، گرڈ میں توازن برقرار رکھنے، فریکوئنسی ریگولیشن، وولٹیج سپورٹ اور بلیک اسٹارٹ جیسی معاون خدمات فراہم کرتے ہیں، جس سے بجلی کے نظام کا استحکام، بھروسا مندی اور قابل تجدید توانائی کے استعمال میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔

حکومت نے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دینے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں۔

بجلی کی وزارت نے 10 اپریل 2023 کو ملک میں پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس کی ترقی کے لیے رہنما خطوط جاری کیے۔

حکومت سڑکوں، پلوں، ریلوے سائیڈنگ، روپ ویز، مواصلاتی ڈھانچے اور پاور ہاؤس سے قریبی پولنگ پوائنٹ تک ٹرانسمیشن لائن جیسی بنیادی سہولتوں کے اخراجات کے لیے بجٹ سے مالی معاونت بھی فراہم کر رہی ہے۔

مزید برآں، بجلی کی وزارت نے 6 فروری 2025 کے گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے پمپڈ اسٹوریج پلانٹس سے ذخیرہ شدہ توانائی یا ذخیرہ صلاحیت کی خریداری کے لیے ٹیرف پر مبنی مسابقتی بولی (ٹی بی سی بی) کے رہنما خطوط جاری کیے ہیں، تاکہ شفاف، منصفانہ اور معیاری خریداری کا نظام قائم کیا جا سکے اور مختلف فریقوں کے درمیان خطرات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسی طرح سنٹرل الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (سی ای آر سی) نے 26 جون 2025 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے ایسے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس، جن کی تعمیر کا ٹھیکہ 30 جون 2028 تک دیا جائے گا، انہیں تجارتی آپریشن کی تاریخ (سی او ڈی) سے 25 برس تک بین ریاستی ٹرانسمیشن نظام (آئی ایس ٹی ایس) کے چارجز میں 100 فیصد چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ 

جدول-I   زیرِ تعمیر پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹوں کی فہرست

 

نمبر شمار

پروجیکٹ کا نام

(ایگزیکیوٹنگ ایجنسی)

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ

صلاحیت

(میگاواٹ)

کمیشننگ کا ہدف

1

اپر سلیرو پی ایس پی (اے پی جی این سی او)

آندھرا پردیش

1350

Feb'29

2

شراوتی پی ایس پی (کے پی سی ایل)

کرناٹک

2000

May'32

3

کندہ پی ایس پی (فیز-I، II اور III) (ٹینگیڈکو)

تمل ناڈو

500

Feb’27

4

ایم پی 30 گاندھی ساگر پی ایس پی (گرینکو ایم پی01 آئی آر ای پی پرائیویٹ لمیٹڈ)

مدھیہ پردیش

1920

Dec'26

5

چتراوتی پی ایس پی (اڈانی قابل تجدید توانائی فورٹی ٹو لمیٹڈ)

آندھرا پردیش

500

Feb'27

6

بھیو پوری پی ایس پی (ٹاٹا پاور کمپنی لمیٹڈ)

مہاراشٹر

1000

Feb'29

7

سونادتی پی ایس پی (گرینکو کے اے 01 آئی آر ای پی پرائیویٹ لمیٹڈ)

کرناٹک

1600

Dec'27

8

بھوالی پی ایس پی (جے ایس ڈبلیو انرجی پی ایس پی ٹو لمیٹڈ)

مہاراشٹر

1500

Dec'28

9

گندی کوٹا پی ایس پی (اڈانی قابل تجدید توانائی ففٹی ون لمیٹڈ)

آندھرا پردیش

1000

Mar'29

10

ترالی پی ایس پی (اڈانی رینیوایبل انرجی ون لمیٹڈ)

مہاراشٹر

1500

Jun'29

11

سیدونگر-1 کرجٹ پی ایس پی

مہاراشٹر

3000

Dec'29

 

 

میزان

15,870

 

 

جدول--II

سی ای اے سے منظور شدہ یا جانچے گئے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹوں کی فہرست جن پر ابھی تعمیراتی کام شروع ہونا باقی ہے

نمبر شمار

پروجیکٹ کا نام

(ایگزیکیوٹنگ ایجنسی)

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ

صلاحیت

(میگاواٹ)

منظوری یا جانچ کی تاریخ

1

چیچلک پی ایس پی*

(آواڈا واٹر بیٹری

پرائیویٹ لمیٹڈ

اتر پردیش

1560

08.07.2026

2

پین پی ایس پی

مہاراشٹر

1500

09.10.2025

3

(جے ایس ڈبلیو نیو انرجی لمیٹڈ)

مہاراشٹر

1800

01.09.2025

4

شیراوتا پی ایس پی (ٹاٹا پاور کمپنی لمیٹڈ)

اتر پردیش

1680

13.06.2025

5

کندھورا پی ایس پی

اوڈیشہ

600

19.08.2024

6

(جے ایس ڈبلیو انرجی پی ایس پی سکس لمیٹڈ)

مغربی بنگال

1000

05.10.2016

 

 

کل

8,140

 

*جانچا گیا

یہ اطلاع بجلی کی وزارت میں وزیرمملکت جناب شری  پد نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :175  )


(रिलीज़ आईडी: 2286699) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Tamil